حج روح کی بیداری اور رب پاک کی بارگاہ میں حاضری
اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے مجھے اس سال حج کی سعادت نصیب ہوئی یہ محض ایک سفر نہیں تھا بلکہ روح کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ایک ایسا تجریہ تھا جس نے دل فکر اور زندگی کے تصور کو بدل کررکھ دیا الفاظ شاہد ان کیفیات کا پورا احاطہ نہ کرسکیں جوان مبارک دنوں میں محسوس ہوئیں لیکن پھر بھی ان لمحات کو قلمبند کرنا میرے لیے شکر گزاری کا ایک ذریعہ ہے۔
آٹھ ذوالحج کو جب ہم نے مکہ مکرمہ سے احرام باندھا اور لبیک کی صداؤں کے ساتھ منی کی طرف روانہ ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے دنیا کی تمام پہچانیں اور امتیازات پیچھے رہ گئے ہوں احرام کا سادہ لباس انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ایک دن اسی طرح کفن میں لپٹ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔
منی میں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع ان کے چہروں پر خشوع زبانوں پر ذکر الٰہی اور دلوں میں شوق عبادت ایک ایسا منظر تھا جو ایمان کو تازگی بخشتا تھا۔
منی میں ادا کی جانے والی نمازیں صرف نمازیں نہیں تھیں بلکہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو نئے سرے سے استوار کرنےکا ذریعہ تھیں ہر طرف تلبیہ کی صدائیں گونج رہی تھیں۔
لبیک اللہم لبیک لیبک لا شریک لک لبیک
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پوری انسانیت اپنے خالق کے دربار میں حاضر ہو کر اپنی بندگی کا اعلان کررہی ہو۔
پھر وہ عظیم دن آیا جس کے بارے میں نبی پاک صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الحج عرفہ میدان عرفات میں قدم رکھتے ہی دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی جہاں تک نگاہ جاتی تھی سفید احراموں میں ملبوس انسانوں کا سمندر نظر آتا تھا یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قیامت کا ایک منظر آنکھوں کے سامنے ہو جہاں ہر شخص اپنی فکر میں۔ اپنے رب سے لو لگائے کھڑا ہے۔
عرفات میں میں نے ایسے مناظر دیکھے جنہیں شاید کبھی فراموش نہ کر سکوں بوڑھے جوان۔ مرد۔ عورتیں علماء عام لوگ امیر اور غریب سب ایک ہی در پر سوالی بنے کھڑے تھے کوئی آنسوؤں میں ڈوبا ہواتھا کوئی سجدے میں گرا ہوا تھا بہت سے لوگوں کی آہوں اور سسکیوں نے دل ہلا کر رکھ دیا اس لمحے انسان کو اپنے گناہ یاد آتے ہیں اپنی کوتاہیاں یاد آتی ہیں اور یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر اللہ پاک کی رحمت نہ ہو تو ہمارا کوئی سہارا نہیں عرفات میں کھڑے ہوکر مجھے دنیا کی حقیقت اور آخرت کی عظمت کا شدید احساس ہوا۔
دل بار بار یہی کہتا تھاکہ اصل کامیابی مال منصب اور شہرت میں نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا میں ہے۔
وہاں انسان اپنے رب کے اتنا قریب محسوس کرتا ہے کہ گویا دنیا اور اس کی تمام مصروفیات بہت پیچے رہ گئی ہوں۔
غروب آفتاب کے بعد جب ہم مزدلفہ پہنچے تو ایک اور سبق ہمارے سامنے تھا کھلے آسمان کے نیچے رات گزارنا زمین پر آرام کرنا اور لاکھوں انسانوں کو ایک ہی حال میں دیکھنا اس حقیقت کو واضع کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسانوں کی اصل قدر ان کے تقویٰ سے ہے نہ کہ دنیا وی مرتبے سے وہاں نہ امیر تھا نہ غریب نہ کوئی حاکم تھا نہ محکوم سب اللہ کے بندے تھے اور سب اس کے محتاج تھے مزدلفہ کی خاموش رات میں جب آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے تو دل باربار اللہ پاک کی عظمت کا اقرار کر رہاتھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تسبیح کا ایک مصروف ہے اور انسان بھی اسی تسبیح کا ایک حصہ بن گیا ہے۔
فجر کے بعد جمرات کی طرف روانگی ہوئی جمرات میں کنکریاں مارتے ہوئے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ دراصل انسان اپنے نفس اپنی خواہشات اور شیطان کے ہر وسوسے کو ردکرنے کا عہد کررہاہے یہ صرف چند کنکریاں پھینکنے کا عمل نہیں بلکہ اپنی زندگی سے گناہوں تکبر حسد نفرت اور نافرمانی کو نکالنے کا اعلان ہے قربانی کے موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم اطاعت یاد آتی ہے یہ سبق ملتاہے کہ اللہ پاک کی محبت ہر محبت سے برھ کر ہونی چاہیے اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ہی بندگی کی معراج ہے۔
اس کے بعد سر منڑ وانے مرحلہ آیا۔ جب سرکے بال اتارے گئے تو دل میں یہ احساس جاگا کہ گویا گناہوں اور غفلتوں کی ایک پرانی زندگی بھی پیچے رہ گئی ہے انسان اپنے آپکو پہلے سے زیادہ ہلکا پاکیزہ اور اپنے رب کے قریب محسوس کرتا ہے۔
حج نے مجھے یہ سکھایا کہ انسان کتنا ہی طاقتور مالدار یا مشہور کیوں نہ ہو حقیقت میں وہ اپنے رب کا محتاج بندہ ہے حج میں عاجزی صبر اخوت قربانی اور اللہ پاک پر کامل بھروسے کا سبق دیا۔
اس سفر نے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ زندگی کا ہر دن اسی۔ اخلاص اسی عاجزی اور اسی اللہ پاک کی یاد کے ساتھ گزارا جائے جو عرفات مزدلفہ اور منی میں محسوس ہوئی میری دعا ہے اللہ پاک اس حج کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ہمارے دلوں کو ہدایت تقویٰ اور اخلاص سے بھر دے اور ہمیں زندگی بھر حج کے پیغام پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین!
0 تبصرے