Ticker

6/recent/ticker-posts

سفرنامہ نگاری اپنے اندر جس گہرائی، مشاہدے، منظر نگاری، فکری ربط اور ادبی چاشنی کا تقاضا کرتی ہے

سفرنامہ نگاری اپنے اندر جس گہرائی، مشاہدے، منظر نگاری، فکری ربط اور ادبی چاشنی کا تقاضا کرتی ہے


یہ کوئی باقاعدہ سفرنامہ نہیں، کیوں کہ سفرنامہ نگاری اپنے اندر جس گہرائی، مشاہدے، منظر نگاری، فکری ربط اور ادبی چاشنی کا تقاضا کرتی ہے، یہ مختصر تاثرات اس معیار کو مکمل طور پر پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ تو بس دل پر گزرنے والے چند احساسات، روح میں اتر جانے والے چند لمحے، اور وہ کیفیات ہیں جنہوں نےدل میں جگہ بنائی اور پھر لفظوں کی صورت رقم ہوئے منیٰ روانگی سے قبل منتظمین کی جانب سے کیمپوں کی جو تفصیلات اور تصاویر بھیجی گئی تھیں، انہیں دیکھ کر ایک منظم اور قدرے کشادہ انتظام کا تصور ذہن میں ابھرا تھا۔ مگر جب ہم اپنے خیموں میں پہنچے تو حقیقت اس سے خاصی مختلف محسوس ہوئی۔ خیمے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ لوگوں کے لیے بہ مشکل جگہ نکل رہی تھی۔ بستر اس انداز سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے کہ ایک طرف کروٹ لینے سے دوسری طرف موجود شخص بھی متاثر ہوتا۔ نقل و حرکت دشوار تھی، ہر چہرہ بہ ظاہرصبر، شکر اور عبادت کے جذبے سے روشن تودکھائی دیے رہا تھا مگر ساتھ ہی انسانی فطرت سے بھی مجبور تھا۔اس لیے قدرے چڑچڑاپنن,الجھاؤ اور لڑنے مرنے کی کیفیت بھی طاری تھی۔

ہماری کیفیت یہ تھی کہ گزشتہ دو تین دنوں سے مسلسل نیند پوری نہیں ہو پا رہی تھی۔ اس پر مزید یہ کہ پوری رات سفر میں گزری اور ہم فجر کی اذان کے بعد منیٰ پہنچے۔ دل میں یہی خیال تھا کہ کچھ دیر آرام کریں گے اور تھکن اتار لیں گے، پھر ہم ہوں گے اور بس عبادت مگر وہاں پہنچ کر آرام جیسے ایک تصور بن کر رہ گیا۔

خیموں میں حد درجہ حبس اور گرمی تھی، سکون اور خاموشی کا نام و نشان نہ تھا،جس کے جس قدر بس میں تھا زور زور سے بول کر اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔ بستر اس قدر تنگ اور سخت تھے کہ ان پر سیدھا لیٹنا بھی دشوار محسوس ہوتا تھا۔ ہر بستر دوسرے سے اس طرح جڑا ہوا تھا کہ ذرا سی حرکت بھی نہ صرف اپنے لیے بل کہ ساتھ والے کے لیے بھی باعثِ زحمت بن جاتی۔ اسی دوران کسی نے بے اختیار شکوہ کر ڈالا:

“ کچھ تو کشادہ ہوتے یہ بستر تو گویا قبر کی مانند ہیں۔”
جواب آیا:

“یہی تو مقصد ہے تاکہ تمہیں اپنی قبر یاد رہے۔ یہ دو چادریں گویا کفن کی علامت ہیں، تاکہ ان چند دنوں میں انسان اپنی آخرت کو یاد کرے، دنیا کی آسائشوں کو بھولے اور اس حقیقت کو محسوس کرے کہ ایک دن اسے بھی اسی طرح چند گز جگہ میں اتر جانا ہے۔
ہوٹل سے روانگی سے قبل ہم نے منیٰ کے لیے اپنے مخصوص بیگ بڑی احتیاط سے تیار کیے۔ سن رکھا تھا کہ مزدلفہ میں کھانے پینے اور ضروریاتِ زندگی کی سہولیات نہیں ہوتیں، اس لیے ہم نے ضرورت سے کہیں زیادہ سامان ساتھ رکھ لیا۔ پانی کی بوتلیں، بسکٹ، خشک میوہ جات, چٹائیاں چادریں، تکیے، چھتریاں اور نہ جانے کیا کیا چیزیں اس خیال سے سمیٹ لیں کہ کہیں دورانِ حج کسی قسم کی تکلیف یا کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پھر جب عرفات پہنچے تو وہاں مسلسل حاجیوں میں چھتریاں,کھانے پینے کیشاشیا اور ۭٹھنڈے شروبات تقسیم کیے جا رہے تھے۔ لوگ مزید چیزیں لیتے رہے اور اپنے ساتھ جمع کرتے جاتے، گویا ہر شخص اپنے آپ کو ہر ممکن مشقت سے بچانے اور آسائش و آرام کی کوشش میں لگا تھا۔ لیکن جب مزدلفہ کی رات آئی تو ان میں سے اکثر چیزوں کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

تین چار دن کی مسلسل شب گزاری، تھکن، عبادت، دعا، گریہ و زاری کی بہ دولت عجیب سی کیفیت طاری تھی ۔

مزدلفہ کی اس رات ہر انسانی آنکھ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ نگاہ جہاں تک جاتی، انسان ہی انسان دکھائی دیتے۔ کوئی امیر تھا، کوئی غریب، کوئی قدرے نرم بستر پر تھا تو کوئی سخت پتھریلی زمین پر لیٹا ہوا۔گورے, کالے ,عربی ,عجمی, غریب, امیر بوڑھے جوان کسی کے پاس سہولیات زیادہ تھیں اور کوئی محض ایک چادر اوڑھے کھلے آسمان تلے پڑا تھا، مگر اس لمحے سب ایک جیسے محسوس ہو رہے تھے۔یہ سب منظر دیکھ کر دل میں یہ خیال ابھرا کہ شاید میدانِ حشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ وہاں بھی انسان اپنی ظاہری شان و شوکت، عہدوں، دولت اور پہچان سے آزاد ہو کر صرف ایک انسان کی حیثیت سے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ نہ کسی بادشاہ کی بادشاہی باقی رہے گی اور نہ کسی غریب کی محرومی ,وہاں اصل پہچان صرف اعمال کی ہوگی۔

پھر اگلی صبح کا منظر عقل و خرد کے کئی دروازے وا کر گیا۔ وہ لوگ جو اپنے سامان، کپڑوں، چھتریوں، جوتوں اور کھانے کی چیزوں کو نہایت احتیاط سے سنبھال سنبھال کر لائے تھے، اب وہی سامان ان کے لیے سوہان روح اور بوجھ بن چکا تھا۔ مزدلفہ کا وسیع میدان جگہ جگہ چھوڑے ہوئے نت نئے بیگوں، چھتریوں،اور کھانے پینے کی بے شمار اشیاء سے بھر چکا تھا۔ہر شخص کو بغیر سازو سامان ,خالی ہاتھ اگے جانے کی فکر درپیش تھی۔

تب محسوس ہوا کہ انسان دنیا میں جن چیزوں کو اپنی ضرورت سمجھ کر سینے سے لگائے رکھتا ہے، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہی چیزیں بے معنی اور بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔

مزدلفہ کی پتھریلی زمین پر گزاری ہوئی رات، منیٰ کے گرم حبس ذدہ خیمے, تنگ بستر، عرفات کی دعائیں اور حرم کی روح پرور ساعتیں سب دل کے کسی گوشے میں محفوظ تو رہتی ہیں، مگر دنیا کی مصروفیات انسان کو پھر اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔جن کی بہ دولت انسان اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتا ہے۔

شاید اسی لیے اللہ بار بار انسان کو یاد دہانی کراتا ہے، کیوں کہ انسان بھول جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جس دنیا کے لیے وہ بے چین رہتا ہے، وہ عارضی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے