یہ زندگی ہے اور زندگی بڑی ظالم ہے
یہ زندگی ہے اور زندگی بڑی ظالم ہے پہلے منزل کا خواب دکھاتی ہے پھر اسی خواب کے پیچھے ساری عمر دوڑاتی رہتی ہے قدم تھک جاتے ہیں دل ٹوٹ جاتا ہے، مگر وہ جھوٹی تسلی کبھی نہیں مرنے دیتی کہ شاید اگلا موڑ سکون لے آئے انسان اپنی جوانی اپنے خواب اپنے رشتے سب راستوں پر قربان کر دیتا ہے مگر انجام میں ہاتھ بس خالی پن اور حسرت آتی ہے زندگی ہمیشہ یہی کھیل کھیلتی ہے منزل کا لالچ دے کر ہمیں سفر کی زنجیروں میں قید رکھتی ہے اور آخر میں کچھ بھی نہیں دیتی سوائے تنہائی اور شکایت کے...
ہر چیز لمحاتی اور بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے
ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر طرف بے شمار راستے موجود ہیں جہاں ہر چیز لمحاتی اور بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے وہاں انسان اکثر اس فرق کو بھول جاتا ہے کہ کسی کی نظر میں اہم ہونا اور صرف موجود ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان کو سوچ سمجھ کر انتخاب کرنا پڑتا ہے کیونکہ کسی کی اصل ترجیح بن جانا ایک ایسا احساس ہے جو دل کو سکون دیتا ہے اور رشتے کو مضبوطی بخشتا ہے جبکہ صرف ایک متبادل کے طور پر رہ جانا اندر ہی اندر بے یقینی پیدا کرتا ہے اور وقت کے ساتھ اپنی قدر کم کرتا محسوس ہوتا ہے اس لیے ہمیشہ وہ راستہ اور وہ تعلق چننا چاہیے جو سچا محسوس ہو جو دل کو یقین دے اور جو وقت کے ساتھ کمزور نہ پڑے اور کبھی بھی ایسی جگہ نہیں رکنا چاہیے جہاں اپنا ہونا بھی شک کے دائرے میں آ جائے۔
خاموشی کو لوگ سکون سمجھ لیتے ہیں
ہم وہ لوگ ہیں جو مسکرا کر سب کچھ چھپا لیتے ہیں...جن کی خاموشی کو لوگ سکون سمجھ لیتے ہیں... مگر حقیقت میں وہی خاموشی اندر ایک شور برپا کیے رکھتی ہے...انسان کا آدھا حسن شاید واقعی ان ان کہی باتوں میں کھو جاتا ہے...جو وہ کبھی کسی سے کہہ نہیں پاتا...کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف دل کے اندر لڑی جاتی ہیں بغیر کسی آواز کے...اور پھر انسان جیت بھی جائے تو بھی تھکا ہوا رہتا ہے...کیونکہ کوئی یہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی بار خود کو سنبھالا...کتنی بارٹوٹ کر پھر سے جینا سیکھا...!!!
سیال
0 تبصرے