تذکیر بایام اللہ کیا صرف بنی اسرائیل کے لئے تھا یا ہمارے لئے بھی ہے
احمد نادر القاسمی
یہ جو عنوان ہے اس مقالے کا یہ دراصل سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 5 سے ماخوذ ہے۔ ارشاد باری ہے۔ ”ولقد ارسلنا موسی بآیاتنا ان اخرج قومک من الظلمات الی النور ۔وذکرھم بایام اللہ۔ ان فی ذلک لآیات لکل صبار شکور“(یقینا ہم موسی اپنی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ اوران کو بنی اسرائیل پر کئے گئے اللہ کے احسانات ۔یا اس کی نافرماین کی پاداش میں ماضی کی اقوام پر آنے والے عبرت ناک عذاب اور انجام کے دن یاد دلائیں۔ یقینا ان میں ہر صابر شاکر بندوں کے لئے سامان نصیحت ہے۔ اس آیت کے پس منظر میں ”ایام اللہ“کو سمجھنے کی کوشش کریں۔۔سورہ ابراہیم کی اس آیت کے بعد والی آیت میں بنی اسرائیل کے فرعون اوراسکے لشکر سے نجات کاتذکرہ ہے۔اللہ تعالی نے حضرت موسی کو ایک اژدہا کا معجزہ جیسی عظیم نشانی دی۔اس کے بعد اللہ نے فرعون جیسے ظالم وجابر شخص سے بنی اسرائیل کو حضرت موسی کے ذریعہ آزاد ی دلائی ۔ جواپنے آپ میں بہت بڑی نعمت تھی ۔اس عظیم نعمت کے احسان کا تقاضہ ہے کہ بنی اسرائیل اللہ پر ایمان لائیں۔ مگربنی اسرائیل نے جس طرح اللہ کی نافرمانی کی ۔انبیاء کو ناحق قتل کیا۔ زمین میں فساد برپا کیا۔ قران نے خود اس کی گواہی دی ہے۔اسے دنیا جھٹلانے سکتی۔ اوراس کی پاداش میں اللہ نے جس طرح ذلیل و رسوا کیاہے۔ اور قیامت تک کے لئے جو ذلت و نکبت اس کے مقدر کردی ہے۔ وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔آج تک دنیامیں کہیں سکون میسر نہیں ہوا۔اورنہ آخرت میں ہوگا۔اس وقت جو بظاہر مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔اس کو مضبوطی نہیں۔ خوف وحشت کہئیے جس میں وہ جکڑے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ماضی کی بڑی بڑی سلطنتیں۔ اور حکمراں اللہ کی نافرمانی اور خلق خدا پر جبر و ظلم کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا اور نشان عبرت بن ادئیے گئے۔۔موجودہ اور آنے والے انسانوں کو اس سے عبرت حاصل کرتے رہنا چاہئیے۔ یہی تذکیر بایام اللہ ہے۔ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ ”تذکیربایام اللہ“ صرف بنی اسرائیل کے لئے تھا یا ہمارے لئے بھی ہے؟۔۔ ہمارے لئیے اسلام کے ابتدائی ادوار نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھ جو سلوک مشرکین مکہ نے روا رکھا۔ اور صحابہ کرام کو جن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اور پھر اللہ کی مدد نصرت سے اللہ نے اپنے نبی اور جاں نثاران کو جو عزت عطا فرمائیں اوردین اسلام غلبہ عطا فرمایا۔حضور کی تئیس سالہ مکی اور مدنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے ایام اللہ ہیں اور ہمیں یاد رکھنا چاہئیے۔ آج امت اپنے ماضی اور ایام گذشتہ کو دولت وشوکت کے نشے میں بھول گئی ہے۔ اگر ہماری غفلت اوراپنے نبی کے طریقے۔ہدایات۔ اور کتاب وسنت کے احکام کو نظرانداز کر کے من مانی کا یہی حال رہا تو پھر اللہ کی پکڑ بہت مضبوط ہے اسے بھی بھولنا نہیں چاہئیے۔”وکم اھلکنامن قریۃ بطرت معیشتھا فتلک مساکنھم لم تسکن من بعدھم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وماکنامھلکی القری الا واھلھاظالمون“(سورہ قصص 58۔59)۔۔ہمیں سوچنا چاہئیے ۔کہ آج کےموجودہ تناظرمیں۔ ہماری۔سیاسی۔ملکی۔ معاشی اورملی تباہی اسی ماضی کی فراموشی کانتیجہ تونہیں؟۔
0 تبصرے