دل میں اک شمعِ تمنّا بھی جلا رکھی ہے : غزل
غزل
دل میں اک شمعِ تمنّا بھی جلا رکھی ہے
اور اس آگ میں ہستی بھی بھُلا رکھی ہے
تیری ہر یاد کو سجدوں میں پرویا میں نے
اس سے محرابِ محبّت بھی سجا رکھی ہے
تو جو پردے میں ہے، پردے کا بھرم ہے قائم
ورنہ ہر ذرّے نے صورت تری پا رکھی ہے
عشق کی راہ میں کچھ ہم نے گنوایا بھی بہت
پھر بھی اک لذّتِ عرفان بچا رکھی ہے
وہ جو اک نام نہیں آتا لبوں پر میرے
اک اسی نام نے دنیا یہ بسا رکھی ہے
میں بھٹکتا ہوں بیابانِ انا میں لیکن
تیری رحمت نے بھی اک راہ بنا رکھی ہے
عشق جب عرش سے اُترا تو خبر یہ آئی
ہر دلِ خاک میں اک بزم سجا رکھی ہے
وہ تو سمجھائے کہ توحید کا محور ہے یہی
ایک نقطے میں سبھی دنیا سما رکھی ہے
طارقؔ اُس یار کی پہچان یہی ہے شاید
وصل کی شرط ہی اس نے جو وفا رکھی ہے
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ-لندن
0 تبصرے