Ticker

6/recent/ticker-posts

عنوان: گگی، صنف: افسانچہ

عنوان: گگی، صنف: افسانچہ


از شیباحنیف گوجرانوالہ

گگی! میری گگی اٹھ جاؤ ناں۔ سکول نہیں جانا ہے کیا؟ بہت دیر ہو رہی ہے میری بیٹی کو، روز لیٹ ہو جاتی ہے۔ ٹیچر فاطمہ بہت غصے والی ہے۔ بہت غصہ کرتی ہے۔ چلو، چلو جلدی کرو میری جان اٹھو!ترنم نے اپنی بیٹی کے اوپر سے چادر ہٹائی، اسے گود میں لیا، اس کے بال سہلائے، منہ چوما، چلو واش روم جاؤ، منہ ہاتھ دھو، وہ دیکھو ماما نے تمہارا یونیفارم استری کر کے رکھا ہے، اچھا میری پری یہ تو بتاؤ، آج لنچ میں کیا لے کر جانا ہے، میرے بیٹے نے کیا کھانا ہے، ماما کیا بنا کے دے اپنے بیٹے کو؟ترنم نے پیار سے پچکارا۔ انڈا پراٹھا بنا دوں کیا۔ ۔ یا سینڈوچ؟میرے بچے نے کیا کھانا ہے؟چائے بسکٹ فیورٹ ناشتہ بیٹی کے سامنے رکھا مگر گگی منہ بسورے بیٹھی تھی جسے ماں دیکھ کر مسکرانے لگی۔ سبھی بچے سکول جانے کے نام سے ایسے ہی چڑ جاتے ہیں۔ اس نے گگی کو شوز پہنائے۔ اچھا گگی! آج ماما آپ کو بیس روپے دے گی۔ اس نے سر ہلا کر گگی کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ نان ٹکی لے لینا! گگی کے بیگ میں لنچ ڈالا اور بیس روپے ہاتھ میں تھمائے کہ کسی طرح بچی خوش ہو جائے۔ اس نے گگی کا ہاتھ پکڑا اور سکول کی طرف روانہ ہوئی۔ وہ دونوں ماں، بیٹی پیدل ہی سکول جا رہی تھیں جب کہ دوسرے بچوں کے باپ اپنے بچوں کو موٹر سائیکلوں، سائیکلوں، گاڑیوں پہ لیے جا رہے تھے اس نے ایک نظر بچوں کے باپ پہ ڈالی۔ دوسری نظر ہنستے مسکراتے لاڈ اٹھواتے بچوں پہ اور ایک ڈری سہمی نظر اپنی گگی پر۔ ۔ اس کے چہرے پہ چھائی گہری اداسی اس کے افسردہ دل کی ترجمانی کرنے لگی :ارے میری پیاری گگی!تم رونے لگی۔ رو نہیں، تم رو نہیں، تمہارے پاپا بھی آئیں گے تمہیں بھی موٹر سائیکل پہ سکول چھوڑا کریں گے، تم رو مت گگی!پاپا آئیں گے۔ ضرور آئیں گے۔ وہ بیچ راہ ہی بیٹی کو سینے سے لگائے تسلی دیے جا رہی تھی اور زاروقطار رو رہی تھی۔

”مت رو ترنم!صبر کرتے ہیں۔ روتے نہیں ہیں۔ “ پڑوسن رشیدہ باجی بھی اپنے بچے سکول چھوڑنے آئی تھی۔ اب رستے پہ روتی ترنم کو تسلی دینے لگی۔

”میں کب رو رہی ہوں؟یہ بچی رو رہی ہے۔ کہتی ہے:پاپا کے پاس جانا ہے۔ موٹر سائیکل پہ پاپا کے ساتھ بیٹھ کے سکول جاؤں گی۔ میں کب رو رہی ہوں ؟میں تو اس سے کہہ رہی ہوں آج ماما کے ساتھ چلی جائے۔ کل پاپا چھوڑ آئیں گے مگر سنتی ہی نہیں ہے میری۔ بہت ضدی ہوگئی ہے“۔ ترنم نے منہ بنا کے گگی کی شکایت کی تو آپا رشیدہ گگی کے بالوں پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی:”گگی تو بہت پیاری ہے۔ بہت اچھی ہے۔ سب کی بات سنتی ہے۔ آج گگی خالہ کے ساتھ خالہ کے گھر جائے گی اور مزے مزے کے کھانے کھائے گی۔ بولو منظور ! خالہ نے گگی کے سامنے شرط رکھی تو گگی خوش ہو گئی اور سکول جانے کی بجائے خالہ رشیدہ کے گھر جانے لگی۔ اس نے ترنم کو ساتھ میں لیا۔ گگی کو گود میں اٹھایا اور رشیدہ کی گھر کی راہ لی۔ جب کہ رشیدہ کے کانوں میں سبزی فروش ماجد کے الفاظ گونجے :”ہاحق!بھائی بشیرے کی گھر والی ہے وہی جو بیٹی کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ بچاری بشیرے کی گھر والی ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ ۔ ۔ گڑیا لیے پھرتی ہے“۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے