Ticker

6/recent/ticker-posts

امام حسینؓ! ہم شرمندہ ہیں

امام حسینؓ! ہم شرمندہ ہیں


مجیب الرحمٰن ہنر ۔ جھارکھنڈ

ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی پاکیزہ قربانی کو ناپاک کر دیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی شہادت کا مذاق بنا دیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی آل و اولاد کی عظیم قربانیوں کو ڈرامہ بنا کر اسٹیجوں کی زینت بنا دیا اور لوگوں کی آنکھوں اور کانوں کی تفریح کا سامان مہیا کیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی مصیبت کو ایک تہوار اور پارٹی کا رنگ دے کر دیگیں چڑھانی شروع کر دیں۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے باطل کے سامنے آپ کے ڈٹ جانے اور جم جانے کے عظیم کردار کو سمجھنے کے بجائے محض نمائش بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔

Imam Hussain Ham sharminda hain


اے نواسۂ رسولؐ! شرمندگی کے سمندر میں ہم غوطہ زن ہیں۔ آپ کے نام پر ہم طرح طرح کی خرافات کر رہے ہیں، رسومات و بدعات کو دھڑلے سے انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے نام کا مصنوعی تعزیہ بنا کر اس پر فخر کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مصنوعی کربلا بھی بنا لی گئی ہیں، جہاں جا کر لوگ تعزیوں کو مورتیوں کی طرح اٹھاتے، گھماتے اور پھر ختم کر دیتے ہیں۔

اے فاطمہؓ کے جگر پارے! آپ کی شہادت کے بعد ہم نے من گھڑت قصے اور کہانیاں تراش کر آپ کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ اے علیؓ کے کلیجے کے ٹکڑے! آپ نے تو اپنے نانا کے دین کی سربلندی کے لیے گھر بار لٹا دیا، معصوم بچوں کی پروا کیے بغیر باطل کے مقابلے میں ڈٹ گئے، لیکن ہم نے آپ کے واقعے کو غلط رخ دے کر اسلام ہی کو نقصان پہنچایا۔ آپ کے واقعے کے نام پر اسلام کو بدنام کیا، ڈھول تاشوں کو فروغ دیا، گانے بجانے کو عام کیا، رقص و سرود کی محفلیں سجائیں، انواع و اقسام کے کھانے تیار کیے، اور نہ جانے کتنی رسومات ایجاد کر لیں۔

ہم نے آپ سے عشق کے دعوے کرکے پاکیزہ محبت کو رسوا کیا۔ آپ کے فرامین اور پیغامات کو پسِ پشت ڈال دیا، انہیں پامال کر دیا، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم آپ کی قربانیوں سے سبق لیتے، آپ کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے عبرت حاصل کرتے، آپ کے کارناموں کو دیکھ کر اسلام کی نشر و اشاعت میں دلچسپی لیتے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا کرتے۔

لیکن ہماری عقلیں ماری گئیں، ہمارا شعور مفلوج ہو گیا۔ ہم نے اپنے والدین، اپنے خاندان اور اپنے عزیزوں کی وفات پر کبھی ڈھول تاشوں کا اہتمام نہیں کیا۔ ہم غم سے نڈھال رہے، گھروں میں ماتم پسر گیا، آنکھیں اشک بار ہوئیں، دل غمگین رہے، لیکن آپ کی شہادت کے نام پر ہم وہ سب کچھ کرتے رہے اور کر رہے ہیں جو کسی طرح بھی ہمیں زیب نہیں دیتا۔

اے امامِ مظلوم! ہم نے آپ کے پیغام کو چھوڑ کر آپ کے نام کو پکڑ لیا۔ ہم نے آپ کے مقصد کو فراموش کر دیا اور صرف تذکروں میں الجھ گئے۔ ہم نے آپ کی سیرت کے بجائے رسموں کو اپنایا، آپ کے کردار کے بجائے نعروں کو اختیار کیا، آپ کی تعلیمات کے بجائے جذباتی داستانوں کو سینے سے لگا لیا۔ ہم نے یہ نہ سوچا کہ اگر حسینؓ آج ہمارے درمیان ہوتے تو ہمیں کیا حکم دیتے؟ وہ ہمیں ماتم کی مجلسوں کی طرف بلاتے یا نمازوں کی صفوں کی طرف؟ وہ ہمیں تعزیوں کے گرد جمع کرتے یا قرآن و سنت کے گرد؟ وہ ہمیں خرافات کی تعلیم دیتے یا توحید و سنت کی دعوت؟

اے فرزندِ رسولؐ! آپ نے تو یزیدیت کے خلاف علم بلند کیا تھا، لیکن ہم نے اپنے نفس کی غلامی کو ہی اپنا شعار بنا لیا۔ آپ نے حق کے لیے جان دی، مگر ہم حق کے لیے زبان تک کھولنے کو تیار نہیں۔ آپ نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا، مگر ہم معمولی مفاد کے لیے اپنے اصول بیچ دیتے ہیں۔ آپ نے بھوک، پیاس، تنہائی اور مصیبت برداشت کی، مگر ہم دین کے لیے معمولی سی تکلیف بھی گوارا نہیں کرتے۔

ہم آپ کو محبت کا یقین دلاتے ہیں، لیکن آپ کی سنتِ استقامت کو اختیار نہیں کرتے۔ ہم آپ کے نام پر آنسو بہاتے ہیں، مگر آپ کے مقصد کے لیے پسینہ بہانے کو تیار نہیں۔ ہم آپ کے مصائب بیان کرتے ہیں، مگر ان اسباب کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے جو امت کو کمزور اور منتشر کر رہے ہیں۔

آج اگر کربلا کا کوئی سبق باقی ہے تو وہ یہی ہے کہ حق کو پہچانا جائے، باطل کو باطل سمجھا جائے، دین کو دنیا پر مقدم رکھا جائے، اور اللہ کے حکم کے سامنے ہر تعلق، ہر مفاد اور ہر خواہش کو قربان کر دیا جائے۔ کربلا کا پیغام تلواروں کی جھنکار سے زیادہ کردار کی پکار ہے، آنسوؤں سے زیادہ عمل کا تقاضا ہے، اور نعروں سے زیادہ اتباع کا درس دیتا ہے۔
بس ہم شرمندہ ہیں، شرمندہ ہیں، شرمندہ ہیں۔

حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امت خرافات میں کھو گئی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے