تذکیر اور اصلاح و تزکیہ اسلام کا حسن
تذکیر اور اصلاح و تزکیہ اسلام کا حسن یہ ہے کہ انسان کا قلب ۔ یعنی باطن نور ایمان سے منور اور جسم۔ یعنی ظاہر اعمال سے آراستہ ہو۔ ۔ آدمی ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ جب فراوانی آئےگی۔ اورمال آئیں گے تو نیکی کے یہ کام کرلوں گا۔ وہ کام کرلوں گا۔ اسی طرح ابھی تو جوانی ہے بوڑھاپا آئےگا تو مسجد پکڑ لوں گا۔ حج کرلوں گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ حدیث میں آتا ہے کہ نیکی کے کام کرنے کے لئیے جلدی کرو ۔ ایسی مالداری کا انتظار مت کرو جو سرکش بنادے۔ اور ایسے بوڑھاپے کا انتظار مت کرو جو یادداشت بھلا دے اور دماغ مختلف ہوجائے۔ ایک مسلمان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ انسان جب مرتا ہے تو قبرستان تک تین چیزیں جاتی ہیں۔ اعمال۔ عزیزواقارب۔ اورمال۔ انسان جب قبرمیں اتار دیا جاتا ہے۔ تو عزیزواقارب اور دفن مین شریک لوگ۔ اور اس کا مال سب واپس ہو جاتا ہے۔ بس اس کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ (مروی عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ حدیث)۔ یہ دنیاایک عارضی چیزہے۔ اس سے سرکش بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور نیکوکار بھی ۔ انسان میں یہ خوبی ہونی چاہئیے کہ مل جائے تو شکر کرے۔ اور خاطر خواہ نہ ملے تو مایوس نہ ہو۔ زندگی میں جتنا زیادہ موقع مل جائے نیک کام کرلے۔ انسان اکثر منہ اٹھاکر دوسرے کو برا کہہ دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ اس نے اپنے آپ کو اچھا سمجھا ۔ اسی لئیے دوسرے پر فورا انگلی اٹھادی۔ یہ تکبر۔ رعونت۔ اورحسد یہ جوبری خصلت۔ اوربہت بڑی برائی ہے انسان میں۔ اس کی فورا اصلاح کرنی چاہئیے۔ اور دوسرے کے بارے میں برے تبصرے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ اگر خود کو بڑا اور پاکباز نہ سمجھتا تو کسی قیمت پر ایسے نازیبا تبصرے نہ کرتا یہ بیماری اکثر اہل علم کی مجلس میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ دوسروں پر تبصرے اورپھراس پر قہقہے۔ اللہ حفاظت فرمائے۔ اورہماری اصلاح فرمائے۔ طالب دعا احمد نادر القاسمی۔ 15 ذی الحجہ 1447.
0 تبصرے