Ticker

6/recent/ticker-posts

علم بچپن ہی سے کیوں حاصل کیا جاتا ہے

علم بچپن ہی سے کیوں حاصل کیا جاتا ہے


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسان کی پیدائش کے فواً بعد ہی سے بچے کے دماغ میں سے نکلنے والی لہروں کی صورت میں کچھ جاننے اور سیکھنے کی صلاحیت انتہائی تیزی سے اپنا کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔

لاکھوں اور کروڑوںسیلز فوری طور پر اپنا کام شروع کردیتے ہیں اور لاتعداد سگنلز اپنے مطلوبہ پیغام کی وصولی کے لیے اطراف میں پھیل جاتے ہیں جو فطرت سے ادراک لیتے ہیں۔ اور کچھ سگنلز سے وہ اپنا پیغام اپنے ماحول اور قریب ترین رشتے جو اس کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یعنی والدین سے وصول کرتے ہیں۔ اسی لیے عموماً انکی عادتیں ان جیسی ہی ہونے لگتی ہیں۔

ilm bachpan hi se kyon hasil kiya jata hai


جبکہ ان پر باقاعدہ طور پر انکی تعلیم و تربیت کی زمہ داری کے حوالے سے اسے کچھ فرائض کے سونپنے کی عمر اسلامی نقطہء نظر کے مطابق چار سال چار ماہ اور چار دن کے بعد ہی عائد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے بچہ اپنی ماں کی گود ہی سے سیکھتا ہے اور سمجھتا ہے۔ اسکے سکول جاتے ہی پھر وہ شعوری طور پرکچھ سیکھنے کا آغاز کردیتا ہے۔ اور تب وہ باقاعدہ طور پر زمہ داری سے اپنے سوالوں کے جواب چاہتا بھی ہے اور انہیں لوٹا بھی سکتا ہے۔

کیونکہ اسے اگے بڑھنے کے لیے واضح طور پر ایک راستہ مل جاتا ہے جس پر اسے اب مزید چلنا ہوتا ہے۔ لیکن ابھی وہ اپنی ان اندرونی کیفیات کے ایک پراسیس سےگزر رہا ہوتا ہے جو اسے یہ چیز سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کاٸنات کے اس دجود میں اس کے اپنے وجود کی حقیقت کیا ہے اسکی اپنی حثیت کیا ہے اور وہ کیا کر سکتا ہے اس کے لیے وہ ہر چیز کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔

اس کے اندر احساسات تیزی سے پرورش پارہے ہوتے ہیں اور وہ ہر چیز کو پورے یقین سے محسوس کرتا ہے اور اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ اس کائینات میں سے کچھ جان لینے کے بعد اسکے وہ احساسات بھی جاگتے ہیں جو اسے جانوروں پرندوں اور دیگر جاندار مخلوقات سے ممتاز کرتے ہیں اور وہ ان کے قریب ہونا چاہتا ہے تاکہ اپنی ان پر غالب آسکے اور ان پر اپنی حاکمیت جتا سکے۔ لیکن ابھی یہ سب کچھ اس کے لاشعور میں طے پا رہا ہوتا ہے۔

بچوں کی سکولنگ اس لیے ہوتی ہے تاکہ وہ باقاعدہ اور شعوری طور پر ترقی کی یہ سب منزلیں طے کر سکیں اور اپنے اپنے اندر کی فطری جبلتوں کو مثبت راستوں سے ہمکنار کر سکیں اور محض اپنے حقوق ہی کو طلب کرتے رہنے والی بے فائدہ حیوانیت کا انکار کر سکیں بلکہ انہیں حاصل کرنے کے ہنر سیکھ سکیں اور اہنی خداداد صلاحیتوں سے واقفیت حاصل کر سکیں۔

یوں وہ اپنے اندر کے جانور سے نکل کر انسان بنیں گے جو اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی بھلاٸ کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ پھر انسانیت کی بھی کچھ حدود بھی ہوتی ہیں جنہیں ایک زمہ دار شہری کو جان لینے کے ساتھ ساتھ خود پر لاگو کرنے کا پابند بھی ہونا ہوتا ہے۔ تاکہ اسکی حیوانیت اس پر غالب نہ اسکے بلکہ وہ اس پر سوار ہو کر اپنی کامیابیوں تک رسائی حاصل سکے۔

والدین یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک اچھے سکول کے انتخاب کے بعد انکے بچوں میں حصول علم کے ساتھ ساتھ انکی سیرت و کردار میں نکھار بھی پیدا ہوگا اور شخصیت میں مثبت راستوں پر مضبوطی بھی اۓ گی۔ پس انسانیت کی تربیت کا یہی وہ پہلو ہے کہ جس سے حیوانیت بے نیاز ہوتی ہے اور اچھی تربیت کے کامل ترین اصولوں کی بنیاد پر ہی وہ خود پر قابو پانا سیکھ سکیں گے۔ اور اپنی فطری صلاحیتوں سے مستفید ہوسکیں گے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچے وہ نرم ونازک شاخیں ہیں جس طرف موڑ دی جائیں وہیں پر سے اپنے لیے راستے بنا لیتی ہیں اور آگے بڑھنا شروع کردیتی ہیں انکی اس سمت کا تعین انکے والدین ہی کرتے ہیں۔ اور جو والدین انہیں خود رو جڑی بوٹیوں کی طرح بڑھنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تب وہ اپنی خواہشات سے طاقت پکڑتے ہوۓ اسی سمت بڑھ جاتے ہیں اور پھر انکی تکمیل کی چاہت میں وہ اپنے والدین سے فطری طور پر بے نیاز بھی ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ بچے ہوتے ہیں جو بڑے ہوتے ہی اپنی ہر خواہش پر ضد پکڑتے ہیں اور ہر حال میں اپنی بات کے منوانے پر ڈٹے رہتے اور جم جاتے ہیں وہ نہ تو حالات سے سمجھوتہ کرنا جانتے ہیں اور نہ ہی اپنے اندر کسی دوسرے کی خاطر قربانی دینے جزبہ رکھتے ہیں۔ یوں وہ ہر چیز پر اپنا حق جمانے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کی چیزوں پر بھی حاکمیت جتانے لگتے ہیں۔

اور پھر کچھ والدین جب ان کے سامنے بے بسی کا اظہار کرتے ہوۓ انکی ہرخواہش کو پورا کرنے لگتے ہیں تب انہیں اپنی تکمیل کے لیے مستقل طور پر یہ ایک محفوظ راستہ مل جاتا ہے جس سے وہ کبھی بھی پیچھے ہٹنےکو تیار نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ اسی بنیاد پر بااختیار ہو کر صحیح غٓلط سے بے نیاز اپنی ایک الگ دنیا ہی بسا لیتے ہیں جہاں کسی قسم کی کوٸ روک ٹوک پابندی یا حدود کی پاسداری انکا راستہ نہ روکتی ہو۔

پس ایک اچھے سکول کی یہ زمہ داری بھی ہوتی ہے کہ نئی نسلوں کو اپنے معاشرے کی اعلی اخلاقی اقدار سے بھی روشناس کروائیں اور انکی بنیادوں ہی میں پاکیزگی سے آبیاری کریں تاکہ وہ فطری طور پر ہر قسم کی بدی کا انکار اور ظلم سے نفرت کر سکیں اور ان میں اپنی حدود کا احساس زندہ رہے۔ ہر قسم کی برائی کی حوصلہ شکنی ہی ایک اچھے ادارے کی زمہ داری ہوتی ہے۔ جبھی انسانیت پنپ سکتی ہے اور حیوانیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اور انسانیت کی بنیاد دین اسلام میں ”انسانی شرف اور وقار“ پر رکھی گئی ہے کہ کوئی انسان بھی کسی دوسرے انسان سے کسی طرح بھی کمتر یا برتر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اپنی ذات میں برتری کا دعویدار ہو سکتا ہے سواۓ نیکی کے۔ کہ بھلائی ہی بھلائی سے ہاتھ ملاتی ہے جو عاجزی سے ملا کرتی ہے۔ اور عاجزی اللہ رب العزت کی بندگی ، عبودیت اور حق شناسی سے ملتی ہے جس کے لیے پاکیزگی شرط ہوتی ہے

پس دل و دماغ ظرف و نگاہ سوچ خیال نقطہ نظر ہر جگہ پاکیزگی ہی انسانیت کی پہچان ہے جو سب کی سلامتی کی ضمانت دیتی ہے جس کی بنیاد دین اسلام نے رکھی ہے۔ پس ایک اچھا ادارہ انہی بنیادوں پر نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتا ہے اور اپنی قوم کو ایک فلاحی معاشرے کو مفید اچھے اور زمہ دار شہری بناتا ہے۔


ازقلم
نورالصباء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے