قیادت کی داستان: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
حیا، سخاوت اور شہادت کا وہ باب جو آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ یار قسم سے، جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ذکر آتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی نرمی اتر جاتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ سختی کے پہاڑ تھے، علی رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال۔ لیکن عثمان… عثمان تھے ہی حیا کا پیکر۔ نبی ﷺ نے خود فرمایا تھا: "ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے جنت میں، اور میرا رفیق عثمان ہو گا"۔ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔ سوچو، وہ ہستی کیسی ہو گی؟
1. کون تھے عثمان بن عفان؟
پورا نام عثمان بن عفان بن ابی العاص القرشی الاموی۔ بنو امیہ کے چراغ۔ دولت، حسب، نسب… سب تھا۔ مکہ کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ اتنے امیر کہ جب اسلام لائے تو کفار نے لالچ دیا "دولت لے لو، اسلام چھوڑ دو"۔ عثمان نے ہنس کر کہا "اللہ نے جو دیا ہے وہ تمہاری ساری دولت سے بڑھ کر ہے"۔
رنگت گندمی، قد درمیانہ، داڑھی گھنی۔ شرم و حیا اتنی کہ غسل کرتے وقت بھی پانی کے نیچے بیٹھ کر کپڑا لپیٹ لیتے تھے کہ جسم نہ کھلے۔ بیویاں کہتی تھیں "یا امیر المومنین، گھر میں کون دیکھ رہا ہے؟" فرماتے "اللہ تو دیکھ رہا ہے نا"۔
نبی ﷺ کی دو بیٹیاں ایک کے بعد دوسری ان کے نکاح میں آئیں۔ پہلے رقیہ رضی اللہ عنہا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم رضی اللہ عنہا۔ اس لیے "ذوالنورین" کہلائے… دو نوروں والے۔ دنیا میں کسی کو یہ شرف نہیں ملا۔
2. خلیفہ کیسے بنے؟
عمر رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے چھ صحابہ کی شوریٰ بنا دی تھی۔ علی، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف۔ کہا "ان میں سے چن لو"۔
تین دن مشورے چلے۔ عبدالرحمن بن عوف نے ہر ایک سے پوچھا۔ آخر فیصلہ عثمان پر ہوا۔ وجہ؟ لوگوں کا رجحان ان کی طرف تھا۔ اور عمر نے بھی اشارہ دے دیا تھا۔
جب منبر پر بیٹھے تو پہلا خطبہ کیا دیا؟ کہا "اے لوگو، میں عمر نہیں ہوں۔ نہ میں ابوبکر ہوں۔ میں ایک کمزور بندہ ہوں، اللہ مجھے قوت دے۔ میری مدد کرو"۔
بس یہی جملہ بتا گیا کہ یہ بندہ طاقت کے نشے میں نہیں آئے گا۔
3. بارہ سالہ خلافت… امن، ترقی اور فتوحات
عثمان کا دور 644 سے 656 عیسوی تک۔ 12 سال۔ تاریخ میں "عہدِ عثمانی" کہلاتا ہے۔
فتوحات کا طوفان
عمر کے دور میں جو سرحدیں تھیں، عثمان کے دور میں وہ آگے نکل گئیں۔
1. افریقہ فتح ہوا۔ عبداللہ بن سعد کی قیادت میں مسلمان پہلی بار بحرِ قلزم پار کر کے تیونس تک پہنچے۔
2. قبرص فتح ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کی بحری فوج بنی۔ عثمان نے کہا "اگر سمندر کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے تو بیڑے بناؤ"۔ معاویہ کو شام کا گورنر بنا کر بحریہ کا نظام دیا۔
3. فارس مکمل فتح۔ نیشاپور، طبرستان، مکران… سب شامل ہو گیا۔
4. آذربائیجان اور ارمینیا بھی شامل۔
اتنی زمینیں فتح ہوئیں کہ بیت المال بھر گیا۔ ہر صحابی کو وظیفہ بڑھا دیا گیا۔ مدینہ میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔
قرآن کو ایک شکل دینا
یہ سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ مختلف علاقوں میں قرآن مختلف قرأتوں سے پڑھا جا رہا تھا۔ اختلاف پیدا ہو رہا تھا۔
حذیفہ بن یمان نے آ کر کہا "امیر المومنین، لوگ قرآن کے معاملے میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح جھگڑ رہے ہیں"۔
عثمان نے فوراً فیصلہ کیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مصحف منگوایا جو ابوبکر کے دور میں لکھا گیا تھا۔ زید بن ثابت کی سربراہی میں کمیٹی بنائی۔ پھر ایک حرف کی جانچ کر کے "مصحف عثمانی" تیار کروایا۔
اس کی کئی کاپیاں بنوا کر مکہ، شام، بصرہ، کوفہ، مصر… ہر بڑے شہر بھیج دیں۔ حکم دیا "باقی سب نسخے جلا دو تاکہ امت ایک قرآن پر جمع ہو جائے"۔
آج دنیا میں جو قرآن ہم پڑھ رہے ہیں، وہ حرف بہ حرف وہی مصحف عثمانی ہے۔ 1400 سال گزر گئے، ایک نقطے کا فرق نہیں آیا۔ یہ کارنامہ کسی بادشاہ کے بس کی بات نہیں تھی۔
مسجدِ نبوی کی توسیع
نبی ﷺ کی مسجد چھوٹی پڑ گئی تھی۔ عثمان نے اپنی جیب سے پیسہ لگا کر مسجد کو دگنا کر دیا۔ لوگوں نے کہا "یہ تو دنیا داری ہے"۔ عثمان نے کہا "میں نے نبی ﷺ سے سنا تھا: جو اللہ کے لیے مسجد بنائے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا"۔
مدینہ میں پانی کی قلت تھی۔ "بئر رومہ" نامی کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا۔ وہ پانی بیچتا تھا۔ عثمان نے 35 ہزار درہم میں پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ شرط یہ رکھی "آدھا دن یہودی کا، آدھا دن مسلمانوں کا"۔ دوسرے دن یہودی نے کہا "آدھے دن میں اتنا نہیں بکتا، پورا تمہارا ہوا"۔ عثمان ہنس کر بولے "اللہ نے برکت ڈال دی"۔
وہ کنواں آج بھی مدینہ میں ہے۔
4. شخصیت کیسی تھی؟
سخاوت کا یہ عالم تھا کہ "جیشِ عسرہ" یعنی تبوک کی جنگ کے وقت اکیلے ایک تہائی لشکر کا خرچہ اٹھایا۔ 10 ہزار فوج تیار کی، ہتھیار، اونٹ، کھانا… سب اپنی جیب سے۔ نبی ﷺ نے دیکھ کر فرمایا "عثمان نے جو کر دیا، اب اس کے بعد کچھ کرے تو بھی اس کا نقصان نہیں"۔
لیکن سخاوت کے ساتھ حیا بھی۔ رات کو اٹھ کر قرآن پڑھتے۔ ایک رات میں پورا قرآن ختم کر لیتے تھے۔ تہجد کبھی قضا نہیں ہوئی۔
ایک بار حمام میں گئے۔ ملازم نے کہا "کپڑا اتار دیں"۔ فرمایا "شرم آتی ہے"۔ ملازم بولا "یہاں کون ہے؟" عثمان نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا "وہ دیکھ رہا ہے"۔
ایسا تھا حیا کا معیار۔
5. فتنے کی شروعات… 35 ہجری
ہر اچھی چیز کو نظر لگ جاتی ہے۔ عثمان کے دور کے آخری 6 سال میں بغاوت کی چنگاریاں پھوٹنے لگیں۔
وجوہات کیا تھیں؟
1. فتوحات کی وجہ سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ وہ پرانے صحابہ کی طرح تربیت یافتہ نہیں تھے۔
2. کچھ لوگوں کو گورنروں کی تعیناتی پر اعتراض تھا۔ عثمان نے اپنے رشتہ داروں کو گورنر بنایا۔ حالانکہ وہ قابل تھے۔ معاویہ شام میں، عبداللہ بن سعد مصر میں، ولید بن عقبہ کوفہ میں۔ لیکن مخالفین نے "اقربا پروری" کا شور مچا دیا۔
3. عبداللہ بن سبا نامی ایک یہودی جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھا تھا، اس نے مصر، کوفہ، بصرہ میں جا کر لوگوں کو بھڑکانا شروع کر دیا۔ کہتا "عثمان بوڑھا ہو گیا ہے، مروان اسے چلا رہا ہے، خلیفہ بدلنا چاہیے"۔
آہستہ آہستہ افواہیں پھیلیں۔ سچ جھوٹ مکس ہو گیا۔ لوگ مدینہ کی طرف چل پڑے۔
6. محاصرہ… 40 دن کا امتحان
ذوالحجہ 35 ہجری۔ مصر، کوفہ، بصرہ سے 1000 سے زیادہ لوگ مدینہ آ گئے۔ نعرہ یہ تھا "عثمان سے حساب لو"۔
عثمان گھر میں محصور ہو گئے۔ مسجد نبوی میں خطبہ دیا۔ کہا "اے لوگو، میں نے تم پر کون سا ظلم کیا؟ بتاؤ"۔ صحابہ نے گواہی دی "آپ عادل ہیں"۔ لیکن بغاوت والے مانے نہیں۔
پانی بند کر دیا گیا۔ کھانا بند۔ عثمان کے گھر کے باہر پہرہ لگ گیا۔
صحابہ نے کہا "یا امیر المومنین، حکم دیں۔ ہم ان کا صفایا کر دیتے ہیں"۔ عثمان نے ہاتھ اٹھا کر منع کر دیا۔ فرمایا "میں نہیں چاہتا میری وجہ سے ایک مسلمان کا خون بہے۔ اگر میں مر گیا تو امت بچ جائے گی"۔
طلحہ، زبیر، علی، حسن، حسین… سب نے کہا "ہم پہرہ دیں گے"۔ عثمان نے منع کر دیا۔ فرمایا "نبی ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا۔ میں اسے پورا کروں گا"۔ کون سا عہد؟ احد کے دن نبی ﷺ نے فرمایا تھا "عثمان، اگر لوگ تمہیں خلافت سے ہٹانا چاہیں تو ہٹ جانا، لیکن مسلمانوں میں تلوار نہ چلانا"۔
عثمان نے وہ عہد یاد رکھا۔
7. شہادت کا دن… 18 ذوالحجہ 35 ہجری
جمعہ کا دن تھا۔ محاصرے کو 40 دن ہو چکے تھے۔ عثمان روزہ رکھ کر قرآن پڑھ رہے تھے۔ مصحف کھولا ہوا تھا۔ آیت چل رہی تھی: "فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ"۔ یعنی "عنقریب اللہ تمہیں ان سے کافی ہو جائے گا"۔
باغیوں نے دیوار پھلانگی۔ گھر میں داخل ہو گئے۔ عثمان کی بیوی نائلہ رضی اللہ عنہا سامنے آ گئیں۔ ایک باغی نے تلوار سے ان کے ہاتھ پر وار کیا۔ انگلیاں کٹ گئیں۔ نائلہ نے ہاتھ آگے کر کے شوہر کو بچانے کی کوش کی۔
عثمان نے کہا "اللہ کے بندو، مجھ سے کیا چاہتے ہو؟"
ایک باغی آگے بڑھا۔ تلوار چلائی۔ پہلا وار عثمان کے سر پر لگا۔ خون بہنے لگا۔ مصحف پر خون کے چھینٹے پڑ گئے۔ عثمان نے مصحف کو سینے سے لگا لیا۔ کہا "بسم اللہ"۔
دوسرا وار ہوا۔ پھر تیسرا۔ عثمان گر پڑے۔ زبان پر آخری الفاظ تھے "انا للہ و انا الیہ راجعون"۔
شہادت ہو گئی۔ وہ مصحف آج بھی استنبول کے "ٹوپ کاپی محل" میں موجود ہے۔ اس پر عثمان کے خون کے دھبے واضح نظر آتے ہیں۔
عمر 82 سال تھی۔ خلافت 12 سال۔ شہادت جمعہ کے دن، روزے کی حالت میں، قرآن پڑھتے ہوئے۔
8. شہادت کے بعد کیا ہوا؟
جنازہ رات کو پڑھایا گیا۔ باغیوں نے دن میں دفن کرنے نہیں دیا۔ چند لوگوں کے ساتھ "جنت البقیع" میں دفن کیا گیا۔ عام قبرستان کے باہر۔ کیونکہ باغیوں نے کہا تھا "عثمان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے"۔
نائلہ رضی اللہ عنہا نے عثمان کا کٹا ہوا ہاتھ اور خون آلودہ قمیض اٹھا کر شام بھیج دی معاویہ کے پاس۔ معاویہ نے وہ قمیض دمشق کی مسجد میں لٹکا دی۔ 40 ہزار لوگ روز آ کر روتے تھے۔ یہی واقعہ بعد میں جنگِ صفین کی وجہ بنا۔
نبی ﷺ نے فرمایا تھا "ہر نبی کے بعد اس کی امت میں فتنہ آتا ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے"۔ عثمان کی شہادت سے وہ فتنہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد امت کبھی پہلے جیسی متحد نہ رہ سکی۔
9. عثمان سے ہم کیا سیکھیں؟
1. حیا ایمان کا حصہ ہے
آج حیا کو "پرانا خیال" سمجھا جاتا ہے۔ عثمان نے سکھایا کہ حیا کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔ فرشتے جس سے حیا کریں، بندہ کیسا ہو گا؟
2. سخاوت سے برکت آتی ہے
عثمان سب سے زیادہ خرچ کرتے تھے۔ لیکن اللہ نے ان کا مال کبھی کم نہیں کیا۔ بئر رومہ خریدی، مسجد بڑھائی، لشکر تیار کیا۔ مرتے دم تک امیر رہے۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے "جو اللہ کی راہ میں دیتا ہے، اللہ اسے بڑھا دیتا ہے"۔
3. صبر کی آخری حد
40 دن محصور رہے۔ پانی بند، کھانا بند۔ صحابہ تلوار لے کر کھڑے تھے۔ ایک اشارہ کرتے تو مدینہ کی گلیاں خون سے رنگ جاتیں۔ لیکن عثمان نے کہا "نہیں"۔ کیوں؟ کیونکہ امت کا خون ان کی جان سے زیادہ قیمتی تھا۔
آج ہم چھوٹی سی بات پر لڑ پڑتے ہیں۔ عثمان نے 40 دن کی تکلیف برداشت کر لی تاکہ امت نہ ٹوٹے۔
4. قرآن کی خدمت
اگر عثمان مصحف جمع نہ کرتے تو آج ہمارے پاس قرآن کیسے محفوظ رہتا؟ انہوں نے امت کو ایک قرآن دیا۔ یہ احسان قیامت تک رہے گا۔
5. مظلومیت میں بھی وقار
شہادت سے پہلے فرمایا "میں نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے فرمایا عثمان، آج تم ہمارے ساتھ افطار کرو گے"۔ یعنی انہیں پہلے سے پتہ تھا کہ شہادت ہو گی۔ لیکن گھبرائے نہیں۔ مسکرا کر روزہ رکھا اور قرآن کھول لیا۔
خاتمہ
عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی دو لفظوں میں: "حیا اور سخاوت"۔ موت دو لفظوں میں: "صبر اور شہادت"۔
عمر تلوار سے امت بچاتے تھے۔ عثمان صبر سے بچاتے تھے۔ دونوں کی ضرورت تھی۔
آج جب ہم موبائل پر بے حیائی دیکھتے ہیں، جب مال جمع کرنے کی ہوس میں رات کو نیند نہیں آتی، جب چھوٹی بات پر خون خرابہ کر دیتے ہیں… تب عثمان کو یاد کر لینا چاہیے۔
وہ شخص جو فرشتوں کو بھی شرما دیتا تھا۔
وہ شخص جس نے اپنا خون دے کر امت کو ٹوٹنے سے بچایا۔
وہ شخص جس کا دیا ہوا قرآن آج بھی ہم پڑھ رہے ہیں۔
اللہ ہمیں بھی عثمان جیسی حیا، عثمان جیسی سخاوت، اور عثمان جیسا صبر عطا کرے۔ آمین۔
0 تبصرے