Ticker

6/recent/ticker-posts

صلہ رحمی از شیباحنیف مرزا صنف افسانچہ

صلہ رحمی از شیباحنیف مرزا صنف افسانچہ


"بھائی! چاند گاڑی چلا بھی لیں مجھے زرا جلدی پہنچنا ہے۔"ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے کوفت بھرے انداز میں وہ کوئی تیسری بار بولا تو قاسم نے غصے سے بھرپور نگاہ اس کے سراپے پہ ڈالی۔وہ ایک سوٹ بوٹ میں ملبوس پچیس چھبیس سال کا نوجوان تھا۔جس نے ہاتھ میں فائل پکڑی ہوئی تھی اور اسے کہیں جانے کی جلدی تھی۔"او بھئی جی!اب میں خالی گاڑی تو نہیں چلا سکتا ناں؟ یہ بھرے گی تو ہی آگے چلوں گا آپ کو زیادہ جلدی ہے تو اسپیشل کروا لو۔"اس نے فہد کی مشکل دیکھتے ہوئے آسان حل بتا دیا جس پہ وہ دل ہی دل میں پیچ وتاب کھا کر رہ گیا اور سوچنے لگا گھر سے شیرانوالہ باغ کا کرایہ بیس روپے پھر باغ سے گیپکو دفتر کا کرایہ بیس روپے ہے چالیس آنے کے اور چالیس جانے کے اور میری جیب میں صرف ایک لال نوٹ ہے۔اتنی گنجائش ہی نہیں ہے کہ اضافی خرچہ کر سکوں یا اسپیشل سواری کروا سکوں۔وہ تلملا کر وہیں بیٹھ گیا پھر دماغ کے دریچوں میں یہ لفظ گونجنے لگے۔بہت دیر ہو رہی ہے۔کیا پیدل ہی دوڑ لگا دوں؟اس سواری نے تو شام تک نہیں بھرنا۔کہیں میں انٹرویو سے رہ ہی نہ جاؤں؟"خود ہی سوال خود ہی جواب کرتے ہوئے وہ ایک بار پھر سے سوچنے لگا۔آدھے گھنٹے کا سفر ہے یہاں سے پیدل کیسے جا پاؤں گا۔ٹریفک کا سورج بھی تو سوا نیزے پر ہے۔اف اس چنچلاتی بھیڑ سے اللہ بچائے!" وہ جھانک کر باہر کا منظر دیکھنے لگا۔باہر ایسی صورت حال بالکل بھی نہیں تھی کہ وہ باہر کی جانب دوڑ لگاتا اور خود سے سفر کرنے نکل پڑتا وہ دل ہی دل میں سواریاں بھر جانے کی دعائیں کرتا رہا۔کاش میرے پاس موٹر سائیکل ہوتی تو یوں مجھے خوار نہ ہونا پڑتا۔"دل نے اداسی سے کروٹ لی خدا,خدا کر کے ایک آدمی آکر اس کے قریب بیٹھ گیا۔اسے کچھ تسلی ہوئی۔ریسٹ واچ کی طرف دیکھا ساڑھے نو بجے ٹیسٹ ہونا تھا اور گھڑی کی سویاں نو بجا چکی تھی اس نے جیب کا اکلوتا نوٹ نکالا اور چاند گاڑی والے کے حوالے کیا اور اسپیڈ پکڑنے کو کہا۔لال نوٹ دیکھتے ہی ڈرائیور کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک دوڑ گئی اس نے جلدی سے ہینڈل گھمایا اور جا پہنچا گیپکو ہیـڈ آفس جہاں اس کا تحریری ٹیسٹ و انٹرویو تھا۔بلند بالا بلڈنگ دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا وہ بروقت دفتر پہنچ چکا تھا۔اس نے مشکور نگاہوں سے قاسم کا شکریہ ادا کیا اور چنگ چی سے اتر گیا وہ ابھی دو قدم چلا ہی تھا کہ اس کے کانوں میں آواز سنائی دی۔"باؤ جی! اس نے مڑ کے دیکھا چنگ چی والا اسے مخاطب کر رہا تھا۔یہ رکھ لو جب کبھی اس دفتر میں آفسر لگو گے تو میرے گھر بھی میٹر لگوا دینا۔"یہ کہتے ہوئے اس نے مٹھی میں دبا سو کا نوٹ اسے واپس پکڑایا اور چاند گاڑی دوڑا دی جب کہ فہد زور زور سے سر اثباتاً ہلاتا نم ناک ہو گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے