Ticker

6/recent/ticker-posts

سیپارڈ سے بیپارڈ تک: ساتویں اورآخری قسط

سیپارڈ سے بیپارڈ تک: ساتویں اورآخری قسط

الوداع بیپارڈ!

(سیپارڈ سے بیپارڈ تک: ساتویں اورآخری قسط)

یوں اٹھے آہ اُس گلی سے ہم!

محمد شارب ضیاء رحمانی

گزشتہ قسط میں اس سلسلۂ سفر کی آخری کڑی پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر عیدالاضحیٰ کی مصروفیات اور کچھ علالتِ طبع نے ایفائے عہد میں تاخیر کردی۔ اب جب کہ قافلۂ رفقا اپنے اپنے شہروں اور دفاتر کو لوٹ چکا ہے، بیپارڈ کی رونقیں پسِ منظر میں جاچکی ہیں اور روزمرہ زندگی اپنی سابق رفتار سے رواں ہے، دل بار بار انہی یادگار لمحوں کی طرف پلٹ جاتا ہے جو اس تربیتی سفر کا حاصل تھے۔ انہی بکھری ہوئی یادوں کو سمیٹتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ "سیپارڈ سے بیپارڈ تک" کی اس داستان کا آخری ورق بھی رقم کرکے اس باب کو بند کردیاجائے۔

ابھی سفر کا فسوں دل سے کم نہیں ہوا تھا کہ قافلہ بیپارڈ، گیا جی کی آغوش میں داخل ہوگیا۔ راستوں کی گرد لباس سے جدا نہ ہوئی تھی، آنکھوں میں سفر کے مناظر جھلملا رہے تھے اور دل رفاقتوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ مگر زندگی کا دستور ہے کہ ہر سفر کو ایک دن منزل پر ٹھہرنا اور ہر داستان کو ایک مقام پر اختتام کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔

گزشتہ قسط میں ہم بیپارڈ کے صدر دروازے تک پہنچے تھے۔ مسلسل اڑتالیس گھنٹے کی مسافت، جس میں بائیس گھنٹے کا طویل بس سفر بھی شامل تھا، جسم پر اپنی تھکن کے نقوش ثبت کرچکی تھی، مگر بیپارڈ پہنچتے ہی بیپارڈ اور سیپارڈ کا فرق سامنے آگیا۔

چار بجے شام میں بس سے اترے ہی تھے کہ ایڈمن صاحب کی آواز سماعت سے ٹکرائی:

"چار بج کر چالیس منٹ پر تیار ہوکر کلاس میں حاضر ہوجائیے!"

جلدی جلدی تیاری ہوئی، کلاس روم پہنچے، چند ضروری ہدایات دی گئیں،مختصر وقفۂ طعام ملا، پھر آئندہ روز کی تقریبِ تقسیمِ اسناد کے سلسلے میں ضروری کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ اس ہدایت کے پس منظر میں انتظامیہ کی کتنی دور اندیشی کارفرما تھی۔

عشائیہ کے بعد ایک مختصر مگر یادگار محفل سجی۔ اگرچہ سفر کی تھکن سبھوں کے چہرے پر نمایاں تھی، مگر دل ابھی بچھڑنے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ احباب کی فرمائش پر جناب نصرالدین بلخی صاحب نے ایک بار پھر اپنے اشعار سے محفل کو رونق بخشی اور یوں محسوس ہوا کہ الفاظ بھی رفاقت کے آخری لمحوں کو محفوظ کرلینا چاہتے ہوں۔


یہ کیسی دوستی کا سفر تھا کہ اختتام پہ بھی
ہر ایک شخص جدا ہو کے بھی جدا نہ ہوا

اگلی صبح حسبِ معمول پی ٹی میں حاضری ہوئی۔ یہ آخری پی ٹی تھی، اس لیے معمول سے کچھ زیادہ نرمی اور شفقت تھی۔ اس موقع پر جسمانی سرگرمیوں کو زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی تلقین کی گئی۔ کیوں کہ درحقیقت یہ تربیت صرف چند ہفتوں کی مشقوں کا نام نہ تھی بلکہ ایک بہتر طرزِ زندگی کا پیغام بھی تھی۔

دس بجے گاندھی ہال میں الوداعی تقریب کا آغاز ہوا۔ ہال میں ایک عجیب سی کیفیت تھی؛ خوشی بھی تھی، فخر بھی تھا اور جدائی کی ہلکی سی اداسی بھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب گزشتہ دنوں کی محنت، سیکھنے کے مراحل اور رفاقتوں کی یادیں ایک ساتھ سمٹ آئی تھیں۔اس موقع کی خاص بات ہم سب کے سرپرست، ڈائریکٹر اردو ڈائریکٹوریٹ محکمہ کابینہ سکریٹریٹ و ایڈیشنل سکریٹری جناب ایس ایم پرویز عالم صاحب کی حوصلہ افزا شرکت تھی۔

احباب نے اپنے تاثرات پیش کیے اوراس عزم کا اظہار کیا کہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والے علوم، مہارتوں اور تجربات کو عملی زندگی میں بروئے کار لائیں گے۔ اسی دوران ہماری بہن فاطمہ اکرم راہی نے اپنی مؤثر الوداعیہ نظم کے ذریعے ایسا سماں باندھا کہ جناب ایس ایم پرویز عالم صاحب نے بھی بھرپوردادوتحسین سے نوازا۔

اس موقع پر آئی گوٹ کرم یوگی پلیٹ فارم پر بہتر کارکردگی دکھانے والے شرکا کو، راقم سمیت، یادگاری مومنٹو سے نوازا گیا۔

ہمارے کورس کوآرڈی نیٹر جناب سنتوش صاحب، سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر بیپارڈنے نہایت قیمتی نصیحتوں سے نوازا۔ جناب اجے صاحب، اسسٹنٹ ڈائریکٹر بیپارڈ نے بھی خدمتِ عامہ، دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فرمائی۔ جناب نوشاد صاحب، ڈسپلن ہیڈ وفیکلٹی ہیڈ نے اپنے کلماتِ تشکر میں خاص طور پر معاون اردو مترجمین کے تمام گروپس کی سنجیدگی اور نظم و ضبط کی کھل کرتعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں نے ہماری توقعات سے بڑھ کر ڈسپلن کا مظاہرہ کیا۔

اردو ڈائریکٹوریٹ کے فعال ومتحرک ڈائریکٹر جناب ایس ایم پرویز عالم صاحب نے تین بنیادی باتوں کی تلقین کی:

آپ بہار سرکار کے ملازم ہیں، اپنے آپ کو صرف ایک شعبے تک محدود نہ سمجھیے بلکہ پورے نظام کا فعال حصہ سمجھیے۔

اردو کو محض اردو آبادی تک محدود نہ رکھیے بلکہ غیر اردو داں طبقے کو بھی اس زبان کی خوب صورتی اور افادیت سے جوڑیے۔

اپنے فرائضِ منصبی کو امانت سمجھ کر پوری دیانت داری کے ساتھ انجام دیجیے۔

تقریب کے بعد پرتکلف ظہرانے کا اہتمام تھا۔عیدالاضحیٰ کی وجہ سے،بہت سے احباب کی ٹرینوں کا وقت قریب ہونے کے باعث الوداعی ملاقات نہ ہوسکی جن کی تمنا دلوں میں تھی۔ کوئی جلدی میں سامان سمیٹ رہا تھا، کوئی آخری بار مصافحہ کررہا تھا، کوئی تصویریں محفوظ کررہا تھا اور کوئی خاموشی سے ان لمحوں کو دل میں اتار رہا تھا۔

محسوس ہورہا تھا کہ چند ہفتوں میں بننے والی یہ رفاقتیں برسوں پر محیط تعلقات کا رنگ اختیار کرچکی ہیں۔

بچھڑ کے تجھ سے یہ معلوم ہوا اے دوست
تھا کون دل کے قریب اور کون دل میں تھا

حقیقت یہ ہے کہ اس پوری تربیت نے ہمیں صرف دفتری امور ہی نہیں سکھائے بلکہ وقت کی پابندی، ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیت، مؤثر ابلاغ، نظم و ضبط، صحت مندانہ طرزِ زندگی اور مثبت سوچ کے کئی اسباق بھی دیے۔

دوماہ کے اس سفر نے ہمیں صرف سرکاری امور، قواعد و ضوابط اور دفتری مہارتیں ہی نہیں سکھائیں بلکہ باہمی احترام، اجتماعی کام، مثبت طرزِ فکر اور خدمتِ خلق کا شعور بھی عطا کیا۔ یہی اس تربیت کا سب سے قیمتی حاصل تھا۔

بیپارڈ نے بنیادی طور پر ہمیں تین اہم سبق دیے۔
پہلا یہ کہ کم وقت میں زیادہ اور معیاری کام کس طرح انجام دیا جائے اور وقت کے ہر لمحے کو بامقصد کیسے بنایا جائے۔ اسی دوران یہ احساس بھی ہوا کہ موبائل فون کے بغیر بھی زندگی بخوبی گزاری جاسکتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں ہم لوگوں کا بڑا حصہ غیر ضروری طور پر موبائل اسکرینوں کی نذر ہوجاتا ہے، وہاں بیپارڈ میں صبح ساڑھے پانچ بجے سے شام ساڑھے سات بجے تک موبائل سے دور رہنے کی عادت ایک قیمتی تجربہ ثابت ہوئی۔ اس نے سکھایا کہ ضروری استعمال کے علاوہ اس آلے سے فاصلہ رکھ کر وقت کو زیادہ مفید اور تعمیری کاموں میں صرف کیاجاسکتا ہے۔

دوسرا سبق یہ تھا کہ جلد بیدار ہونا اور جلد آرام کرنا نہ صرف صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ہماری دینی تعلیمات کا بھی حصہ ہے۔ اس معمول نے یہ احساس دلایا کہ وقت کی برکت محض ایک محاورہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔

تیسرا اور شاید سب سے اہم سبق مختلف المزاج افراد سے ہم آہنگ ہوناتھا۔ تحمل، برداشت، باہمی احترام اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا سلیقہ اسی تربیت کا حاصل تھا۔ ہمارے گروپ میں مختلف اضلاع اور دفاتر سے تعلق رکھنے والے معاون اردو مترجمین شامل تھے۔ ابتدا میں اجنبیت کا ایک ہلکا سا احساس ضرور تھا، لیکن رفتہ رفتہ ایسی قربت پیدا ہوئی کہ کوئی بھی اجنبی نہ رہا۔ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے، تجربات بانٹنے اور نئے زاویوں سے سیکھنے کے جو مواقع حاصل ہوئے، وہ شاید معمول کی دفتری زندگی میں ممکن نہ تھے۔

اب واپسی کا وقت قریب تھا، مگر یادوں کے چراغ پہلے سے زیادہ روشن تھے۔ تربیت کا باب اختتام کو پہنچ رہا تھا، لیکن اس کے اثرات ابھی بہت دیر تک دل و دماغ میں باقی رہنے والے تھے۔

بیپارڈ کی عمارت نگاہوں سے اوجھل ہوگئی، مگر اساتذہ کی نصیحت، رفقائے سفر کی محبت، کلاس روم کی رونق، پی ٹی گراؤنڈ کی صبح اور بے شمار یادیں دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئیں۔

رہے گی یاد یہ محفل، یہ دوستوں کا ہجوم

یوں"سیپارڈ سے بیپارڈ تک" کا یہ سفر اپنی ظاہری منزل تک پہنچ گیا، لیکن بعض سفر منزل پر ختم نہیں ہوتے؛ وہ انسان کے باطن میں ایک نئی سوچ، نئے عزم اور نئی روشنی کی صورت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہ سفر بھی انہی خوش نصیب سفروں میں سے ایک تھا۔

جب کبھی ریل کی سیٹی سنائی دے گی تو اگرتلہ کے راستے یاد آئیں گے، جب کسی تربیتی نشست میں شرکت ہوگی تو بیپارڈ کی صبحیں ذہن کے دریچوں پر دستک دیں گی، اور جب ان رفقائے سفر کا تذکرہ ہوگا تو دل بے اختیار مسکرا اٹھے گا۔

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

یہ چند ہفتوں کا سفر تھا، مگر اس نے برسوں کا سرمایہ عطا کردیا۔ اسناد، تصاویر اور یادگاریں وقت کے ساتھ شاید پرانی ہوجائیں، لیکن اخلاص سے بننے والے تعلقات، سیکھے ہوئے اسباق اور دل میں روشن ہونے والی امیدوں کے چراغ مدتوں بجھنے والے نہیں۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

اے غائب از نظر کہ شدی ہمنشینِ دل
می بینمت عیاں و دعا می فرستمت
(ختم شد)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے