Ticker

6/recent/ticker-posts

آٹے کے ساتھ گھن پیسنا صحبت کا نتیجہ - Sohbat Ka Natija

آٹے کے ساتھ گھن پیسنا صحبت کا نتیجہ

ایک خوبصورت اور پرسکون جنگل میں، ندی کے کنارے ایک بہت بڑا اور سرسبز و شاداب درخت تھا۔ اس درخت پر بہت سے معصوم اور خوبصورت پرندے رہتے تھے جو دن بھر گیت گاتے اور شام کو اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے۔

اسی درخت کی جڑ میں کچھ زہریلے سانپوں اور بچھوؤں نے بھی اپنے بل بنا رکھے تھے۔ وہ اکثر رات کے اندھیرے میں نکلتے اور قریبی گاؤں کے مویشیوں یا راستے سے گزرنے والے مسافروں کو کاٹ لیتے۔ گاؤں والے ان زہریلے جانوروں سے سخت پریشان تھے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس مصیبت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہوگا۔

ایک دن، گاؤں کے بڑے بوڑھے اور بچوں نے تاؤ میں آکر لاٹھیاں اور آگ لے کر اس درخت کے پاس پہنچے۔ انہوں نے سانپوں اور بچھوؤں کو مارنے کے لیے درخت کی جڑوں میں آگ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلے اوپر کی طرف لپکے۔

درخت پر موجود بے قصور پرندے خوفزدہ ہو کر چہچہانے لگے، لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ پرندوں کے گھونسلے اور وہ خود بھی اس کی زد میں آ گئے۔

قریب کھڑے ایک بوڑھے شخص نے یہ منظر دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:
”افسوس! پرندوں کا کوئی قصور نہیں تھا، لیکن انہوں نے برے پڑوسیوں کا ساتھ نہ چھوڑا، اسی لیے آج آٹے کے ساتھ گھُن بھی پس گیا۔“

نصیحت آموز سبق


یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ برے لوگوں کی سنگت، دوستی یا ان کے قریب رہنے سے انسان خود بخود ان کی برائیوں کے نتائج کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے تاکہ کسی بڑی مصیبت سے محفوظ رہا جا سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے