اردو کا ادب یا دشمنی؟
توصیف القاسمی (مولنواسی)
مقصود منزل
پیراگپور سہارنپور
واٹسپ نمبر 8860931450
راقم الحروف ایک مدرسے میں گیا، میں نے دیکھا کہ مہتمم صاحب ہندی کا مشہور اخبار ”امر اجالا“ پڑھ رہے ہیں میں نے کہا کہ مہتمم صاحب اردو اخبار لیا کرو، کہنے لگے کہ اردو اخبار میں قرآن وحدیث کی باتیں آتی ہیں جن کی بے ادبی ہوتی ہے اس لیے ہم اردو اخبار نہیں لیتے ۔ اس کو کہتے ہیں غلو ۔
ایک ادارے کے سربراہ کی یہ بات سن کر مجھے بہت احساس ہوا کہ ”ادبی غلو“ نے مہتمم صاحب کی ذہنیت کو کتنی پستی میں پہنچا دیا ۔ ویسے تو قرآن کے مطابق تمام ہی زبانیں اللہ تبارک وتعالی کی نشانیوں میں سے ہیں ہم نہ اردو و عربی کی تحقیر کرسکتے ہیں نہ ہندی کی اور نہ کسی دیگر زبان کی، مگر ایسا ادب اور ایسی عزت جس سے اس زبان کا وجود ہی خطرے میں پڑجائے ادب نہیں یقیناً دشمنی ہے ۔ شعر
”دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے“
آج کل انگریزی زبان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے بڑے سے بڑے ماہرینِ لسانیات بھی بغیر انگریزی لفظ استعمال کیے اپنی بات یا تحریر مکمل نہیں کرسکتے، ہمارے مدارس اسلامیہ کے طلباء میں ماشاءاللہ انگریزی زبان سیکھنے کا رجحان روز افزوں ہے کیونکہ انگریزی زبان کے بغیر چارہ کار نہیں ہے، ان پڑھ سے ان پڑھ بھی پیغام کو میسج کہتا ہے اباجی کو Dad کہتا ہے، کوئی بات نہیں ہے کو No problem کہتا ہے ۔ انگریزی زبان وادب english language and literature کی اس عظیم کامیابی اور ضرورت عامہ Common need بن جانے کے پیچھے انگریزوں کی وسیع ظرفی اور عدم تقدس کی سوچ ہے، آپ انگریزی اخبار کو پاؤں تلے روندو یا سر پر رکھو، انگریزوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا حتیٰ کہ انگریزی الفاظ بیت الخلاء کی سیٹ پر بھی لکھے ہوئے مل جائیں گے، ہر گندی سے گندی جگہ انگریزی الفاظ مل جائیں گے مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ انگریزوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا ہے یا تحقیر و توہین کی شکایت کا طوفان کھڑا کیا ہے ۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ مذکورہ صاحب ادارے کے مہتمم ہونے کے ساتھ ساتھ پیر مریدی کی دنیا سے بھی وابستہ ہیں تو وہ طلباء کو اور اپنے مریدین کو کس پست ذہنیت کی طرف دھکیل رہے ہوں گے ؟ مہتمم صاحب سے کوئی پوچھے کہ بھارتی مسلمانوں کی شکایتوں کی طویل فہرست میں سے ایک شکایت حکومت سے یہ بھی ہے کہ حکومت اردو زبان و ادب کے ساتھ تعصب برتتی ہے، تو جناب آپ اردو اخبار نہ لیکر حکومت کے موقف کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں، حکومت اردو کو اس کا جائز مقام نہیں دیتی اور تم اردو اخبار نہ خرید کر اور طلبہ و مریدین کی غلط راہنمائی کر کے اردو کی ترویج و اشاعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ؟ بڑا مجرم کون ہے حکومت یا تم ؟
قارئین کرام ! میں غیر مسلم حضرات کو ہندی یا انگلش میں ترجمہ قرآن گفٹ کرتا ہوں ویسے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی مسلمان کو پتہ نہ چلے تاکہ غیر ضروری بحث کھڑی نہ ہو مگر جب کبھی کسی مسلمان کو معلوم ہوتا ہے تو وہ فوراً مجھے ٹوکتے ہیں کہ آپ غیر مسلم حضرات کو قرآن وغیرہ اسلامی لٹریچر مت دیا کرو وہ لوگ بے ادبی کریں گے ان کو پاکی ناپاکی کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، یہ لوگ اپنے محدود ذہنی سانچے سے قرآن و اسلامی لٹریچر سے اظہارِ محبت کرتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ قرآن کے دشمن ہیں دعوت الی اللہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خدا اور بندوں کے درمیان میں حائل ہیں۔
0 تبصرے