اردو کی کہانی اردو کی زبانی: ایک تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر محمد عادل فرازؔ علی گڑھ
اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور تاریخی شعور کی ایک خوبصورت علامت ہے۔ یہ زبان مختلف قوموں، تہذیبوں اور روایتوں کے میل جول سے وجود میں آئی اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے دامن میں محبت، شائستگی اور ادبی لطافت کے بے شمار رنگ سمیٹتی چلی گئی۔ اردو نے نہ صرف عوامی جذبات کی ترجمانی کی بلکہ اپنے وسیع ادبی سرمایہ کے ذریعے فکری اور تہذیبی ارتقاء میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
عہد حاضر میں جدید اردو شاعری کے حوالے سے تابش ؔردولوی ایک اہم اور معتبر نام ہے۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور فنی پختگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ابھی حال ہی میں ان کی تخلیق کردہ نظم ”اردو کی کہانی اردو کی زبانی“ نے ادبی حلقوں میں بڑی پزیرائی حاصل کی ہے۔اس نظم میں اردو زبان کی تاریخ، اس کے ارتقاء اور ادبی سفر کو نہایت دلکش اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیاہے۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ نظم اردو کی ساڑھے سات سو سالہ تاریخ کی پہلی ایسی نظم ہے جو ایک انوکھے انداز میں اردو زبان کی منظوم کہانی پیش کرتی ہے تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔
یہ نظم دراصل اردو زبان کی ایک منظوم داستان ہے جس میں زبان خود ایک متکلم بن کر اپنی سرگزشت بیان کرتی ہے۔ اس خود کلامی کے انداز نے نظم میں تازگی، دلکشی اور ڈرامائی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اردو اپنی پیدائش، نشوونما اور ترقی کے مختلف مراحل بیان کرتے ہوئے قاری کو صدیوں پر محیط ایک تاریخی سفر پر لے جاتی ہے۔
نظم کا آغاز اردو کی قدیم جڑوں سے ہوتا ہے، جہاں شاعر اردو کو مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے امتزاج کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ آریاؤں کے دور سے شروع ہونے والا یہ سفر امیر خسروؔ کے عہد، دکن کی ادبی فضا، دہلی اور لکھنؤ کے دبستانوں سے گزرتا ہوا جدید اردو ادب تک پہنچتا ہے۔ یہ اندازِ بیان نظم کو محض تاریخی بیانیہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک جیتی جاگتی داستان بنا دیتا ہے۔نظم کے ابتدائی اشعار ملاحظہ کریں:
مجھ کو ادنیٰ سمجھ کر نہ احسان کر
میرے اسلاف کی کچھ تو پہچان کر
آریوں کے شکم سے میں پیدا ہوئی
بہمنی دور میں کچھ ہویدا ہوئی
ہند کے ریگزاروں نے پالا مجھے
اپنے گیتوں میں خسروؔ نے ڈھالا مجھے
اس طرح نظم کی ابتداء ہوتی ہے اور شاعر اشعار کے توسط سے پوری داستان بیان کرتا چلا جاتا ہے۔تابشؔ نہ صرف اردو کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہیں بلکہ اردو کی مختلف اصناف سے وابستہ شعراء اور ادباء کا بھی ذکر بڑی خوبی کے ساتھ بیان کر دیتے ہیں۔
غور و فکر کریں تو واضح ہوتا ہے کہ تابش ؔکی نظم کوئی سطحی یا عام فہم تخلیق نہیں بلکہ انکی وسعتِ مطالعہ کا ایک نمایاں ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اردو ادب کے تقریباً تمام اہم شعراء اور ادباء کو نظم میں جگہ دی ہے۔ میرؔ کی سوز و گداز، سوداؔ کی ہجو نگاری، غالب ؔکی ندرتِ فکر اور مومن ؔکی لطافتِ بیان کو اردو کی تشکیل و ترقی کے اہم عناصر کرار دیتے ہیں ہے۔ اسی طرح انیسؔ، دبیرؔ، داغؔ، اکبرؔ، اقبالؔ، جوشؔ اور فیضؔ جیسے عظیم شعراء کا تذکرہ نظم میں اردو ادب کی پوری تاریخ کو سمیٹ دیتا ہے۔
فنی اعتبار سے نظم میں صنعتِ تجسیم کا استعمال نہایت کامیاب ہے۔ اردو زبان کو ایک حساس اور باشعور شخصیت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو اپنے ماضی پر فخر کرتی اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید نظر آتی ہے۔ شاعر کی زبان سادہ، شستہ اور رواں ہے، جس کے باعث نظم عام قاری اور سنجیدہ طالبِ علم دونوں کے لیے یکساں طور پر پرکشش بن جاتی ہے۔ شاعر نے اردو زبان کو ایک زندہ کردار کی صورت میں پیش کیا ہے جو خود اپنی کہانی سناتی ہے۔ یہی اسلوب قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔
تابشؔ ردولوی کی نظم میں دبستانِ دکن کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ شاعر اردو زبان کی داستان اس مقام سے شروع کرتا ہے جہاں اس زبان نے پہلی مرتبہ باقاعدہ ادبی اظہار کی صورت اختیار کی۔ نظم کے مطابق اردو کی ابتدائی نشوونما اور ادبی بالیدگی میں دکن کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔ اسی لیے اردو خود کو ”گلستانِ دکن کا حسیں پھول“قرار دیتی ہے اور اپنے وجود کی تشکیل میں دکن کی سرزمین کے احسانات کا اعتراف کرتی ہے:
شاہ راجوؔ سے رکھتی تھی راز و نیاز
ناز اک اک اٹھاتا تھا بندہؔ نواز
شمس عشاقؔ کا ”حسنِ گل باس“ہوں
خواب گاہِ نظامیؔ کا احساس ہوں
افضلؔ و بیدریؔ کی کہانی بھی میں
بحرِ فضلؔ علی کی روانی بھی میں
رستمیؔ اور مقیمیؔ کی ہمراز ہوں
مکتبِ شاہِ جانمؔ کا اعجاز ہوں
سب سے رکھتی ہوں میں ایک جیسا لگاؤ
شاہؔ اعلیٰ ہو یا ہو کوئی رامؔ راؤ
گلستانِ دکن کا حسین پھول ہوں
شیخ عثمانؔ و قطبنؔ کا اسکول ہوں
شاعر نے بہمنی عہد کو اردو کے ابتدائی ارتقاء کا دور قرار دیا ہے۔ اس دور میں اردو نے محض عوامی رابطے کی زبان ہونے کے بجائے ادبی زبان کی حیثیت اختیار کرنا شروع کی۔ دکن کے حکمرانوں اور اہلِ علم کی سرپرستی میں اس زبان کو فروغ ملا اور اس کے دامن میں شعری و نثری تخلیقات کا اضافہ ہوتا گیا۔ نظم میں شیخ عثمان اور قطبن جیسے ابتدائی دکنی ادیبوں کا ذکر اسی تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دکن اردو ادب کی پہلی باقاعدہ درسگاہ تھا۔
تابش ؔردولوی نے دکنی ادب کے اہم معماروں کو بھی نہایت احترام کے ساتھ یاد کیا ہے۔ قلی قطب شاہ کا ذکر اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کو شاہی سرپرستی اور ادبی وقار عطا کیا۔ ملا وجہی اور ان کی مشہور تصانیف ”سب رس“ اور ”قطب مشتری“کا حوالہ دکنی نثر اور داستانی ادب کی ترقی کی علامت ہے۔ اسی طرح غواصی، نصرتی، عشرتی اور صنعتی جیسے شعراء کا تذکرہ دکن کی ادبی روایت کے تنوع اور وسعت کو نمایاں کرتا ہے۔
دبستانِ دکن کے حوالے سے سب سے اہم شخصیت ولیؔ دکنی کی ہے۔ اردو زبان اپنی زبانی اعتراف کرتی ہے کہ اس کی ادبی بلوغت کا ایک اہم مرحلہ ولیؔ دکنی سے وابستہ ہے۔ ولی ؔنے دکنی شاعری کو شمالی ہند تک پہنچایا اور اردو غزل کو ایسی مقبولیت عطا کی جس نے بعد میں دبستانِ دہلی کی بنیاد مضبوط کی۔ اس اعتبار سے ولیؔ دکنی اردو کے ادبی سفر میں ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں جو دکن اور شمالی ہند کی ادبی روایتوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
یوں تابش ؔردولوی کی یہ نظم واضح کرتی ہے کہ دکن اردو زبان کا پہلا باقاعدہ گہوارہ اور اس کی ابتدائی ادبی شناخت کا مرکز تھا۔ شاعر نے دکن کے ادباء، شعراء اور علمی روایتوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ اردو کی شاندار عمارت کی بنیادیں اسی سرزمین پر استوار ہوئیں، جہاں اس نے پہلی مرتبہ اپنی ادبی شخصیت کو مکمل طور پر پہچانا۔
تابش ؔردولوی نے اپنی نظم میں اردو زبان کے ارتقائی سفر کو بیان کرتے ہوئے ان عظیم شعراء کا بھی ذکر کیا ہے جنہوں نے اردو شاعری کو فکری رفعت، فنی عظمت اور جمالیاتی حسن عطا کیا۔ ان شخصیات میں آتشؔ، غالبؔ، مومن ؔ، انیس ؔ،دبیرؔکا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہیں۔ شاعر نے اردو زبان کی زبانی ان اساتذہ سخن کی خدمات کو نہایت دلنشیں اور مؤثر انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
ساری اصناف کا ماحصل ہوگئی
مل کے آتشؔ سے جانِ غزل ہوگئی
طرزِ غالبؔ کو ’نوشاہِ فن‘ کر دیا
نازشِ آبروئے سخن کر دیا
مرد مومنؔ سے کیا آشنائی ہوئی
ایک عالم میں اپنی خدائی ہوئی
اس زمیں پر انیسؔ سخن کی نظیر
ایسے ثابت ہے جیسے فلک پر دبیرؔ
نظم میں مرزا غالب ؔکا تذکرہ اردو شاعری کے عروجِ فن کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تابش ؔردولوی کے نزدیک غالب ؔکا اسلوب اردو ادب کے لیے ایک ایسا سرمایہ ہے جس نے زبان کو نئی فکری وسعت اور اظہار کی نئی جہتیں عطا کیں۔ غالب ؔکی شاعری میں فلسفیانہ بصیرت، معنوی گہرائی اور ندرتِ خیال اس انداز سے یکجا ہوئی کہ اردو شاعری کا معیار بلند تر ہو گیا۔ لہٰذاشاعر انہیں ”نوشاہِ فن“ قرار دے کر ان کی فنی عظمت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ غالبؔ کے طرزِ بیان نے اردو کو وقار، عظمت اور ادبی اعتبار بخشا۔
مومن خان مومنؔ کا ذکر بھی نہایت محبت اور احترام کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مومن ؔاردو غزل کے ان ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے عشق، لطافتِ احساس اور حسنِ بیان کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ تابش ؔردولوی نے مومن کے نام کی مناسبت سے ”مردِ مومن“ کی ترکیب استعمال کی ہے، جو ان کے وقار اور عظمت کی علامت ہے۔ شاعر کے نزدیک مومن ؔکی شاعری نے اردو زبان کو ایسی شہرت اور مقبولیت عطا کی جس سے اس کا دائرہ اثر مزید وسیع ہوا۔
فنی اعتبار سے دیکھا جائے توآتشؔ، غالبؔ، مومنؔ،انیسؔ اوردبیرؔ نے اردو شاعری کو فکر و فلسفہ، معنوی پیچیدگی اور تخلیقی انفرادیت سے آشنا کرایا۔ تابش ؔردولوی نے نظم میں ان شخصیات کا ذکر کرکے یہ واضح کیا ہے کہ اردو زبان کی ترقی اور اس کے ادبی وقار میں ان شعراء کا کردار نہایت اہم اور ناقابلِ فراموش ہے۔
تابشؔ ردولوی نے اپنی نظم میں جدید اردو کے شاعری کے اہم شعراء حسرت ؔ،اقبالؔ،فانیؔ،یگانہؔ،اصغرؔ،فراقؔ اور فیضؔ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے اپنے فکر و فن سے اردو ادب کو نئی وسعتیں عطا کیں۔ اشعار دیکھیں:
دے کے حسرتؔ نے اپنا حوالہ مجھے
تنگنائے غزل سے نکالا مجھے
مجھ کو اقبالؔ کا کیا پتا مل گیا
شاعری کو نیا فلسفہ مل گیا
وہ مصوّرؔ وہ بہزادؔ و مانیؔ کہاں
فکر سب میں ہے افکارِ فانیؔ کہاں
نقش ہے ذہن و دل پر یگانہؔ کا فن
جل رہا ہے ابھی تک ’چراغ سخن‘
دل کوچھوتا ہوا اک حسیں ساز ہوں
اصغرؔ خوش نوا کی میں آواز ہوں
’آتشِ گل‘ ہے ’داغِ جگر‘ نور سے
سینکتی ہوں زباں ’شعلہئ طور‘ سے
جلوہ گر جب ہوا وہ فراقؔ سخن
سج گئی ہر طرف ’روپ‘ کی انجمن
فیضؔ کے فیض سے بھی ہوئی فیض یاب
جوشؔ آیا تو آیا نیا انقلاب
علامہ اقبالؔ کا ذکر نظم میں ایک ایسے مفکر اور شاعر کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے اردو شاعری کو محض جذبات اور وارداتِ قلبی کے دائرے سے نکال کر فکر، فلسفہ اور حیاتِ انسانی کے وسیع تر مسائل سے آشنا کیا۔ شاعر کے نزدیک اقبالؔ کی آمد اردو شاعری کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز تھی۔ ان کے تصورِ خودی، پیغامِ عمل اور آفاقی فکر نے اردو ادب کو ایک نئی فکری جہت عطا کی۔ اسی حقیقت کو نظم میں اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ اقبالؔ کے ذریعے شاعری کو ایک نیا فلسفہ اور نئی معنویت حاصل ہوئی۔اسی طرح جوشؔ ملیح آبادی کا ذکر اردو شاعری کے انقلابی اور ولولہ انگیز لہجے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ جوش ؔاپنی خطیبانہ قوتِ اظہار، بلند آہنگ اسلوب اور آزادی و حریت کے پیغام کی وجہ سے اردو ادب میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ تابش ؔردولوی نے انہیں اردو زبان میں ایک نئے انقلاب کا پیامبر قرار دیا ہے۔ ان کی شاعری نے زبان کو جوش، حرارت، ولولہ اور فکری بیداری سے ہم کنار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ”امام الکلام“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
نظم میں فیض احمد فیضؔ اور فراق ؔگورکھپوری کا ذکر بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دونوں شعراء بیسویں صدی کے اردو ادب کے ایسے درخشاں ستارے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری و فنی خصوصیات کے ذریعے اردو شاعری کو نئی وسعتیں عطا کیں۔
فیض احمد فیضؔ کا تذکرہ نظم میں نہایت بلیغ اور علامتی انداز میں کیا گیا ہے۔ شاعر نے ان کے نام کی مناسبت سے لفظ ”فیض“ کو شعری حسن کے ساتھ برتا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اردو زبان فیض ؔکے کلام سے فیض یاب ہوئی۔ فیض ؔکی شاعری محبت، انسان دوستی، آزادی، سماجی انصاف اور انقلابی شعور کی ترجمان ہے۔ انہوں نے اردو غزل اور نظم کو نئے موضوعات، نئے اسالیب اور عصری حسیت سے آشنا کیا۔ ان کے یہاں رومان اور انقلاب کا جو حسین امتزاج ملتا ہے، اس نے اردو ادب کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تابشؔ ردولوی کے نزدیک فیض کی شخصیت اردو زبان کے لیے ایک سرچشمہ فیضان کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسی طرح فراقؔ گورکھپوری کا ذکر نظم میں ان کی جمالیاتی بصیرت، فکری گہرائی اور دلنشیں اسلوب کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ شاعر نے فراقؔ کے معروف شعری مجموعے ”روپ“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے کلام کی حرارت اور تاثیر کو نمایاں کیا ہے۔ فراقؔ کی شاعری عشق، حسن، انسانی رشتوں اور تہذیبی شعور کی شاعری ہے۔ ان کے یہاں زبان کی لطافت، احساس کی گہرائی اور فکر کی پختگی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی خصوصیات انہیں جدید اردو شاعری کے اہم ترین نمائندوں میں شامل کرتی ہیں۔
تابشؔ ردولوی کی نظم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ شاعر نے اردو زبان کے ارتقائی سفر کو بیان کرتے ہوئے خواتین قلمکاروں کی ادبی خدمات کو بھی بھرپور اہمیت دی ہے۔ اگرچہ نظم میں اردو کے بڑے بڑے شعرا، ادبا اور نقادوں کا ذکر موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خواتین اہلِ قلم کی تخلیقی عظمت اور ان کے فکری و ادبی کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ یہی پہلو نظم کو وسعت، توازن اور ہمہ گیری عطا کرتا ہے۔
اردو فکشن کے میدان میں شاعر نے ”قرۃ العین حیدر“اور ”عصمت چغتائی“ کا ذکر نہایت محبت اور احترام سے کیا ہے۔ قرۃ العین حیدر کو اردو زبان کے خوابوں کی تعبیر قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ ان کے ناولوں اور افسانوں نے اردو ادب کو نئی فکری جہتیں عطا کیں۔ ان کے یہاں تاریخ، تہذیب، ثقافت اور انسانی شعور کا جو وسیع منظرنامہ ملتا ہے، وہ اردو فکشن کی ایک منفرد پہچان بن چکا ہے۔ اسی طرح عصمت چغتائی کی جرأتِ اظہار، حقیقت نگاری اور نسائی شعور کو سراہتے ہوئے شاعر نے اردو کو ان کی ”سچی سہیلی“ قرار دیا ہے، جو ان کے فن سے گہری وابستگی کا اظہار ہے۔شعر دیکھیں:
قرۃ العینؔ کے سنگ کھیلی ہوں میں
’ضدّی‘ عصمتؔ کی سچّی سہیلی ہوں میں
جدید اردو شاعری میں ”پروینؔ شاکر“ کا تذکرہ بھی نظم کا ایک دلکش پہلو ہے۔ تابش ؔردولوی نے ان کے شعری مجموعوں ”خوشبو، صد برگ اور ماہِ تمام“ کا حوالہ دے کر ان کے تخلیقی حسن اور منفرد نسائی لہجے کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ پروین ؔشاکر نے اردو شاعری میں محبت، احساس، عورت کی داخلی دنیا اور عصری تجربات کو ایک نئے اور دلنشیں انداز میں پیش کیا۔ ان کی شاعری نے اردو زبان کو لطافت، تازگی اور خوشبو کا ایک نیا احساس عطا کیا:
ایک پروینؔ شاکر کا ’ماہِ تمام‘
طرفہ ’صد برگ‘ و ’خوشبو‘ کا ہے اہتمام
تابش ؔردولوی کا یہ طرزِ فکر اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اردو ادب کی تاریخ کو محض مرد اہلِ قلم کی تاریخ نہیں سمجھتے بلکہ خواتین ادیبوں اور شاعرات کو بھی اس کے ارتقاء کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرۃالعین حیدر کی فکری وسعت، عصمت چغتائی کی بے باکی اور پروین شاکر کی شعری لطافت اردو زبان کے حسن کو دوبالا کرنے والے عناصر ہیں۔
اس طرح نظم میں خواتین قلمکاروں کا تذکرہ اردو ادب کے صنفی توازن، فکری تنوع اور ادبی ہمہ گیری کی روشن مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ شاعر نے یہ واضح کیا ہے کہ اردو زبان کی ترقی اور اس کی تہذیبی عظمت میں خواتین اہلِ قلم کا حصہ بھی اتنا ہی اہم اور قابلِ احترام ہے جتنا مرد ادیبوں اور شاعروں کا۔
تابشؔ ردولوی نے اپنی نظم میں اردو نثر کے ارتقاء کا ذکر کرتے ہوئے منشی پریم چند کو بھی نہایت احترام کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اگرچہ نظم میں شعری شخصیات کا غلبہ نظر آتا ہے، تاہم اردو زبان کی تعمیر و ترقی میں نثر نگاروں کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا گیا۔ پریم چند کا ذکر اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔شعر دیکھیں:
کھیت کھلیان جس کے ہیں احسان مند
’چلتا پھرتا ہوا گاؤں‘ ہے پریمؔ چند
شاعر نے پریم چند کو دیہی زندگی، کسانوں کے مسائل اور عام انسان کے دکھ درد کا ترجمان قرار دیا ہے۔ نظم میں ان کے لیے استعمال ہونے والا مصرع ”چلتا پھرتا ہوا گاؤں ہے پریم چند“ نہایت بلیغ اور معنی خیز ہے۔ اس ایک مصرعے میں پریم چند کے پورے فن کا نچوڑ سمو دیا گیا ہے۔ ان کی کہانیوں اور ناولوں میں ہندوستانی دیہات، کسانوں کی محرومیاں، سماجی ناانصافیاں اور عام آدمی کی جدوجہد اس قدر حقیقت پسندانہ انداز میں پیش ہوئی ہیں کہ وہ خود دیہی زندگی کی علامت بن گئے ہیں۔
اسی طرح ”کھیت کھلیان جس کے ہیں احسان مند“کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پریم چند نے اپنی تحریروں کے ذریعے دیہاتی معاشرے کو اردو اور ہندی ادب کا مرکزی موضوع بنایا۔ ان کے مشہور ناولوں اور افسانوں میں کسان، مزدور، غریب اور محروم طبقے کے مسائل کو جس ہمدردی اور حقیقت نگاری کے ساتھ پیش کیا گیا، اس نے برصغیر کے ادبی منظرنامے کو ایک نئی سمت عطا کی۔
تابشؔ ردولوی کا یہ اندازِ بیان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اردو زبان کی ترقی صرف شاعروں کی مرہونِ منت نہیں بلکہ عظیم نثر نگاروں نے بھی اس کے دامن کو وسعت بخشی ہے۔ پریم چند نے اردو نثر کو حقیقت نگاری، سماجی شعور اور انسانی ہمدردی کی نئی جہتیں عطا کیں، جس کے باعث ان کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
نظم میں ”مرزا ہادی رسوا“کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جن کا شہرہئ آفاق ناول ”امراؤ جان ادا“ اردو ادب کے عظیم شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔ شاعر مرزا رسوا کی ادبی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:
مرزا رسوا نے دی ہے ادا کو زبان
اب بھی محوِ تکلم ہے امراؤ جان
ان اشعار میں مرزا رسوا کی تخلیقی مہارت اور کردار نگاری کے کمال کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک مرزا رسوا نے امراؤ جان کے کردار کو محض ایک فرضی شخصیت کے طور پر نہیں پیش کیا بلکہ اسے ایسی زبان، احساس اور زندگی عطا کی کہ وہ اردو ادب کے زندہ اور متحرک کرداروں میں شامل ہو گئی۔ ان کے قلم کی قوت نے امراؤ جان کو ایک ایسی شخصیت بنا دیا جو زمانے گزر جانے کے باوجود آج بھی قاری کے ذہن میں زندہ محسوس ہوتی ہے۔
”اب بھی محوِ تکلم ہے امراؤ جان“کا مصرع خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ اس میں امراؤ جان کی لافانیت اور ناول کی ادبی عظمت کا اعتراف پوشیدہ ہے۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ مرزا رسوا کی تخلیق کردہ زبان اور مکالمے اس قدر فطری، دلنشیں اور جاندار ہیں کہ آج بھی امراؤ جان کا کردار گویا قاری سے ہم کلام دکھائی دیتا ہے۔ یہی کسی بڑے ادیب اور کامیاب تخلیق کی پہچان ہوتی ہے کہ اس کے کردار وقت کی قید سے آزاد ہو کر زندہ رہیں۔
اس کے علاوہ رتن ناتھ سرشار اور عبدالحلیم شرر کا ذکر خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان دونوں ادیبوں نے اردو نثر کو وسعت، تنوع اور فنی استحکام عطا کیا۔رتن ناتھ سرشار اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”فسانہ آزاد“ اردو نثر کا ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ تابشؔ ردولوی نے انہیں اردو زبان کا اپنا ادیب قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ گہری وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ سرشار کی تحریروں میں لکھنؤ کی تہذیب، معاشرتی زندگی، مزاح اور کردار نگاری کی جو رنگا رنگی ملتی ہے، اس نے اردو نثر کو ایک نئی زندگی بخشی۔ شاعر کا یہ اعتراف دراصل اردو ادب میں سرشار کی خدمات کا اعتراف ہے۔
اسی طرح عبدالحلیم شرر کا تذکرہ اردو کے تاریخی ناول کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ شرر نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اسلامی تاریخ، تہذیب اور مشرقی اقدار کو ادبی پیرائے میں پیش کیا۔ ان کے ناولوں نے اردو نثر میں تاریخی شعور اور تہذیبی آگہی کو فروغ دیا۔ تابشؔ ردولوی انہیں ”فنِ ناول کا حکیم“ قرار دیتے ہیں، جو ان کی فکری گہرائی، ادبی بصیرت اور تخلیقی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔
شرر کی اہمیت اس اعتبار سے بھی مسلم ہے کہ انہوں نے اردو ناول کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے تہذیبی اور تاریخی شعور کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ ان کے قلم نے ماضی کی عظمت اور مشرقی اقدار کو زندہ کیا اور اردو نثر کو ایک باوقار سمت عطا کی۔ شاعر کے نزدیک شرر کی اختراعی صلاحیتوں نے اردو زبان کے ادبی امکانات کو مزید وسعت دی۔
تابشؔ ردولوی کا یہ طرزِ بیان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اردو ادب کی ترقی میں نثر نگاروں کا کردار بھی شاعروں سے کسی طور کم نہیں۔ رتن ناتھ سرشار نے اردو ناول کو زندگی کی رنگا رنگی اور معاشرتی حقیقتوں سے روشناس کرایا، جبکہ عبدالحلیم شرر نے تاریخی شعور اور تہذیبی وقار کو اس کا حصہ بنایا۔ یوں یہ دونوں ادیب اردو نثر کے ارتقاء میں بنیادی ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور نظم میں ان کا تذکرہ اردو زبان کی وسعت اور ہمہ گیری کا روشن ثبوت ہے۔
نظم کے اختتام میں اردو زبان اپنی شناخت، وقار اور عالمگیر اہمیت کا اعلان کرتی ہے۔ یہ اختتام نہ صرف اردو کے شاندار ماضی کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس کے روشن مستقبل کی امید بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظم اردو زبان سے محبت، اس کے ادبی ورثے کے احترام اور اس کی تہذیبی عظمت کے شعور کو اجاگر کرنے والی ایک اہم ادبی تخلیق کی حیثیت رکھتی ہے۔
الغرض ”اردو کی کہانی اردو کی زبانی“ تابش ؔردولوی کی ایک شاہکار نظم ہے جو اردو زبان کی تاریخ اور ادبی عظمت کو نہایت مؤثر اور خوبصورت انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ نظم نہ صرف اردو کے شاندار ماضی کی عکاس ہے بلکہ اس زبان کے تہذیبی وقار اور ادبی سرمایہ کی بھی ضامن ہے۔بلاشبہ اس کو جدید اردو نظم کا ایک اہم سرمایہ قرار دیا جاسکتا ہے جو اپنی فکری گہرائی، فنی پختگی اور تہذیبی شعور کی بنا پر ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔
ڈاکٹر محمد عادل فرازؔ علی گڑھ
Dr. MOHAMMAD ADIL FARAZ
ALIGARH
Email:mohdadil75@yahoo.com
0 تبصرے