Ticker

6/recent/ticker-posts

افسانہ کون از شیبا حنیف گوجرانوالہ Afsana Kaun Sheeba Haneef

افسانہ کون از شیبا حنیف گوجرانوالہ


"کون تھا وہ؟ اس نے کچھ کیا تو نہیں؟"امی کی تشویش چہرے سے واضح تھی۔
"مجھے نہیں پتہ ہے۔ کالج سے واپسی پہ میرے پیچھے پیچھے“۔ آنسووں کا گولہ میرے حلق میں اٹکا آنکھیں رو داد بتاتے ہوٸے لہو رنگ ہوئییں۔ آواز نکلنا بے حد مشکل، بے بسی و لاچارگی سے برا حال۔
"اور بھیجیں کالجوں میں پڑھنے ذلیل کروا دیا ساری دنیا کے سامنے۔ سب نے دیکھا ہوگا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ "لقمان بھائیی نے غصے و تنفر کی نگاہ مجھ پہ ڈالی۔
"آپی کا کیا قصور ہے بھائیی؟"چھوٹی کرن میرے دفاع میں بولی۔ میرے چہرے پہ آۓ بال پیچھے کیے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگی۔
"مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ ان منحوسوں سے ! میں اللہ سے دعا کرتا ہوں۔ اللہ مجھے کبھی بیٹی نہ دے!“ لقمان بھائیی نے نفرت بھری نگاہ مجھ پہ ڈالتے ہوئیے کہا۔
"ایک ایک مائیی باپ کا بچہ ہے۔ پیچھے دو اور جوان بہنیں ہیں۔ کیا میرا بچہ اب تھانے کچہریوں کے چکر لگاۓ؟ بہن کے پیچھے غنڈا پڑ گیا۔ عرضیاں لیے پھرے؟ارے میں کہتی رہی۔ میٹرک کر لیا ہے اب ہاتھ پیلے کرو مگر میری سنتا کون ہے؟"دادی گرجی۔
"کنزہ اسے پہچانتی ہو بیٹا؟" ابو کا لہجہ شکست خوردہ تھا۔
میں پھوٹ پھوٹ کے رو دی”نہیں“مجھے نہیں پتہ………
"میری بات سنو! اللہ نے کرم کیا ہے۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ ہمارا کوئیی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کالج چھڑواؤں چپ کر کے ساجد موچی سے نکاح پڑھوا دو! آج اکیلا کالج سے واپس پیچھے آیا ہے کل چار بندوں کو ساتھ لے کر گن پوائینٹ پہ لے گیا تو ایک کی جگہ تین تین کو روئییں گے۔ دادی نے حتمی فیصلہ سنایا:۔
____________
کڑاکے دار دھوپ تھی۔ سڑکیں ویران دور دور تک کوئیی نظر نہیں آ رہا تھا۔ گھر کی چھت پہ کھڑی میں کالج جاتی ہوئیی سڑک کو حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ کاش میرے ساتھ وہ حادثہ نا ہوا ہوتا تو میں بھی آج کالج جاتی!اب تو کوئیی موچی نائیی بھی مجھے نہیں اپناۓ گا۔ میری آنکھیں پانیوں سے بھر گئیی۔ بے بسی سے میں نے آسمان کو دیکھا۔ اللہ وہاں کوئیی بھی نہیں تھا مگر آپ تو تھے نا؟آپ کو تو پتہ ہی ہوگا میرے پیچھے کون تھا؟ وہ پہلے پیچھے تھا پھر میرے آگے پھر میرےقریب! میں نے فورا سر جھٹک کے ذہن سے اس خوفناک منظر کو جھٹکنا چاہا۔ تیز دھوپ کی تمازت مجھے اندر تک جھلسا کئی۔ بے چین ہو کر میں نے چھت سے اترنا چاہا۔ میری نگاہ زمین پر پڑی۔ وہی کالا لانمبا وہ میرے پیچھے تھا۔ میں چونکی، دوڑی وہ میرے پیچھے دوڑا۔ اس کا عکس مجھ سے ٹکرایا۔ شدید ناگواری کا احساس میرے اندر اتر گیا۔ میں نے ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے کیا۔ اس کا چھونا مجھے پسند نہیں آ رہا تھا۔ خود کو بچانے کے لیے میں نے دیوار کا سہارا لیا۔ وہ میرے اور قریب آ گیا میں پوری طرح اس کی گرفت میں تھی۔ ” امی،،امی ،،امی“ میں دیوانہ وار چلا رہی تھی۔

"کیا ہوا؟کون ہے؟دن دیہاڑے گھر گھس آیا کیا؟
دروازے پہ تو کنڈی لگی ہے۔ میرے کانوں میں آوازیں گونجیں۔ میں اس سے حوف زدہ ہو کر آنکھیں موندے چلا رہی تھی۔ میری قوت مدافعت جواب دے چکی تھی۔ مکمل بے بس ہو کر میں نے خود کو اس کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا۔
"کیا ہوا؟کون ہے؟کنزہ ہوش کرو کیوں چلا رہی ہو؟"
امی کے جھنجھوڑنے پہ میں نے انگلی بڑھا کر اس کی طرف اشارہ کیا۔ امی ”وہ “۔۔۔۔ امی،،دادی،،ابو،،بھائی،،بہن سب نے میری انگلی کی طرف دیکھا۔ ایک ڈری سہمی انگلی میری طرف بھی اٹھی ہوئی تھی۔ اور وہ بھی اپنی امی سے کہہ رہی تھی امی ”وہ“:۔
________________
”امی،،امی،،امی وہ یہی ہے۔ خوف زدہ ہو کر میں نے امی کی طرف دیکھا "ابو ،،ابو جی ابو مجھے بچالے!
گڑ گڑا کے رو پڑی بھاگ کر ابو کے پیروں میں جا گری۔ ابو…ابو وہ میری طرف آ رہا ہے۔ "میں نے روتے ہوٸے التجإ کی۔ ابو کے پیروں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
”کنزہ میرے بچے ہوش کرو اٹھو میری جان!“ابو نے اپنے قدموں سے اٹھایا۔ ٹوٹی بکھری بچی کو سینے سے لگا کر دادی کے پاس چارپائی تک لے آٸے۔ امی پاس آ کر بال سہلانے لگی۔ "کوئی نہیں ہے بچے،،یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے،،میرے بچے کوئی نہیں ہے۔ “امی میری حالت دیکھتے ہوئیے زارو قطار رونے لگی۔
” امی … ہے۔ وہ… ہے۔ وہ مجھٕے دیکھ رہا ہے۔ میں پھر سے ایک بار پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ " ابو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو جی،،دروازہ بند کردے!دروازہ بند کر دے!وہ آ جائے گا۔ وہ مجھے لے جاۓ گا۔ " کبھی کانوں پہ تو کبھی منہ کے آگے ہاتھ رکھتے ہوئیے دیوانہ وار اپنے ہی بالوں کو کھینچنے لگی۔ (وہ مجھے لے جاۓ گا)ایک ڈری سہمی نظر کمرے کے ارد گرد ڈالی جب کہ امی ،،ابو ،،کرن ،،دادی ،،لقمان بھائی سب موجود تھے۔ غمزدہ پریشان اور فکر مند۔ جوان جہاں بچی کی روتی بلکتی حالت پہ رنجیدہ ،،جو دیوانہ وار کمرے کو گھورتی بکھرے بال،،سرخ آنکھیں،،ہوش و حرد سے لا پرواہ،،ہاتھ جوڑتے ہوئیے سب کے آگے اپنے بچاؤ کے لیے فریادیں کر رہی تھی۔ مجھے بچالو ،،لقمان بھائی “بھائی کو آوازیں دینے لگی۔
"کون؟دیکھ رہا ہے تمہیں؟ کنزہ کون لے جاۓ گا تمہیں ؟ میرے بچے رو مت!میں کہیں نہیں جانے دوں گا تمہیں! تمہارا باپ زندہ ہے تمہارا بھائی موجود ہے کوئی نہیں لے کر جا پاۓ گا تمہیں۔ کسی نو آموذ بچے کی طرح ابو کے سینے سے چمڑی ہوئی تھی اور ابو کے الفاظ دور کھائی سے آتے سنائی دے رہے تھے۔ اتنے نزدیک ہو کر اتنے دور سے الفاظ سنائی دے رہے تھے۔ آنکھیں موندیں ،،ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑے ،،دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئیے اپنے اہل و عیال کی پناہوں میں سونے کی کوشش کرنے لگی۔ " یا اللہ مجھے نیند آ جاۓ ! یا اللہ میں سونا چاہتی ہوں! یا ال ل ہ … ن ی ن د… ال ل ہ … ر ح م )جاگ ،،جاگ کر برا حال تھا۔ نیند بھی تو نہیں آ رہی تھی۔ امی وہ ادھر وہ سیدھی بستر پہ اٹھ بیٹھی تھی اور اپنی شہادت کی انگلی بڑھا کر اس نا نظر آنے والی چیز کی طرف اشارہ کر رہی تھی جب کہ امی جو اس کے ساتھ سوئی ہوئی تھی اس کی اس چیخ و پکار پہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔ اور اب اسے اپنے ساتھ لپٹائیے پوچھ رہی تھی۔ " کون کنزہ ؟ انہوں نے اس کا سر اپنے سینے سے ٹکا لیا اور بے اختیار چومتے ہوئیے کہنے لگی کوئی نہیں ہے کنزہ،،وہاں تو کوئی نہیں ہے چندا۔ اس کی انگلی ابھی بھی بدستور کسی کی طرف اشارہ کر رہی تھی جب کہ امی نے اپنے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لیا اور ہاتھ نیچے کر دیا "امی،،امی امی،،امی وہ مجھے دیکھ کر ہنس رہا ہے امی دیکھیں امی وہ ہنس رہا ہے۔
"کنزہ، کیا ہوا ؟ اس کا شور سن کے ابو بھاگتے ہوئیے کمرے میں داخل ہوئیے اور انہوں نے کمرے کی لائٹس آن کرتے ہوئیے کہا کیا ہوا کنزہ؟
لائٹ آن ہوتے ہی کنزہ کی نگاہیں خود بخود اس جگہ سے ہٹ گئی اور وہ امی کے سینے سے جا لگی جب کہ اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچ رکھی تھیں۔ ابو،،امی نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
_________________
"رات کو کیا ہوا تھا کنزہ؟" دادی اس کے سر پہ تیل لگاتے ہوئیے استفسار کرنے لگی۔
"دادی کب؟ اس نے الٹا دادی سے پوچھا
"ارے جب رات کو تم چلا رہی تھی؟ دادی نے یاد کروانے کی کوشش کی
" رات کو میں چلا رہی تھی۔ اس نے ذہن پہ زور دیتے ہوئیے سوچا۔ مجھے نہیں یاد رات کو کیا ہوا تھا؟" وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئیے بولی۔
"اماں آپ بھی کیسی باتیں لے کر بیٹھ گئیی ہیں؟کچھ نہیں ہوا تھا میری بیٹی کو!امی نے دادی کو ٹہوکہ دیا۔ میں اب روز آیت الکرسی اور چاروں قل پڑھ کے اپنی بیٹی پہ پھونکتی ہوں اب تو سوتے میں ڈرتی ہی نہیں ہے امی اب اس کنگھی کرنے لگی۔
"ناں بی بی! تم مجھ سے زیادہ سمجھ دار ہو کیا؟ ساری دنیا دیکھ رکھی ہے میں نے۔ یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے میں نے۔ دادی نے اپنے مہندی سے سرخ ہوئیے بالوں کی لٹ کو ہاتھ میں پکڑا اور امی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئیے کہا۔ جوان جہان بچی کا معاملہ ہے پتہ نہیں جن عاشق ہو گیا کہ چڑیل؟کچھ اتہ پتہ چلے تو میں کسی عالم فاضل کے پاس لے جاؤں۔ "
امی اور دادی ابھی بحث و مباحثے میں تھی کہ پاس بیٹھی کنزہ یک دم سے ہنسنے لگی اور اس کی ہنسنی کی آواز سن دادی اور امی اس کی طرف متوجہ ہوئییں۔
"کیوں ہنس رہی ہوں کنزہ؟"امی نے دادی کی بات نظر انداز کرتے ہوئیے کنزہ سے پوچھا تو اس کے چہرے کے تاثرات ایک دم سے بدل گئیے اور وہ رونی صورت بنا کے کہنے لگی۔ "امی وہ بارات لے کر آیا ہے۔ مجھے لے جائیے گا۔ میں نے نہیں جانا ہے۔ امی میں نے نہیں جانا ہے۔ امی،،امی وہ دیکھیں وہ، وہ دلہا بنا ہوا ہے۔ امی اس نے انگلی کا اشارہ دن دیہاڑے دروازے کی طرف کیا اور روتے روتے پھر سے بلند آواز ہنسنے لگی۔ امی،،ڈھولیے بھی آ گئیے ہیں۔ ہائیے امی سب بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ امی، امی وہ نظریں ٹکائیے ہونقوں کی طرح سب کچھ پلک جھپکائیے بنا دیکھ رہی تھی۔ " امی امی وہ وہ دیکھیں وہاں دلہن بن کر کون بیٹھی ہے؟اس کی انگلی مسلسل گردش میں تھی اس کی نظر وہ سب دیکھ رہی تھی جو امی اور دادی دیکھنے سے قاصر تھی۔ جب کہ کنزہ کی اس حالت سے پریشان دونوں بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں جب کہ دادی نے اپنی لاٹھی زور سے زمین پہ مارتے ہوئیے کہا
"چلو دفع ہو جاؤ! سارے تم لوگ، میری بیٹی کو کیوں تنگ کرتے ہو؟اور یہ کہتے ہی دادی نے اپنی لاٹھی زور سے نا نظر آنے والی چیز پہ جبکہ کنزہ کی نگاہوں کی سیدھ پہ دے ماری۔ جس کے پڑتے ہی کنزہ کے چہرے کے تاثرات ایک دم سے بدل اٹھے اور وہ زور زور سے چلانے لگی۔ " امی مجھے دادی نے ڈنڈا مارا ہے یہ دیکھیں ڈنڈا لگا ہے۔ " وہ چیخ چیخ کر دادی کی شکایت لگانے لگی جبکہ دادی بچاری اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئیی۔
"لو یہ اچھی مصیبت گلے پڑ گئیی ہے۔ نہیں بچے نہیں میں نے تجھے نہیں مارا ہے۔ دادی نے پیار سے پچکارا "میں نے تو اس کم بخت کو مارا ہے جو تجھے گھور رہا ہے !دادی نے کنزا کے سر کو سینے سے لگایا اور اس کی نظر کی سیدھ کی طرف اشارہ کیا:۔
"دیکھا،،دیکھا دادی میں سچ کہتی ہوں ناں ؟وہاں ہے ناں وہ؟ کنزہ نے اپنی بات پہ تصدیق چاہی جس پہ دادی گردن ہلا کر زور زور سے کہنے لگی"ہاں ہاں ہے وہ "
"یہ اچھی مصیبت ہے اب آپ اس کا ڈر پکا کریں کہ واقعی کوئیی ہے۔ " امی دادی سے الجھنے لگی۔
"اب میں کیا کروں؟وہ کہتی ہے ، ہے تو میں نے بھی کہہ دیا،،ہے؟ دادی نے بے زاری سے منہ بنایا۔ "س کا ڈر پکا کریں آپ ؟ امی نے مزید منہ بنایا
جس پہ دادی پریشان ہو کر بیٹھ گئیی:۔۔
کرن،،کرن ادھر آؤ! وہ سکول جاتی کرن کو روکنے لگی
"جی آپی بولے!
"دادی کو بھی پتہ ہے اس کا، دادی نے بھی دیکھ لیا ہے اسے! کنزہ نے سرخ انگارہ آنکھیں کرن پہ جمائییں
جب کہ اس نئیی صورت حال سے کرن بہت پریشان ہو گئیی کہ کہے تو کیا کہے، کرے تو کیا کرے۔ "
جاری ہے ان شاءاللہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے