کلامِ فائق فائق علی خاں فائق اجمالی جائزہ
مُرتبین : عبادت اللہ انصاری جاوید رانا
محمد الطاف انصاری ( اجمالی جائزہ )
اسلم چشتی پونے ( انڈیا)
کلامِ فائق 112 صفحات پر مشتمل ہے جو استادِ فن مجاز آشنا کی نگرانی میں 2022.ء کو برہانپور سے شایع ہوئی ہے ناشر ہیں ڈاکٹر شہزاد انجم برہانی اور مرتّب ہیں عبادت اللہ انصاری جاوید رانا اور محمد الطاف انصاری ان مخلصانِ ادب نے فائق مرحوم کی اندھیرے میں پڑی شاعری کو اجالے میں لانے کا بیڑہ اٹھایا ہے جو قابلِ تحسین ہے - ان حضرات کا خلوص ہے کہ انھوں نے ماضی قریب کے ایک ایسے شاعر کو موجودہ ادب پسند حلقوں سے روشناس کروایا ورنہ یہ خاندانی ادبی بیک گراؤنڈ رکھنے والا اعلیٰ تعلیم یافتہ شاعر گمنامی کی غار کی نذر ہو جاتا اور ادب کی وسع دنیا میں اس کا نام لیوا خاندان کے لوگوں کے سوا کوئی نہیں رہتا - اب ان شاء اللہ ایسا نہیں ہوگا - آگے اور بھی گفتگو ہوگی پہلے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں -
جناب فائق کی پیدائش 1921.ء میں ہوئی تھی- ان کے والد محترم خان بہادر مشتاق علی خان صاحب نے ہی فائق علی خان نام رکھا - فائق صاحب تعلیم و تربیت کی منزلوں سے گذرتے ہوئے 1947.ء میں سیول سروس سے اپنی ملازمت کی ابتداء کی اور ترقّی کرتے ہوئے- آئی اے ایس بنے - 1972.ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا - امتیازی نمبرات کی وجہ سے گولڈ میڈل سے بھی نوازے گئے - 1977.ء میں اس جہانِ فانی کو خیر باد کہہ گئے آپ کے دو نورِ نظر لائق علی خان اور تائق علی خان ہیں“
( ص 9 ، کتاب ہذا ،عبادت اللہ انصاری جاوید رانا برہانپور )
اس اقتباس سے فائق صاحب کی تعلیمی اور علمی زندگی کی جدوجہد اور تدریس کی لیاقت واضع ہو جاتی ہے مُرتب عبادت اللہ انصاری نے اسی مضمون میں شاعر کی ادبی خوبیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے - وہ بھی ملاحظہ فرمائیں -
جناب فائق علی خان فائق کا اسلوب نگارش بے حد منفرد ہے - ان کے کلام میں لفظوں کا انتخاب اور ان کی بندش بے حد انوکھی ہوتی ہے - عام طور پر ثقیل لفظوں کے بار بار استعمال سے شعری خیالات اور و مضامین مبہم تو ہو جاتے ہیں، لیکن کبھی کبھی الفاظ شعری اعتبار اور فارسی آمیز ترکیب لفظی سے شعر کے مفہوم اور معانی کو اور بھی وسعت دے کر دوبالا کر دیتا ہے - فائق صاحب نے اپنی شاعری میں قدیم شعری روایت کو بھرپور اور کامیاب طریقے سے نبھانے کی کوشش کی ہے - روایتی علامات، استعارات، تشبیہات و تراکیب کے استعمال سے ان کی شاعری میں قدیم رنگ ابھر کر سامنے آ جاتا ہے - مشکل زمینیں بنانا تنگ ردیف و قوافی کا استعمال کرنا اور بھاری بھر کم لفظوں کو شعری پیکر عطا کرنا فائق صاحب کی شاعری کا خاص حصّہ ہے - انھوں نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں یکساں لہجہ استعمال کیا ہے - غزلوں کے مقابلے نظمیں زیادہ کامیاب انداز میں لکھی ہیں - کہیں کہیں نامانوس لفظوں کے استعمال نے شعر کو بوجھل ضرور بنا دیا ہے - جس سے معنی و مفاہیم کی شفّافیت پر دھند سی چھا جاتی ہے - تحریر سے اسی دھند کو صاف کرنے میں جو شاعر و ادیب کامیاب ہو جاتے ہیں - انہیں ادب عالیہ میں حیات ابدی کے ساتھ سر فہرست مقام بھی حاصل ہو جاتا ہے - فائق صاحب نے اس دھند کو صاف کرنے کی حتیٰ الامکان کوششیں کی ہیں“
( ص 10 ، کتاب ہذا، )
اسی طرح اس کتاب کے دوسرے مُرتب نے شاعر کی بھرپور حمایت سے کام لیا ہے - ان کے مضمون سے بھی ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں -
”فائق علی خان فائق بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں - وہ نہ صرف غزل کی صالح اقدار کے امین کی حیثیت سے غزل کی بیش قیمت روایات کو آگے بڑھانے اور نئی نسل تک پہنچانے میں اپنی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہیں - ان کی شاعری میں ثقیل و نامانوس لفظوں کا استعمال، فارسی آمیز تراکیب،. تشبیہات و استعارات اور داخلی و باطنی کیفیات کی جلوہ گری بھی ہے جو ان کی انفرادیت متعین کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے - درجِ ذیل غزل کے مطلع میں صنعتِ تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے - جو اپنے آپ میں کئی معنی اور مفہوم رکھتی ہے - موصوف نے شورشِ معرکات کہہ کر اپنے جنوں کی خلش کا اظہار کیا ہے - اور کسی کے حسن کو غزنوی سے منسوب کرتے ہوئے اپنے خانہء دل کو سومنات بنایا ہے - اس غزل میں لفظوں کی ترتیب سے جو فضا قائم ہوتی ہے وہ ایمائیت کی خوبصورت مثال ہے - شورشِ معرکات، درد کش فغاں اور کلفت با مراد جیسی اضافت لفظی قدیم اور جدید شعری لہجے کا اچھوتا امتزاج ہے“
( ص 17-18 ، کتاب ہذا )
اس کے علاوہ ڈاکٹر شہزاد انجم برہانی کی فلیپ کی رائے بھی اہمیت کی حامل ہے - غرض کہ یہ آراء پڑھ کر قاری کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ فائق صاحب کون تھے اور ان کا شعری فن کیا تھا اور اس کتاب کی شاعری سے ان کا کیا مقام ہے مَیں ناچیز کسی کے مقام کا کیا تعین کر سکتا ہوں مگر یہ کہنے کا حق ضرور رکھتا ہوں کہ فائق صاحب کا ذوقِ سُخن رائیگاں نہیں گیا کیونکہ انھوں نے اپنے سُخن میں کلاسیکی ادب کی بھی پاسداری کی ہے اور زبان و فن کا بھی لحاظ رکھا ہے! ان کی غزلیہ شاعری سے چند اشعار جو مجھے اچھّے لگے پیشِ خدمت ہیں -
تسلّی پھر تسلّی ہے، تشفّی پھر تشفّی ہے
بھلا اب کیا کریں گے آپ، ہم پر مہرباں ہو کر
جہاں سے عشق کا افسانہء طلب ٹوٹا
وہیں سے حُسن کو پایا ہے مدعی مَیں نے
مُجھے ڈبونے کی کوشش نہ کر سفینے میں
مَیں خوف کھا کے کہیں، نا خدا نہ ہو جاؤں
حُسنِ بے پروا کے ناموس کا رکھتے ہیں خیال
ہم دیوانوں میں وہ عالی نسب ہوتے ہیں
شام جن پھولوں کو ہنستا ہُوا چھوڑا تھا انہیں
اوس نے ایسا رُلایا ہے کہ جی جانے ہے
سہم سہم کے نگاہوں سے عرضِ حال کیا
جو بات ہم نے کہی وہ بھی ان کہی کی طرح
جب ہنسے، دنیا ہنسی، روئے تو تنہا رو دیئے
واہ وا کے لاکھ بھائی ، آہ اکلوتی رہی
اشکوں کی راہ میں پڑی بادِ سموم آہ
اس کارواں کے ساتھ بھی قزّاق ہو لیے
چھوڑی نہیں ہے یاروں نے طرزِ ستم کوئی
کس منھ سے ہم شکایت جورِ عدو کریں
طغیانیوں میں دیکھے تھے جن ساحلوں کے خواب
دریا کی تہہ میں وہ بھی کنارے اُتر گئے
مجھ کو تنہائی کی راتوں میں سہارا دینے
چشمِ پُرنم میں یہی تارے اُتر آتے ہیں
کلامِ فائق کے آخر میں کچھ پابند نظمیں بھی شایع کی گئی ہیں - یہ نظمیں ان کی غزلیہ شاعری کی لفظیات ، آہنگ اور لہجے سے الگ ہیں - ان کی فضا بندی اور اظہار کا طریق ترقّی پسند شعراء سے بڑی حد تک قریب نظر آتا ہے لیکن موضوعات ان کے اپنی پسند کے ہیں جنہیں انھوں نے خوبصورتی سے برتا ہے - نظموں کی تعداد بہت ہی کم ہے کچھ زیادہ ہوتیں تو فائق کی نظم گوئی کھُل کر سامنے آتی اور قاری، ناقد یا مبصر کو منصفانہ طریقے سے رائے دینے میں آسانی ہوتی - ان ہی نظموں کے چند بند ملاحظہ فرمائیں -
اداس رُخصتِ سرما کی شام میں اشجار
کھڑے ہیں یوں کوئی رہ گیر جیسے لٹ جائے
بکھر رہے ہیں سرِ شاخ برگ دست بسر
وداعی ہاتھوں سے رومال جیسے چھٹ جائے
( نظم موسم سرما کی آخری شام، ص 93 )
تیری دنیا میں شب و روز مہکتے ہیں گلاب
تیری دنیا میں حسیں بوسوں سے ڈھلتی ہے شراب
تیری دنیا میں ہے بدمست جوانی پہ شباب
تیری دنیا سے دبے پاؤں چلا جاؤں گا مَیں
( نظم دبے پاؤں ، ص 99 )
دن تو دنیا کے بکھیڑوں میں گذر جاتے ہیں
اِن سے اُن سے یونہی باتوں میں بِسر جاتے ہیں
شام جھکتے ہی دبے زخم اُبھر آتے ہیں
جھلملا اٹھتی ہیں داغوں کی قطاریں ماہم
( نظم ماہم ، ص 105 )
شکوہ آنکھوں سے کرو اور نہ گلہ ہونٹوں سے
مَیں اب آ ہی گیا ، اے جانِ جہاں کوسوں سے
آؤ کچھ بھی نہ حدیثِ نگہہ و حرف سنیں
بند کر لیں بہم آنکھیں تو دہن بوسوں سے
( نظم :نذرِ ماہم ، ص 112 )
مجموعی طور پر کتاب بھی پسند آئی اور کلام بھی - مُرتبین کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ ماضی قریب اور ماضی بعید کے اور بھی گمنام شاعروں کو سامنے لائیں تاکہ تحقیق کا حق بھی ادا ہو جائے اور ان کے نام شعری تاریخ کا حصّہ بن جائیں - آخر میں مُرتب محمد الطاف انصاری کی چند سطروں پر مَیں اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں کہ مَیں ان کے لفظ لفظ سے متفق بھی ہوں اور مطمئن بھی - ملاحظہ فرمائیں -
فائق علی خاں فائق کا ادبی شعور پختہ و بالیدہ ہے - وہ اپنے کلام کے آئینے میں خالص روایتی رنگ کے قائل نظر آتے ہیں - تاہم ان کی غزلوں میں کہیں کہیں بدلتی قدروں اور عصری حقیقتوں کا پاس و لحاظ بھی پایا جاتا ہے - ان کے کلام میں کلاسیکیت اور جدیدیت کے امتزاج سے ایک نئی معنویت اور جامعیت پیدا ہو گئی ہے - یقین ہے کلامِ فائق کی خوب خوب پذیرائی ہوگی - اور قارئین اسے پڑھ کر خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
( ص 20 ، محمد الطاف انصاری، کتاب ہذا )
0 تبصرے