ذکر کربلا
دنیا میں ہے حق گوئی کی تاثیر ابھی تک
ہونٹوں پہ ہے نعرۂِ شبیر ابھی تک
دیکھو تو گزر کر ذرا دشتِ بلا سے
پیروں سے ہے لپٹی ہوئی زنجیر ابھی تک
پوچھو تو شہادت کا صلہ کرّوبیاں سے
کرتے ہیں جو اوصاف یہ تحریر ابھی تک
سچ پوچھئے دن رات بیاں ہوتی ہے پھر بھی
باقی ہے شہادت کی تفاسیر ابھی تک
میراث نبیﷺ آلِ پیمبر سے پوچھو
باقی ہے گھرانے میں جاگیر ابھی تک
ایواں میں یزیدوں کے جبیںؔ لرزہ ہے طاری
زینب کی ہے جو گونجتی تقریر ابھی تک
_____
جبیں نازاؔں
0 تبصرے