Ticker

6/recent/ticker-posts

احساناتِ مصطفیٰ ﷺ اور آیت مؤدتِ اہل بیت

احساناتِ مصطفیٰ ﷺ اور آیت مؤدتِ اہل بیت


قرآن کی تفسیر ہو یا احادیث کی ورق گردانی، عقیدہء عشق اہل بیت قرآن و احادیث کے عین مطابق ہی نظر آۓ گا ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں

ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنا کمبل اوڑھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پشت اپنے سینے سے لگائی ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی پشت اپنی پشت سے لگائی ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دائیں بٹھایا حسین رضی اللہ عنہ کو بائیں بٹھایا تمام پر وہ کمبل اوڑھا دیا اور کمبل کے کنارے اپنے پاؤں کے نیچے دبا لیے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی:
اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں میرے خاص ہیں جو شخص ان سے راضی ہوگا میں اسی سے راضی ہوں۔

ایک اور ثبوت عشق اہل بیت پر قرآن کریم سے بھی ملاحظہ ہو:

رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

اے محبوب فرما دیجیۓ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر فریبوں کی مودت“

اندازہ کریں کہ خود ربّ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے کہ اے حبیب ﷺ اہل عالم سے فرمادیں کہ نور ہدایت کی تبلیغ اور بھلائی کی ترویج کے حق میں تم سے کوئی صلہء طلب نہیں کیا گیا۔ کوئی اجر نہیں مانگا گیا ہاں البتہ اپنے دلوں میں انہیں محبت بھرا پاکیزہ، گہرا اور بلند ترین مقام ضرور دیں جنہیں ربّ تعالیٰ نے انکے ﷺ قرابت دار بنایا ہے یعنی کہ اہل بیت۔
اور پھر صرف محبت نہیں بلکہ مؤدت۔

محبت شدید میلانٍ طبع کو کہا گیا ہے مگر اس کے بنا زندہ رہنا ممکن ہوتا ہے۔ اور مؤدت محبت کا وہ درجہ ہے کہ محبوب کے بنا زندہ نہ رہا جاسکے۔

پس مومنوں کو حکمٍ ربانی بھی پہنچ چکا ہے کہ نبی ﷺ کا گھرانہ تمام اہلٍ عالم اور اہلٍ اسلام میں سب سے افضل ترین پاکیزہ و بلند ترین اور الفتوں والا ہے انہیں تم عام لوگوں کی طرح شمار مت کرو کہ وہ عام نہیں ہیں بلکہ رب تعالی کے چنے ہوۓ خأص الخاص اور پسندیدہ ترین ہیں ۔ کہ جن سے کل امت کو عقیدت و محبت کرنے بلکہ مٶدت کے مقام تک پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس لیے کہ
ان عظیم الشان ہستیوں کی دین کی خاطر ہر لمحہ قربانیوں سے تاریخ اسلام سجی ہوئی ہے اور امت مسلمہ پر ان کے بے پناہ احسانات ہیں ۔چند ملاحظہ ہوں۔

خاتون جنت بی بی زہرا پاک نےاپنی پوری زندگی انتہائی سادگی ، صبر وشکر ، اعلی ترین حسن اخلاق اور ہر حال میں دین حق پر استقامت کے ساتھ گزار کر تمام مسلم خواتین کے لیے ایک کامل ضابطہ حیات میں ایک بہترین مثال قائیم کردی ہے ۔ یوں انہوں نے دخترٍ پیغمبر ہونے کا حق ادا کر کے کل عالم میں اور قیامت تک کے لیے امت مسلمہ کی سب خواتین کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ اور خواتین میں اطاعت و خدمت ، پاکیزگی و بھلائی، وفا شعاری اور تقویٰ کی ایک بہترین مثال قائم کردی یوں وہ جنت کی سردار قرار پائیں۔

انہیں رضی اللہ تعالی عنہ کی گود میں پرورش پانے والے ان کے تربیت یافتہ انکے بچوں نے دین حق پر آنے والے ہر کڑے وقت میں تمام خوبیوں سمیت وفاؤں کا کڑا امتحان پاس کیا۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے تمام عمر طلب دنیا کا انکار کیا زندگی علم و حکمت کے لیے وقف کردی یہاں تک کہ اقتدار و امارت تک کو بھی ٹھکرا دیا۔ اور اعلیٰ ترین خلق اور رحمدلی میں قربانی کی وہ مثال قائم کی کہ آخری دم تک اپنے قاتل کے نام تک کا راز بھی افشا نہ کیا۔

دین اسلام کو اس کی اصلی شکل میں امت کے لیے پھر سے سالم اور محفوظ رکھنے کی زمہ داری کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کامل طور پر نبھایا اور رہتی دنیا تک کے لیے امت کے لیے حق پرستی کو ایک ٹھوس مثال قائم کردی ہے۔ اور پورے خاندان سمیت شہادت قبول فرمائی۔

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خوبیوں سے کون ہے جو واقف نہیں ہے یہاں تک کہ مومن اور منافق کی پہچان اور فرق کے اظہار کو نامٍ علی مہر قرار پایا گیا ہے۔ آپ در علمٍ نبووَت کہلاۓ ۔ آپ چند لمحوں میں مکمل قرآن پاک کی تلاوت پر دسترس رکھتے تھے ۔ آپ حیدر کرار کہلاۓ ۔معرکہء خیبر کے موقع پر آپ باطل کو صفحہ ہستی سے مٹانے والی حق کی فتح سے سرفراز ہوۓ ۔ تمام غزوات میں نبی ﷺ کے ساتھ پاۓ گۓ ۔ آپ بچپن ہی میں اسلام لاۓ اور تا حیات پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ وفادار رہے۔

یوں تو احسانات مصطفٰی ﷺ بے شمار ہیں کہ خلق خدا سے انکا شمار ممکن نہیں ۔پس جس کو جو یاد رہے اس کا اقرار، اظہار، تکرار اور تاحیات تسلیمات پر قیام لازم ہے۔

آخری نبی رحمت مُحَمَّد ﷺ نے ہمیں کلمہ طیبہ پڑھایا اور غیر اللہ سے بچایا ۔ سکار دو عالم ﷺ نے رحمتللعٰلمین بن کر کل عالموں کو اپنے دامن رحمت میں سمیٹ لیا ۔صادق اور امین بن کر حبیب خداﷺ نے حق پر استقامت کا سلیقہ سکھایا اور ہمیشہ سچ بولنا سکھایا اور امانتوں کے تحفظ کا طریقہ سکھایا۔

یعنی اللہ کے حبیب ﷺ نے اس راہ حیات میں بھٹکتے ہوٶں کو " راہ حق پر خود چل کر "سیدھا راستہ دکھایا ،اعلی اخلاق کا بہترین نمونہ پیش کیا۔

بحر ظلمات میں ڈوبے اور کچلتے ہوؤں کو نجات دلائی اور انساں کو انساں کے ظلم و ستم سے بچایا دشمنوں کو پائییدار دوست بنایا۔ راہزنوں کو راہبری کا سلیقہ دیا کمزوروں کو مضبوط بنایا۔

بچوں، بوڑھوں، مسافروں، ہمسائییوں اور عورتوں کو حقوق دلاۓ رشتوں کو تقدس اور احترام دلایا زندگی کو حیات جاوداں سے ہم کنار کیا۔ ظلمات کے اندھیروں میں بسیرا کرنے والوں کو نور معرفت سے سجا دیا۔ ایک کامل ضابطہ حیات دلایا۔

قرآن کریم ،حکم الہی اپنےﷺ سینے پر لے کر امت کو دلایا اس پر عمل کرکے چلنا سکھایا ۔سردار النبیاء اور خاتم النبین ﷺکے اعزاز سے سرفراز ہو کر امت مسلمہ کو کل عالموں پر سربلند کیا نبیء آخر الزماںﷺ نے علم و حکمت کو امت مسلمہ کے لیے لازم قرار دے کر جہالت کے باب کو ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔

بے ادبوں ،گستاخوں ، اور بے رحم ظالموں کو دین اسلام سے باہر نکال دیا ، فرمایا " وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا ادب نہ کرے " ۔ یوں دین اسلام کو سلامتی کا دین ثابت کیا۔

اس کے علاوہ اور بہت سے احسانات مصطفٰیﷺ بھی ہیں کہ جو ہماری کم نگاہی، کم علمی اور کم ظرفی کی وجہ سے بیان میں نہیں آسکے۔

اور پھر ان سب کے باوجود سرکار ﷺ نے کوئی اجر ، صلہ یا کسی خدمت کو طلب نہ فرمایا۔
الله أكبر
ازقلم
نورالصباء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے