بلوچستان: امن کی آخری پکار، وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری
از قلم حافظ خلیل احمد سارنگزئی
کبھی کبھی رات کی خاموشی میں انسان اپنے رب سے ایک ہی سوال کرتا ہے: آخر اس دھرتی کو کس کی نظر لگ گئی؟ وہ دھرتی جس کے پہاڑ صبر کی علامت تھے، جس کی وادیاں محبت کا پیغام دیتی تھیں، جہاں مہمان کو خدا کی رحمت سمجھا جاتا تھا، جہاں راستے خوف سے نہیں بلکہ اعتماد سے پہچانے جاتے تھے، آج اسی سرزمین پر ہر طلوعِ سحر کے ساتھ ایک نئی آہ، ایک نئی چیخ اور ایک نئی میت کی خبر کیوں جنم لیتی ہے؟
بلوچستان صرف پہاڑوں، ریگستانوں اور معدنیات کا نام نہیں؛ یہ ماؤں کی دعاؤں، بزرگوں کی دانائی، نوجوانوں کے خواب، بچوں کی مسکراہٹوں اور شہداء کے مقدس لہو کی امانت ہے۔ اس امانت کو خون سے نہیں، محبت سے سینچا جاتا ہے۔
آج اگر کوئی سب سے زیادہ رو رہا ہے تو وہ کوئی سیاست دان نہیں، کوئی تجزیہ نگار نہیں، بلکہ وہ عام بلوچستانی ہے جو صبح اپنے بچوں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے دعا کرتا ہے کہ شام تک خیریت سے واپس آ جائیں۔ وہ تاجر جو راستے کے خوف سے اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہے۔ وہ استاد جو علم بانٹنے نکلا تھا مگر خود تشدد کا نشانہ بن گیا۔ وہ مزدور جو رزق کی تلاش میں نکلا اور گھر واپس نہ لوٹ سکا۔ وہ سپاہی جو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گیا، اور وہ معصوم شہری جو کسی نفرت کا فریق ہی نہیں تھا، مگر نفرت کی آگ میں جل گیا۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ بے گناہ انسان کی جان لینا ظلم ہے، اور ظلم کبھی کسی قوم کو عزت نہیں دیتا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جن لوگوں کے پاس شکایات ہیں اور جو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کی بات کرنا چاہتے ہیں، ان کی آواز بھی سننا ریاست کی طاقت کی علامت ہوتی ہے، کمزوری کی نہیں۔ مضبوط قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ انصاف، اعتماد اور مکالمے سے مضبوط بنتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرت کی آگ پر مزید تیل نہ ڈالیں، بلکہ اس پر انصاف، حکمت اور اخوت کا پانی ڈالیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے، ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ کیونکہ جب گھر میں آگ لگ جائے تو سمجھدار لوگ ایک دوسرے سے نہیں لڑتے، بلکہ مل کر آگ بجھاتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف نہیں، بلکہ کتاب، قلم، قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی ﷺ، مدرسے کی روشنی، اسکول کی تعلیم، جدید سائنس، کمپیوٹر اور ہنر دینا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو نفرت سے نکال کر کردار، علم اور خدمت کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک ہاتھ میں ایمان کی روشنی ہو اور دوسرے ہاتھ میں علم و مہارت، تبھی قومیں اپنے مستقبل کو سنوارتی ہیں۔
بلوچستان پاکستان کی سرحد بھی ہے، پاکستان کی طاقت بھی ہے، پاکستان کی امید بھی ہے۔ اگر بلوچستان زخمی ہوگا تو پاکستان کا دل زخمی ہوگا، اور اگر بلوچستان مسکرائے گا تو پورا پاکستان مسکرائے گا۔
آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے وطن کی سرزمین کو کسی بھی قسم کے تشدد، نفرت اور تباہی سے محفوظ بنانے کے لیے ہر جائز اور پُرامن کوشش کریں گے۔ پاکستان کا امن ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسی ہر سوچ سے بچنا ہوگا جو ہمارے اپنے وطن کو مزید تقسیم، خوف یا خونریزی کی طرف لے جائے۔ ہماری اصل جنگ جہالت، غربت، بے روزگاری، ناانصافی اور نفرت کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ اپنے ہی معاشرے کے امن اور مستقبل کے خلاف۔
اربابِ اختیار سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے کہ بلوچستان کو صرف نقشے پر نہ دیکھیں، بلکہ یہاں کے لوگوں کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں۔ وہاں آپ کو صرف شکایت نہیں، امید بھی ملے گی؛ صرف زخم نہیں، وفاداری بھی ملے گی؛ صرف درد نہیں، پاکستان سے محبت بھی ملے گی۔ ان دلوں کو جیتنے کا راستہ انصاف، دیانت، شفاف حکمرانی، عوامی اعتماد اور مسلسل مکالمہ ہے۔
آئیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس سرزمین پر دوبارہ امن کی بارش برسائے، ہر مظلوم کو انصاف عطا فرمائے، ہر شہید کے درجات بلند فرمائے، ہر زخمی دل کو سکون عطا کرے، اور ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں نہیں، بلکہ اصلاح میں بدل سکیں۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ تلواریں سرحدوں کی حفاظت کر سکتی ہیں، مگر قوموں کی روح کو صرف انصاف، محبت، علم، ایمان اور اخلاص ہی زندہ رکھتے ہیں۔
اللہ کرے وہ دن جلد طلوع ہو جب بلوچستان کی فضاؤں میں گولیوں کی آواز نہیں، اذانوں کی مٹھاس، مدرسوں میں قرآن کی تلاوت، اسکولوں میں بچوں کی قہقہے، جامعات میں تحقیق کی روشنی، بازاروں میں رزقِ حلال کی رونق، اور شاہراہوں پر امن کے مسافر نظر آئیں۔ یہی بلوچستان کا اصل چہرہ ہے، یہی پاکستان کا روشن مستقبل ہے، اور یہی ہماری آنے والی نسلوں کا حق ہے۔
0 تبصرے