خاموش طوفان
از قلم: ڈاکٹر روحینہ کوثر سید
ناگپور مہاراشٹر
محلے کی پبلک لائبریری میں ہائی اسکول کے بچوں کے لیے بک ریویو یعنی کتاب پر تبصرہ لکھنے کا مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شامل بچوں کو ایک گھنٹہ پہلے بلا کر انہیں کتابیں پڑھنے کے لیے دی گئیں۔ لائبریری کے منتظم عمران صاحب نے بلال، احمر، زیشان، رابعہ، سروت وغیرہ بچوں میں کتابیں تقسیم کروائیں اور اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔ وہ مقابلے میں شامل بچوں کو لگاتار دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ بچے پڑھ تو رہے ہیں مگر دھیان سے نہیں۔ کوئی بچہ کتاب پڑھتا، کوئی صفحات کو الٹ پلٹ کرتا، تو کوئی بچہ ایک صفحہ پورا بھی نہ پڑھتا۔ حالانکہ یہ کتابیں بچوں کی ہی من پسند کتابیں تھی جو پرکشش تصاویر سے آراستہ تھیں اور بڑے بڑے حروف میں دلکش کہانیاں لکھی ہوئی تھیں لیکن بچے انہیں دلچسپی سے نہیں پڑھ رہے تھے۔
جناب عمران صاحب بچوں کے قریب گئے اور کہا "بچوں آپ کے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے، آپ کو کتاب بغور پڑھنی ہے، اس کے بعد ہی آپ تبصرہ لکھ پاؤ گے، لیکن آپ تو اسے بس الٹ پلٹ کیے جا رہے ہو۔ ڈھنگ سے ایک صفحہ تک نہیں پڑھ رہے ہو۔"
"جناب! کتاب پڑھنا بڑا بور ہوتا ہے۔ اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ دھیان سے ہم کتاب پڑھیں ؟" بلال نے کہا۔
"جناب ہم تو موبائل میں ڈبل اسپیڈ سے کتابیں پڑھتے ہیں، ایک ایک صفحہ کیا پلٹائے؟" احمر نے کہا۔
"جناب مجھے تو کتابیں پڑھنا بہت بور ہوتا ہے۔ اتنا وقت لگتا ہے انہیں پڑھنے میں۔" رابعہ نے بڑی بے زاری سے کہا۔
عمران صاحب نے بچوں کی باتیں بغور سنیں اور ان سے مخاطب ہوئے "بیٹا آج فائو جی کا زمانہ ہے، آپ لوگ ایک سیکنڈ میں کوئی بھی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہو اور انسٹا یا یوٹیوب پر ایک منٹ میں نہ جانے کتنے ہی شارٹ ویڈیوز اور ریلز دیکھ لیتے ہو۔ فائو جی کی وجہ سے آپ میں صبر کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔"
"لیکن جناب آج تو ہر کوئی اس فائو جی کا استعمال کر کے فیض حاصل کر رہا ہے۔" زیشان نے بڑی معصومیت سے کہا۔
"ہاں بلکل! آ ج تقریباً ہر بشر انٹرنیٹ کا استعمال کر رہا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ جو فائو جی کا آپ استعمال کرتے ہو اور اپنی انگلیوں کو اسکرین پر تیز رفتار دوڑاتے ہوئے چند لمحوں میں کئی ریلز دیکھ لیتے ہو، یہ آپ کے ذہن کو انٹرنیٹ کی زنجیروں میں جکڑ رہا ہے، آپ کی سوچنے کی قوت کو ختم کر رہا ہے، آپ میں صبر بالکل بھی نہیں رہا۔ آپ کسی بھی چیز پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پا رہے ہیں۔ آپ کو فوراً اپنی مطلوبہ چیز چاہیے۔ اگر کبھی کسی معلومات یا مطلوبہ چیز کو حاصل کرنے میں آپ کو وقت لگ جائے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا، یہ سب شارٹ ویڈیوز اور ریلز کو دیکھنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ فائو جی ہمارے لیے بہت اچھی چیز ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کی دین ہے لیکن اس کا استعمال ہمیں بے حد ضروری کاموں اور آسانیوں کے لیے کرنا چاہیے۔" عمران صاحب کہہ رہے تھے اور تمام بچے ان کی باتیں بغور سن رہے تھے۔
"جناب! چھٹیوں میں ہم وقت گزارنے کے لیے ریلز دیکھتے تھے، ویڈیو گیم کھیلتے تھے تو ہمیں بس ایسی ہی عادت ہوگئی ہے۔ اب آپ بتائیں کہ ہم اس لت سے خود کو کیسے بچائیں۔" بلال نے افسردگی سے پوچھا۔
" ایک کام کرو روز 30 منٹ تک اپنا کام یا پڑھائی بغیر فون کے کرو، کھانا کھاتے وقت بالکل بھی فون کا استعمال نہ کرو، گھر میں موبائل پر گیمس کھیلنے کی بجائے باہر جا کر کھیلو اس سے آپ کی جسمانی ورزش بھی ہوگی اور صحت بھی اچھی رہے گی۔ پڑھائی کرتے وقت ہر معلومات حاصل کرنے کے لیے موبائل کا استعمال نہ کرو، کتابیں پڑھو، گروپ اسٹڈی کرو، ایک دوسرے سے مشورہ کرو اور ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رہو۔ جب ہم پودا لگاتے ہیں تو اس میں روز پانی ڈالتے ہیں، پودا روز دھیرے دھیرے بڑا ہوتا ہے پھر وہ پھلدار بنتا ہے، کئی سالوں میں وہ پھل دینے لگتا ہے تو بس اسی کی طرح ہم نے اپنے اندر صبر کو قائم رکھنا ہے۔ اگر آپ صبر پر قابو نہیں رکھ سکتے تو پھر آپ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے، جو صبر کرتا ہے وہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ ایک بات یاد رکھو جو چیز فورا مل جائے بغیر کسی محنت کے، بغیر کسی انتظار کے، بغیر کسی دعا کے تو وہ چیز زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔ یہ فائو جی ایک خاموش طوفان ہے جو ہمیں دھیرے دھیرے بربادی کی طرف لے جا رہا ہے، اسے اپنے دماغ پر ہاوی نہ ہونے دینا۔"
عمران صاحب نے اپنی بات ختم کی تو سارے بچوں نے ان کا رہنمائی کے لئے شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں گے اور موبائل و انٹرنیٹ سے ایک دوری رکھیں گے۔
تمام بچے دی گئی کتابوں کے مطالعہ میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ انہیں وقت ختم ہونے کا احساس تک نہیں ہوا۔
عمران صاحب نے سب کو آواز دی اور تبصره لکھنے کے لئے کہا۔
0 تبصرے