Ticker

6/recent/ticker-posts

گولڈ میڈل : افسانہ : Gold medal Afsana

گولڈ میڈل : افسانہ


زمیندار محبوب خان کی حویلی برقی قمقموں سے سجی تھی ۔سر شام سے جگ مگ،جگ مگ کرتے قمقمے حویلی کی شان میں اضافہ کر رہے تھے ۔مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی تھی ۔حویلی کے صحن میں چاندنی بچھی ہوئی تھی ۔مہمان آتے اور ایک سرے پر بیٹھ جاتے ۔زمیندار محبوب خان اور ان کی اکلوتی اولاد سرفراز مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے ۔ہر طرف خوشی کا ماحول تھا ،اور کیوں نہ ہو ۔۔سرفراز نے ریاستی سطح پر دوڑ کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا تھا ،اسی خوشی میں محبوب خان نے ضیافت کا اہتمام کیا تھا ۔
سرفراز اپنے دوستوں میں گھرا سب کو میڈل دکھا رہا تھا جو اس کے سینے پر جھول رہا تھا ۔ان دوستوں میں اکرم بھی تھا ۔غریب گھرانے کا چشم وچراغ ،پرانے اور میلے کپڑوں میں ملبوس اکرم خود کو کمتر محسوس کر رہا تھا ۔وہ اس جشن میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا مگر سرفراز نے بہت اصرار کیا تو وہ راضی ہوگیا ۔یہاں آنے کے بعد اسے اپنی غربت کا شدید احساس ہو رہا تھا ۔دل تو چاہ رہا تھا کہ یہاں سے بھاگ کھڑا ہو مگر اسے سرفراز کی دل شکنی بھی منظور نہیں تھی ۔۔وہ چپ چاپ کھڑا ایک ایک چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
”یار سرفراز ! یہ گولڈ میڈل 20گرام کا یقیناً ہوگا،، احمد میڈل کو ہاتھوں میں تولتے ہوئے بولا!
”بیس گرام کی کیا حیثیت، سرفراز کے یہاں تو منوں سونا ہے ”دلاور نے احمد کو گھورتے ہوئے بولا۔
”دوستو ! انعام تولا نہیں جاتا ،یہ تو ایک اعزاز ہوتا ہے !!۔۔زندگی کی یادگار !!!سرفراز فخر سے بولا.
بالکل سچ کہا تم نے ،میڈل انسان کے وقار میں اضافہ کرتا ہے اکرم آہستگی سے گویا ہوا.
،،میں اسے یادگار کے طور پر بابو جی کے شوکیس میں رکھوں گا ،،
کاش! میں بھی میڈل حاصل کرتا !! اکرم نے سوچا ،سرفراز کتنا خوش قسمت ہے ۔قدرت نے اسے کیا نہیں دیا ،شفیق ماں باپ، زمین جائیداد ،نوکر چاکر ۔۔۔سونے پہ سہاگہ انعامات کی بارش ۔میں غریب سہی مگر مجھ میں بھی قدرت نے صلاحیتیں دی ہیں ۔خوب پڑھائی کرکے میں بھی میڈل حاصل کروں گا ۔اکرم انہی خیالات کی رو میں کھانے کی میز پر پہنچا ۔کھانا پرتکلف تھا ۔اکرم کھانے کے بعد گھر روانہ ہوا ایک مصمم ارادہ لے کر ۔۔۔،،مجھے بھی میڈل حاصل کرنا ہے ،،
محنت ،لگن اور پختہ ارادہ چٹانوں کو بھی ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں ۔اب اکرم کی دنیا ہی بدل گئی ۔۔وہ یکسوئی سے پڑھائی کی طرف متوجہ ہوا ۔۔اس کی تعلیمی ترقی کا گراف دیکھ کر اساتذہ بھی حیرت زدہ تھے ۔اسکول میں اکرم کا نام اکرم پڑھاکو مشہور ہو گیا ۔۔۔ششماہی میں وہ اول نمبر سے کامیاب ہوا ۔سرفراز نے اسے شاباشی دی۔
”اکرم اسی طرح ترقی کرتے جاؤ،،۔۔سرفراز بولا
ان شاءاللہ ،،
اکرم تم جہاں تک پڑھنا چاہتے ہو میرے والد تمھاری مدد کرنے کے لیے تیار ہیں.
اکرم نے سرفراز کو خوشی سے گلے لگالیا.
اکرم بورڈ میں فرسٹ آیا ۔محبوب خان کے مشورے پر ایک بڑے شہر کے کالج میں داخلہ لے لیا ۔ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لے کر اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگا ۔محبوب خان اسے برابر رقم بھیجتے رہے ۔ جہد مسلسل اور انتھک محنت رنگ لائی ۔۔ٹاپ پوزیشن کی وجہ سے میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا ۔محبوب خان اور سرفراز سے خط وکتابت جاری رہی۔محبوب خان برابر اس کی حوصلہ افزائی اور مالی مدد کرتے رہے ۔۔سرکاری اسکالر شپ بھی اسے ملنے لگی تھی۔
ڈااکٹری کے سال دوم میں اسے اپنے محسن محبوب خان کی رحلت کی خبر ملی ۔۔۔اس صدمے سے وہ جانبر نہ ہو سکا کہ اس کی والدہ داغ مفارقت دے گئی ۔ اس بھری دنیا میں وہ تنہا تھا ۔کچھ عرصے سرفراز سے مراسلت جاری رہی پھر یہ سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ۔۔۔وقت ہر زخم بھر دیتا ہے ۔۔کچھ مدت بعد محبوب خان اور سرفراز بھی اس کے ذہن سے محو ہوگئے۔
ڈاکٹری کے امتحان میں اس نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔اسے گولڈ میڈل سے نوازا گیا ۔اس کی دیرینہ آرزو کی تکمیل ۔۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔۔۔ایک خواب حقیقت میں بدل گیا۔
آج سات سال بعد وہ اپنے گاؤں آیا تھا ۔بس اسٹینڈ پر اسے اجنبیت کا احساس ہوا ۔سب کچھ بدل گیا تھا ۔گاؤں کے قریب کے کھیتوں میں فصلوں کی بجائے عمارتیں کھڑی تھیں ۔۔۔گاؤں کے درمیان سے گزرتی کچی سڑک پختہ اور کشادہ بن گئی تھی ۔۔وہ رکشہ میں سوار ہوا۔
زمیندار محبوب خان کی حویلی چلو!
بابو جی ! زمیندار محبوب خان اس دنیا میں نہیں رہے ،،
مجھے معلوم ہے !۔۔لیکن حویلی تو موجود ہوگی ؟۔۔مجھے ان کے لڑکے سرفراز سے ملنا ہے،
کون ! وہ فرازو؟۔۔وہ اب وہاں نہیں رہتا ۔۔گاؤں کے باہر ایک کچی جھونپڑی میں رہتا ہے۔
سرفراز کو فرازو کہہ رہے ہو ،۔۔یہ پہلی غلطی ۔۔دوسرے وہ خود زمیندار ہے ۔۔وہ جھونپڑی میں کیوں رہنے لگا ؟؟؟
میں کیا ۔۔سارا گاؤں اسے فرازو کہتا ہے !۔۔اب وہ زمیندار نہیں رہا۔
اکرم پر بجلی سی گری۔۔اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔وہ الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔
سرفراز جہاں بھی رہتا ہو ۔۔مجھے وہاں لے چلو !!
رکشہ گاؤں کی درمیانی سڑک سے گزر رہا تھا ۔۔سورج سر پر کھڑا قہر برسا رہا تھا ۔سڑک کی دونوں جانب پختہ عالیشان مکانات بنے ہوئے تھے ۔۔۔تھوڑی دیر بعد رکشہ ایک کچے راستے پر موڑ دیا گیا ۔۔جگہ جگہ گڑھے تھے جس کی وجہ سے رکشہ ہچکولے کھارہا تھا ۔۔پھوس کے چہروں کا سلسلہ دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ننگ دھڑنگ بچے شور مچاتے ہوئے رکشہ کے پیچھے دوڑ رہے تھے ۔سفر ایک جھونپڑی کے سامنے ختم ہوا ۔کرایہ ادا کرکے ۔۔ٹاٹ کے پردے کے سامنے کھڑے ہوکر اکرم نے آواز دی۔
سرفراز !
جھونپڑی سے ایک لاغر شخص برآمد ہوا ۔۔اکرم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
سرفراز ،تم کتنے بدل گئے ہو۔
یہ سب کیسے ہوا ؟؟
والد کے انتقال کے بعد کاشتکاروں نے تمام زمینیں ہڑپ کرلیں ۔۔والد صاحب کے مقروض ہونے کی وجہ سے حویلی بھی نیلام ہوگئی ۔۔۔سرفراز رو دینے والی آواز میں بولا۔
سرفراز سے فرازو کیسے بن گئے ؟
وقت نے محل سے جھونپڑی میں لاکھڑا کیا تو لوگوں نے بھی سرفراز کو فرازو بنا دیا ۔۔۔محنت مزدوری کرکے گزارہ کر رہا ہوں ۔۔۔خیر میں تمھارے کھانے کا انتظام کرتا ہوں ۔
سرفراز ۔۔تکلف نہ کرو۔۔میں کھا کر آیا ہوں ۔۔۔اکرم نے جھوٹ بولا ۔
دو لقمے اور سہی ،،۔۔کہہ کر سرفراز اندر گیا ۔۔تھوڑی دیر بعد باہر آکر بولا ۔
میں ابھی بازار سے واپس آرہا ہوں ،،
اکرم چارپائی پر لیٹ گیا ۔۔وہ ماضی کے دھندلکوں میں جھانک رہا تھا ۔۔زمیندار محبوب خان کا جشن اسے ابھی تک یاد تھا ۔وقت کے تغیّر کا وہ قائل ہوگیا ۔۔۔اسی رو میں اسے نیند آگئی ۔۔۔سرفراز نے اسے جھنجھوڑ کر جگایا۔
چلو اٹھو۔۔کھانا تیار ہے۔
اکرم بے دلی سے اٹھا ۔۔پھٹی چٹائی پر وہ آمنے سامنے بیٹھ گئے ۔۔کھانا پر تکلف تھا۔
اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
اکرم !۔۔تم ایک مدت بعد آئے ہو ۔۔۔یہ تو ضروری تھا۔
اکرم کچھ نہ بولا ۔خاموشی سے کھانا کھاتا رہا ۔۔کھانے کے بعد اس نے جیب سے میڈل نکال کر سرفراز کو دکھایا۔
مجھے یہ گولڈ میڈل ملا ہے۔
مبارک ہو ۔۔۔سرفراز اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا۔
اکرم اسے الوداعی مصافحہ کرکے رخصت ہوا ۔۔وہ راستہ بھر سرفراز کے بارے میں سوچتا رہا ۔۔شہر جانے کے لیے بس تیار کھڑی تھی وہ اس میں سوار ہوگیا ۔۔۔اس کی بغل والی سیٹ پر دو مارواڑی بیٹھے تھے ۔۔
ایک نے کہا ۔۔نہ جانے فرازو کے پاس یہ میڈل کہاں سے آگیا ۔۔۔اس نے جیب سے گولڈ میڈل نکالتے ہوئے دوسرے سے کہا ۔
آج اس نے میرے ہاتھوں فروخت کیا ہے ۔۔۔وہ میڈل کو ہوا میں جھلاتے ہوئے بولا۔
کہیں سے چرایا ہوگا ۔۔۔دوسرا بولا
اکرم پر بجلی سی گری۔۔گویا یہ ضیافت !!!۔۔اس سے آگے وہ کچھ نہ سوچ سکا۔۔ٹپ ٹپ آنسوؤں سے اس کا دامن بھیگ رہا تھا۔

ڈاکٹر ارشاد خان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے