جرعات : طبقہ نسواں میں ارتداد، الحاد و دین بیزاری اور ہم
اسانغنی مشتاق رفیقیؔ
جنوبی ہندوستان کے ریاست ٹمل ناڈو میں ضلع شمالی آرکاٹ اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں بسنے اردو بولنے والے مسلمان پورے جنوبی ہندوستان میں ایک الگ ہی پہچان رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسے تہذیب و تمدن کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں دنیا کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک ٹمل تہذیب اور عربی تہذیب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ بغیر کسی بڑی تاریخی پس منظر اور سیاسی شہرت کے یہ صدیوں سے یہاں امن و ہم آہنگی کے ساتھ ریاست کی ترقی میں خاموش کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ ان میں کی اکثریت کا پیشہ تجارت ہونے کی وجہ سے ان میں صبر، استقامت، تحمل اور بردباری،معقولیت اور تعمیر پسندی کا عنصر زیادہ ہی پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے جب سر سید نے مسلمانوں کے درمیان عصری تعلیم کو عام کرنے کی تحریک شروع کی تو پورے جنوبی ہندوستان سے اس پر سب سے پہلے لبیک کہتے ہوئے لپکے اور اپنے یہاں عصری تعلیم کو عام کرنے کا کام شروع کیا اور اس کے ثمرات کے طور پر آج یہ پورے علاقے میں کافی خوشحال اور سرخیلی حیثیت کے حامل ہیں۔
مذہبی معاملات میں شمالی آرکاٹ کے مسلمان وسیع المشرب واقع ہوئے ہیں۔ مسلکی تعصبات یہاں نہیں کے برابر ہے۔ عصری تعلیم عام ہونے کی وجہ سے ان میں زمانے کے جدید تقاضوں کو سمجھنے اور اسے اپنانے کا مزاج پایا جاتا رہا ہے۔ یہاں کے بڑوں نے اپنے اجتہادانہ سمجھ بوجھ سے علاقے کے مسلمانوں کو ترقی کے دوڑ میں کبھی بچھڑنے نہیں دیا۔ ہر قسم کے باد مخالفت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے وقت اور حالات کے نزاکت کو سمجھ کر، دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ہر وہ فیصلہ لیا جس سے قوم کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ زمانے کے بدلتے ہوئے اطوار کو ذہن میں رکھ کر قوم کے نو نہالوں کی ترقی کے لئے ہر نہج سے بڑے بڑے فلاحی ادارے قائم کئے تاکہ مسابقت کی دوڑ میں قوم کے مستقبل کے یہ معمار کسی قسم کی احساس کمتری میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی قومی اور ملی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ سکیں۔
ماضی کے با نسبت موجودہ دور ہم پر چاروں طرف سے یلغار کررہا ہے۔ کبھی سیاسی محاذوں سے تو کبھی ہماری مذہبی بنیادی اصولوں کو چیلنج کرتے ہوئے، کبھی تعلیم اور اخلاقیات کے نام پر تو کبھی ملی تشخص پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے، کبھی حقوق نسواں کے حوالے سے تو کبھی ہماری رہن سہن ہمارے لباس اور ہمارے کھانے پینے کو لے کر زمانہ ہم پر ایسے ٹوٹ پڑ رہا ہے جیسے وہ ہماری ہر قسم کی شنا خت کو مٹا کر ہی دم لے گا۔ ایسے میں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے موجودہ دور کے بڑوں میں وہ فہم و فراست کا فقدان ہے جو ہمارے آباؤ اجداد کا طرہ امتیاز تھا جس سے کام لے کر انہوں نے زمانے کو نبض کو پہچانا اور بروقت فیصلے لے کر معاشرے کو انتشار اور انارکی کا شکار ہونے سے بچالیا۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے عمائدین فہم و فراست سے یکسر خالی ہیں، بلکہ وہ کبھی سیاسی مصلحت سے تو کبھی مسلکی دباؤ کی وجہ سے، کبھی اندھی تقلید میں مبتلا ہوکر تو کبھی معاشرے میں اپنی ساکھ بچائے رکھنے کے لئے کوئی بھی دور اندیشانہ اور حکیمانہ فیصلہ لینے سے معذور نظر آتے ہیں۔ دور جدید کے طبقہ نسواں میں ارتداد و الحاد اور دین بیزاری کی جو لہر ملک بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اس کی دستک ہمارے علاقوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ پر ہمارے عمائدین اس لہر کو روکنے کے لئے، ایسے ہنگامی مسئلوں پر اپنے بڑوں کی طرح سخت فیصلہ لینا تو دور اس پر غور و فکر کر کے کوئی بنیادی لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ کئی تو اس مسئلے کو سرے سے کوئی مسئلہ سمجھتے ہیں نہیں۔ اللہ رحم کرے۔
عورتوں کے حقوق اور معاشرے میں ان کے مقام و مرتبے پر گھنٹوں وعظ و نصیحت کر کے منبر ومحراب سجانے والے سماج کے نام نہاد خدائی فوجدار اور ان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام ارباب حل وعقد یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک ہم طبقہ نسواں یعنی اپنی نصف آبادی کو مکمل اپنے مرکزی دھارے میں شامل نہیں کریں گے، ان پر مساجد کے دروازے وا کر کے ایک متروک سنت کو زندہ نہیں کریں گے، انہیں اپنی معاشی اور فلاحی سرگرمیوں کا فعال حصہ نہیں بنائیں گے، انہیں دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کرکے دنیا و مافیہا سے آگاہ نہیں کرائیں گے آنے والے دور میں انہیں اپنے ساتھ جوڑے رکھنا انتہائی مشکل امر ہوگا۔ اس آگہی کے باوجود سماج کے یہ نام نہاد ٹھیکےدار اپنی مردانہ انا کی تسکین اور اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس مسئلے سے اس حد تک بے پرواہ ہیں کہ جیسے کچھ غلط ہو ہی نہیں رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ مسئلہ ہماری ملی شناخت اور ہمارے معاشرے کی بنیاد ہلا دے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل بنانا ہوگا اور مکمل دلجمعی کے ساتھ اسے سماج میں نافذ بھی کرنا ہوگا۔
جیسا کہ عموما دنیا کا اور خاص کر ہمارے علاقے کا معمول رہا ہے، یہاں کے ایک طبقے نے جو ہمیشہ ماضی میں جیتا رہتا ہے ہر نئی بات کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ بات شرعا جائز ہی کیوں نہ ہو یا وہ سماج کی ترقی کے لئے کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہو۔ امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی سخت مخالفت کریں گے جس سے ان کی دینی و سماجی اقتدار میں فرق پڑتا ہو۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کے عورتیں، جنہیں اپنی من مانی تاویلات کا پاٹھ پڑھا کر ہپناٹائیز کر کے انہوں نے اپنے وش میں کر رکھا ہے، مسجدوں میں داخل ہوکر ان کی کارستانیوں سے آگاہ ہوں اور ان کے برابری میں آگے بیٹھ کر ان پرسوالیں کھڑی کریں۔
ان سب کے باوجود ہمیں طبقہ نسواں کے تعلق سے دور جدید کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات کو مدنظر ہوئے اجتہادانہ فیصلے لینا ہے اور ہر حال میں انہیں معاشرے میں نافذ کرنا ہے۔ اگر ہم فوری طور پر ایسا کرنے سے اس خوف سے کترا گئے کہ اس کی وجہ سے سماج کا ایک طبقہ ہمارا مخالف ہوجائے گا تو یاد رکھئے تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور آنے والے دور میں الحاد و ارتداد کےشدید سیلاب کے لپیٹے میں آکر جتنی بھی ملت کی بیٹیاں بہہ جائیں گے ان کا وبال بھی ہمارے ہی گردنوں پر ہوگا۔ اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔
0 تبصرے