بشیر بدر اور ہماری بے حسی
آج جب میں بشیر بدر کا نام سنتا ہوں تو دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھتا ہے ، کیا ہم واقعی اپنے شاعروں سے محبت کرتے ہیں؟
اگر محبت کرتے ہیں تو پھر وہ محبت کہاں ہوتی ہے جب شاعر بیماری کے دن گزار رہا ہوتا ہے؟ جب اسے حوصلے، توجہ اور قربت کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب اس کے کمرے کی خاموشی اس کے اشعار سے زیادہ بلند ہو جاتی ہے؟
ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ ہم اپنے محسنوں کے جنازوں میں ہجوم بن جاتے ہیں، مگر ان کی زندگی میں ان کے دروازوں تک نہیں پہنچتے۔ ہم تعزیتی پوسٹیں لکھنے میں سبقت لے جاتے ہیں، مگر عیادت کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ ہم تصویروں پر پھول چڑھاتے ہیں، مگر جیتے جاگتے انسان کو دو لفظِ محبت نہیں دے پاتے۔
بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے۔ وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھے۔ کتنے عاشقوں نے ان کے اشعار میں اپنی کہانی دیکھی، کتنے تنہا لوگوں نے ان کے لفظوں میں پناہ لی، کتنے شکستہ دلوں نے ان کے مصرعوں کو سہارا بنا کر زندگی گزاری۔ مگر افسوس ہم میں سے کتنے لوگ تھے جنہوں نے یہ سوچا کہ جس شخص کے اشعار ہمارے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، اس کے اپنے زخموں کا حال کیا ہے؟
آج سوشل میڈیا پر ہر طرف تصویریں ہیں، تعزیتی کلمات ہیں، خراجِ عقیدت ہے۔ مگر دل پوچھتا ہے کہ اگر یہی محبت چند برس پہلے ان کے دروازے تک پہنچ جاتی، اگر یہی عقیدت ان کی زندگی میں ان کے چہرے پر مسکراہٹ بن کر اترتی، تو شاید منظر کچھ اور ہوتا۔
یہ مضمون بشیر بدر کے بارے میں کم اور ہمارے بارے میں زیادہ ہے۔ یہ ہمارے رویوں کا نوحہ ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو بھول جاتے ہیں اور مردہ یادوں کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔ ہم چراغ کے بجھ جانے پر روتے ہیں، مگر اس وقت تیل نہیں ڈالتے جب اس کی لو مدھم پڑ رہی ہوتی ہے۔
شاید اسی لیے ہر عہد اپنے بڑے لوگوں کو کھو دیتا ہے اور پھر برسوں ان کی یاد میں آنسو بہاتا رہتا ہے۔
بشیر بدر کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا، مگر ان کا ذکر آتے ہی دل میں ایک کسک ضرور اٹھے گی یہ کسک ایک شاعر کے بچھڑنے کی نہیں، بلکہ اپنی بے حسی کے احساس کی کسک ہے، اور شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال پوچھیں گی۔
سمیع احمد ثمر ، سارن بہار

0 تبصرے