Ticker

6/recent/ticker-posts

برقع تو اس لیے ہے کہ نظر جمیں نہیں : برقع پر شاعری اردو نظم

برقع تو اس لیے ہے کہ نظر جمیں نہیں : برقع پر شاعری اردو نظم

نظر جمیں نہیں

عماد عاقب مظفر پوری
30/5/2026

برقع تو اس لیے ہے کہ نظر جمیں نہیں
انہوں نے برقع پہنا کی نظریں ہٹیں نہیں

برقع بنا تھا حسن چھپانے کے واسطے
برقع ہے آج حسن دکھانے کے واسطے

برقعے رنگ رنگ کے اپنے دیار میں
عشاق کو بلاتے ہیں وہ کوئے یار میں

رو بہ زوال اب ہے شرافت بھی ہند میں
برقع پہ ہو رہی ہے سیاست بھی ہند میں

سر کھول کر ڈبیٹ میں کہتی تھی اینکر
برقع کیا ہے جیسے ہو پانی کا ٹینکر

برقع بھی طالبانی ہے اس کو ہٹائیے
روشن ہیں چہرے ان سے وطن جگمگائیے

ٹانگیں چھپی ہیں، پیٹ چھپا ،سر چھپا ہوا
برقع ہے یا کہ کار پہ پردہ پڑا ہوا

اکیسویں صدی میں بھی برقع کی بات ہو
باتیں کرو بھی ایسی کی امریکہ مات ہو

اک سر پھری نے مولوی صاحب سے کہہ دیا
برقع کی خوبیوں پہ بیاں خوب کر دیا

نازک بدن ہیں آپ بھی چہرہ کھلا ہوا
برقع جناب آپ نے کیوں نہ پہن لیا

عاقب بتائے کیا کیا برقع پہ جو ہوا
دشمن ہمارے برقعے کو سارا جہاں ہوا

21/8/18
نوٹ : یہ نظم برقع پر ایک ڈبیٹ دیکھنے کے بعد وجود میں آئی تھی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے