Ticker

6/recent/ticker-posts

میرا سفر ابھی باقی ہے : جدید ترین آزاد نظم

میرا سفر ابھی باقی

 ہے : جدید ترین آزاد نظم


میرا سفر ابھی باقی ہے

گزر رہی ہے عمر، پر جینا ابھی باقی ہے
جن حالاتوں نے پٹکا ہے زمین پر،
انہیں اٹھا کر جواب دینا ابھی باقی ہے!

چل رہا ہوں منزل کے سفر میں،
منزل کو پانا بھی باقی ہے!
کر لینے دو لوگوں کو چرچے میری ہار کے،
کامیابی کا شور مچانا ابھی باقی ہے!

وقت کو کر لینے دو منمانی،
میرا وقت آنا ابھی باقی ہے!
کر رہے ہیں سوال مجھے جو لوجر سمجھ کر،
ان سب کو جواب دینا ابھی باقی ہے!

نبھا رہا ہوں اپنا کردار زندگی کے اسٹیج پر،
پردہ گرتے ہی تالیاں بجنا ابھی باقی ہے! 
کچھ نہیں گیا ہاتھ سے ابھی تو،
ابھی تو زندگی میں بہت کچھ پانا باقی ہے!

گرا ہوں تو کیا سنبھلنا آتا ہے مجھے،
ٹھوکرے کھا کر بھی چلنا اتا ہے مجھے! 
اندھیرا کتنا بھی کہنا ہو رات کا،
صبح تک مسکرا کر چلنا اتا ہے مجھے!

لوگ کہتے ہیں تیرا ٹائم نہیں آۓ گا،
میں کہتا ہوں ٹائم اپنا بنانا آتا ہے مجھے!
خاموش ہوں تو یہ مت سمجھنا ہار مان لی،
شور سے زیادہ طوفان دبانا آتا ہے مجھے!

راکھ سے اٹھوں گا پھر فنکس کی طرح،
جو جل نہیں پاۓ وہ افسانہ لکھوں گا!
جن آنکھوں نے مجھے گرتے دیکھا ہے،
انہیں آنکھوں سے خود کو اٹھتا ہوا دکھاؤں گا!

ابھی تو اس شروعات ہے، اصلی کھیل باقی ہے،
جنہیں لگتا ہوں میں ختم، انہیں سمجھانا باقی ہے!

کافر ابلیسؔ



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے