Ticker

6/recent/ticker-posts

5 جون ماحولیاتی تحفظ کا عالمی دن - World Environment Day

5 جون ماحولیاتی تحفظ کا عالمی دن - World Environment Day


ہر سال 5 جون کو دنیا بہر میں عالمی یوم ماحولیات کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی نگرانی میں ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر ماحول بچاؤ کے لئے ماحولیاتی تحفظ، ماحول سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنا، اور ان کے حل کے لئے عملی اقدامات کی اہمیت پر زور دینا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیاں خاص طور پر پاکستان میں تیزی سے انسان کی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اور ان موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات انسانی صحت پر پڑ رہے ہیں۔ گرمی کے ان شدید اثرات سے بچنے کے لیئے ہمیں اپنی زندگی میں تبدیلیاں لانا ہوں گی، جن میں سب سے اہم قدم پائیدار اور محفوظ شجرکاری مہم کو فروغ دینا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ایک مثالی معاشرہ قائم کر کے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیئے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ ہم اپنے ملک کی سرزمین اور دنیا کو سرسبز اور خوشحال بنا سکیں۔عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی معیشت کا پندرہ فیصد حصہ ہر سال ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی نقصانات کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔ ماحول دوست زرعی پیداوار کے طریقےسکھانے کے لیئے عوامی آگاہی کی مہم شروع کرنا ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں پلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنا ہوگا تاکہ آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان میں مارچ، اپریل اور مئی کے مہینے تاریخ کے گرم ترین مہینے ثابت ہوتے ہیں۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس شدید گرمی کا اثر خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت پر بہت بُرا پڑا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو صرف حکومت کی ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ خود بھی آلودگی کو کم کرنے کے لیئے سرگرم کردار ادا کریں۔ اسی انسانی جذبے کے تحت، بہار فاؤنڈیشن اپنے محدود وسائل کے باوجود انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے خاص طور پر کراچی میں کئی سالوں سے شجرکاری مہم چلا رہی ہے۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سڑکوں، پارکوں اور بستیوں میں درخت لگائے جا رہے ہیں اور عوام کو ماحول کی اہمیت کے متعلق آگاہ بہی کیا جا رہا ہے۔ یہ شجرکاری مہم نہ صرف علامتی ہے بلکہ عملی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ بہار فائونڈیشن کی جانب سے اپیل، میڈیا گروپس، تعلیمی اداروں کے افسران، اور خاص طور پر ملک کے مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھنی چاہیئے کہ وہ اس پیغام کو عام کریں اور ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ آج کا انسان خاص طور پر سندھ کے رہائشیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، مگر اس کے باوجود ہم ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ بنانے کا پختہ عزم کرنا ہوگا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی زندگی کے طرز عمل میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرتی وسائل بھی محدود ہیں اور ان کا تحفظ حکومت اور ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عالمی یوم ماحولیات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پلاسٹک آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے، اگر ہم پلاسٹک کا استعمال چھوڑ دیں تو پلاسٹک آلودگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمیں ماحول دوست مصنوعات استعمال کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ آنے والی نسلیں ہماری اولادیں ہوں گیں۔ اگر ہم ان کا مستقبل محفوظ نہ بنا سکے تو ان کی تعلیم و تربیت پر خرچ کیا گیا وقت اور پیسہ بھی ضائع ہو سکتا ہے۔ اگر ہماری زمین محفوظ نہ رہی تو ہماری معیشت، کاروبار، اور معاشرتی ڈھانچے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اب سوچنے کا نہیں بلکہ عمل کرنے کا وقت ہے۔ کیا ہم اس کے لیئے تیار ہیں؟
رابطہ: محمد سچل ودہو
چیئرمین، بہار فاؤنڈیشن
📞 03007044125 / 03123342211

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے