نو سو آوازیں اور ایک بہرا شہر
دنیا کے ایک کنارے پر،
افریقہ کے گرم سانسوں میں لپٹی ایک شام
ایک پرانا تھیٹر جگمگا اٹھا۔
اسٹیج پر کینٹے کے شوخ رنگوں میں لپٹا
تیکن جاہ فکولی
اکیس سال پرانا گیت دوبارہ گانے کھڑا تھا۔
پہلے وہاں چند نوجوان اس کے ساتھ گاتے تھے—
مگر آج اس کے پیچھے
نو سو آوازیں کھڑی تھیں۔
ہر رنگ، ہر قبیلے، ہر خطے کے لوگ—
جیسے پوری دنیا کے مفلوک الحال اپنی بیبسی
ایک گیت میں انڈیلنے جمع ہو گئی ہو۔
گیت شروع ہوا۔
الفاظ دھرتی کی مٹی کی طرح
بھاری اور سچے تھے:
”مجھے اب حیرت نہیں ہوتی۔
طاقتور ہمیں تقسیم کرتے ہیں،
ہماری زمین بانٹ لیتے ہیں،
ہمارے وسائل لوٹ لیتے ہیں، اور کہتے ہیں—
یہ سب ترقی کے لیے ہے۔
ہم نے دھوکہ اتنا کھایا ہے کہ اب دھوکہ ہی حقیقت لگنے لگا ہے۔“
جیسے جیسے آوازیں بلند ہوئیں،
تھیٹر میں بیٹھے لوگوں نے
ایک عجیب سی لرزش اپنے اندر محسوس کی—
جیسے صدیوں کا غصہ
ایک لمحے میں سانس لے رہا ہو۔
یہ صرف گانا نہیں تھا—
یہ عالمی بے چینی کا بادل تھا
جو برسنے کو تیار تھا۔
یہ صرف ایک گانے کی سطر نہیں، اقتدار کی پرانی لغت کا خلاصہ ہے۔
طاقتور طبقے جانتے ہیں کہ متحد لوگ سوال کرتے ہیں، اور منقسم لوگ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔
اسی لیے وہ کبھی نسل کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی وطن اور غداری کے نام پر، اور کبھی سیاسی وفاداریوں کے نام پر لوگوں کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دیتے ہیں جس کے ایک طرف خوف ہوتا ہے اور دوسری طرف نفرت۔
وطنِ عزیز میں دیکھیے تو یہ گیت اور زیادہ تلخ سچ بن جاتا ہے۔
یہاں بھی اصل سوالات — مہنگائی، بے روزگاری، انصاف، آئین، اختیار کی غیر مساوی تقسیم، اشرافیہ کی لوٹ مار — کو پسِ پشت ڈال کر عوام کو شناختی جنگوں، مذہبی تعصبات، علاقائی سوچ، صوبائیت میں الجھا دیا جاتا ہے۔
یوں طاقتور محفوظ رہتے ہیں، اور عوام ایک دوسرے کے خلاف صف آرا۔
گویا وہی کھیل یہاں بھی جاری ہے:
ہمیں بانٹو تاکہ خود بچ سکو، ہمیں لڑاؤ تاکہ خود حکومت کر سکو۔
کاش یہ بات فارمی حکومت کے کلٹ فالوورز کو سمجھ آجاتی۔
خالد
0 تبصرے