Ticker

6/recent/ticker-posts

کون ہیں جو صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کہلاۓ

کون ہیں جو صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کہلاۓ



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

قرآن پاک سورہ ال عمران پارہ 3 آیت نمبر 31 ارشاد ربانی ہے
ترجمہ، " فرما دیجیۓ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرنی چاہتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرماۓ گا"۔

پس دین اسلام کی بنیاد ہی "حق سے الفتوں میں باوفا" رہنے پر رکھی گٸ ہے۔ کیونکہ دین اسلام اس دنیا میں ایا ہی "حق سچ کے ساتھ الفتوں کا درس" لیے ہے۔ جس نے انسانوں کو آہس میں محبت سے جینا سکھایا اور انکی اپس کی نفرتوں کا بھی خاتمہ کیا اور حقیقی الفتوں کو رواج دیا۔

 پس جس نے اس ہداٸیت کے اس آخری آسمانی پیام کو قبول کیا وہی سلامتی کا ضامن ٹھہرا اور مسلمان کہلایا۔ جس نے اللہ عزوجل واحد و لاشریک کی اطاعت اور اس کے محبوب پیمبرﷺ آخری نبی ﷺ کی رسالت و اطاعت پر بلا مشروط سر تسلیم خم کیا وہی فلاح پاگیا اور دونوں جہانوں میں کامیاب ہوا۔

اور انسان جس کا احسانمند اور شکر گزار ہوتا ہے اسی کا عقیدت مند اور طرفدار بھی ہوتا ہے اور پھر یہی عقیدت سچی الفت میں بدل جاتی ہے۔ حدیث پاکﷺ ہے کہ " تم اللہ عزوجل سے اس لیے محبت کرو کہ وہ تمہیں نعمتیں دیتا ہے اور مجھ سے اس لیے محبت کرو کہ میں اللہ کا محبوب ہوں اور میرےاہل بیت سے محبت کرو میریﷺ محبت کی وجہ سے"۔

پس اللہ کا بندہ فطری طور پراللہ سے محبت کرتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے اللہ عزوجل نے اپنے بندے کو اپنی طرف کا راستہ بھی بتا دیا ہے کہ اسے اس کے حبیب ﷺ سے سچی الفت و محبت سے اس کی اطاعت کرنا ہوگی۔ اور یہ طے ہے کہ الفت ہی سب سے بڑی طاقت ہے اس کے بنا اطاعت حق ممکن ہی نہیں ہے۔

دور رسالت ﷺ میں بھی کلمہ پڑھنے کے باوجود جو لوگ بھی سرکار دوعالم ﷺ کے سچے " وفادار ثابت" نہیں ہوتے تھے وہی منافقین کہلاۓ۔ اور منافقین کو کبھی بھی اہل ایمان میں شامل نہ کیا گیا بھلے منہ سے کلمہ پڑھیں اور ہاتھوں سے مسجد ضرار بناٸیں رب تعالی کی طرف سے انکے کافرانہ اعمال ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔

اس دور میں بھی منافقین کی جماعت الگ ہوتی تھی اور صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کی جماعت الگ ہوتی تھی ۔ایک جماعت کا شمار عشاقان رسالت ﷺ یعنی صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین میں ہوتا اور دوسری کا شمار مافقین میں ہوتا تھا جو ہمیشہ ہی درپردہ دین اسلام کے دشمن رہے اور اللہ کے احکامات اس کے نبی ﷺ کے دین اور سرکار دوعالم ﷺ کی ذات پاک کے خلاف درپردہ سازشوں ہی میں مصروف رہتے تھے۔

عبداللہ بن ابی سن منافقین کا سردار ،اس کے ساتھی اور اس کے ہم فطرت لوگ کبھی بھی صحابہ کی جماعت میں شمار نہیں کیے گۓ۔ اور نہ ہی انہیں کبھی مسلمان کہہ کر پکارا گیا کہ نمازوں میں شامل ہونے کے باوجود انکی بغلوں سے گرنے والے بتوں نے انکا کفر ظاہر کردیا۔

صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کا درجہ

صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کا درجہ پانے کے لیے دور رسالت ﷺ کے اہل ایمان کا بھی جہاں دیدار رسالت ﷺ سے فیضیاب ہونا لازم ہوتا ہے وہاں سرکار دوعالم ﷺ سے وفادار رہنا بھی لازم ثابت ہوتا ہے۔ "سرکار ﷺ کی شان و عظمت ، درجات و مراتب ، سربلندیوں اور اللہ رب العزت کی طرف سے خاص اعزازات" کے نوازے جانے سے بغض رکھنے والوں کا شمار آج بھی انہی منافقین ہی میں ہوتا ہے کہ جو جھوٹ کا ساتھ دیتے ہیں اور سچ کو بدل دیتے ہیں

یہاں تک کہ ۔وہ اپنی مرضی سے باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے قرآن کے ترجمے اور ان کے مفہوم تک کو بدل جاتے ہیں۔ اور اپنے پاس سے احادیث تک تراش لیتے ہیں اور اللہ عزوجل سے زرا بھی نہیں ڈرتے۔ ان کے ایمان کے یوں ضاٸع ہونے کی وجہ اللہ کے پیاروں سے بغض رکھنا ہی ہے جیسا کہ ابلیس نے کیا۔

پارہ 25 سورہ شوریٰ آیت نمبر 23 آیت مؤدت میں ارشاد ہوتا ہے
ترجمہ، " اے محبوب فرما دیجئے میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر فریبوں کی موت "۔

مسلم شریف کی حدیث پاک سے ان قریبیوں کی صاف طور پر وضاحت ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب اس آٸیت کا نزول ہوا تو صحابہ اکرام نے عرض کیا وہ کون سے قرابت دار ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر واجب ہے، فرمایا" وہ علی ہے فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے"۔

پس سرکار دوعالم ﷺ کے سب سے زیادہ قریبی آپ کے اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہ ہیں اور اس حوالے سے بے شمار تفاسیر اور احادیث میں یہ روایت موجود ہے۔ نبی پاکﷺ کے فرمان کے مطابق میری نسل میری بیٹی فاطمہ سے آگے چلے گی پس اسی لیے" وہ سب سید" یعنی زمانوں کے سردار کہلاۓ۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ،" جس نے نماز پڑھی اور روزہ رکھا حرم کعبہ میں مگر وہ میرے اہل بیت کا دشمن ہے وہ آگ میں داخل ہوگا"۔
(الشرف الموبد ص، 130)

پس جس جس نے بھی اللہ کے حبیب ﷺ کے پیاروں قرابت داروں گھروالوں اور پاکیزہ ساتھیوں سے راٸی برابر بھی بغض رکھا ، اختلاف کیا ،ان عظیم و مقدس ہستیوں کے خلاف دل میں نفرت کا ایک زرہ بھی پاس رکھا اس کے سینے سے ایمان خارج ہوگیا۔ اب اس کا کوئی نیک عمل بھی اسے نہیں بچا سکتا اور نہ ہی بارگاہ اقدس میں قبولیت کا کوئی درجہ پاسکتا ہے۔ چاہے کوئی سا دور بھی ہو اور ایمان کا دکھاوا کتنا بھی ہو بے ایمان تو بے ایمان ہی رہتا ہے۔

حیرت ہے ان بدنصیب مردہ ضمیروں پر جنہیں اللہ کے محبوب ﷺ کے پیاروں میں حق نظر نہیں آتا اور اللہ کے دشمنوں سے جاملے أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔ یہاں تک کہ اس دشمن دین یزید پلید کے ایمان کے گواہ بن گۓ جس نے کربلا کے میدان میں آلِ رسول کے خلاف علم بغاوت کو بلند کر کے اپنے لیے جہنم کا سودا کر لیا۔

اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق اس دنیا میں دو ہی فرقے ہیں ایک سچے اور دوسرا جھوٹے اور آلِ رسولﷺ کی حقانیت کو تو قرآن ثابت کر رہا ہے تب عقل کے اندھے ابلیس سے ہاتھ ملا کر اہل باطل سے جاملے اور اپنی تمام نسلوں کی بھی دنیا اور آخرت کو تباہ و برباد کردیا۔ پس ایسے لوگوں سے فاصلہ ازحد لازم ہے ورنہ ایمان جانے کا خطرہ ہے کیونکہ یہ اللہ کے نام کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرکے گمراہی پھیلاتے ہیں۔

پس صحابہ وہی کہلاۓ جنہوں نے نبی ﷺ اور آلِ نبیﷺ سے وفا نبھائی اور اس پر ثابت قدم رہے۔
جزاك اللهُ

ازقلم
نورالصباء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے