Ticker

6/recent/ticker-posts

شہیدانِ کربلا - Shaheedan e Karbala

شہیدانِ کربلا


لاکھوں میں بہتّر کا ہُنر بول رہا ہے
یہ ان کی شہادت کا اثر بول رہا ہے

مسکین ہیں بےبس ہیں، نہتّے ہیں مسافر
چہروں سے کہاں رنجِ سفر بول رہا ہے

اب اس سے زیادہ ہو کیا توہین یزیدا!
نیزے کی بلندی پہ بھی سر بول رہا ہے

سیراب میرے خوں سے ہوا دشتِ بلا سب
معصوم یہ پیاسے کا جگر بول رہا ہے

ماتم اسے کہتا ہے جو ماتم کی ہے توہین
دل ہے کہ یہ بے خوف وخطر بول رہا ہے

ہم سایہ ادھر بھوک سے مرنے کو ہے تیار
لنگر یہ مرے گھر میں اِدھر بول رہا ہے

مقصد یہ شہادت کا سمجھ پاتے جو نازاؔں
کہتے کہ یہ حق ہے جو بشر بول رہا ہے
______
جبیں نازاؔں
لکشمی نگر ، نئی دہلی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے