آگ میں گھی ڈالنا - سمجھداری اور نادانی
احمد اور عاصم دو بھائی تھے، جن کے درمیان ایک معمولی سی بات پر بحث ہو رہی تھی۔ بات صرف اتنی تھی کہ عاصم نے احمد کی پسندیدہ کتاب بغیر پوچھے کسی دوست کو دے دی تھی۔ احمد غصے میں تھا اور عاصم کو جلی کٹی سنا رہا تھا، جبکہ عاصم اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اپنی صفائیاں پیش کر رہا تھا۔
اتنے میں ان کا چچیرا بھائی، کامران، وہاں آ گیا۔ کامران کی عادت تھی کہ وہ سیدھی بات کو بھی الٹا کر کے پیش کرتا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یوں الجھتا دیکھ کر وہ معاملے کو سلجھانے کے بجائے احمد سے بولا:
”احمد بھائی! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ عاصم تو ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے۔ پچھلے ہفتے بھی اس نے آپ کی گھڑی خراب کر دی تھی اور آپ کو بتایا تک نہیں۔ یہ تو آپ کی شرافت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔“
کامران کی یہ بات سنتے ہی احمد کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ اس نے غصے میں آ کر عاصم کو زور سے دھکا دے دیا۔ کامران کی باتوں نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا تھا، جس کی وجہ سے ایک معمولی سی تکرار اب باقاعدہ ہتھا پائی میں بدل چکی تھی۔
ابھی بات مزید بگڑتی کہ ان کے دادا جان کمرے میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے صورتحال کو دیکھا تو فوراً دونوں بھائیوں کو الگ کیا۔ جب انہیں پوری بات معلوم ہوئی، تو انہوں نے احمد اور عاصم کو پیار سے سمجھایا کہ بھائیوں میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں، غصہ چھوڑو۔
پھر انہوں نے غصے سے کامران کی طرف دیکھا اور کہا:
”کامران! تم یہاں دو بھائیوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے بجائے آگ میں گھی ڈال رہے تھے۔ یاد رکھو، کسی کی لڑائی کو بڑھانا بہت بری عادت ہے۔ ایک اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو لگی ہوئی آگ کو بجھائے، نہ کہ اس میں گھی ڈال کر اسے اور بھڑکائے۔“
کامران کو اپنی غلطی پر شدید ندامت ہوئی اور اس نے آئندہ کے لیے توبہ کر لی، جبکہ دونوں بھائیوں نے بھی ایک دوسرے سے معذرت کر کے صلح کر لی۔
نصیحت آموز سبق
ہمیں لڑتے ہوئے لوگوں کے درمیان صلح کرانی چاہیے، نہ کہ ایسی باتیں کرنی چاہئیں جس سے ان کا غصہ اور لڑائی مزید بڑھ جائے۔
0 تبصرے