قرآن نے عیسائیوں کے بارے میں کہا:
”تم اہلِ ایمان کے لیے محبت میں سب سے قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں: ہم نصاریٰ ہیں؛ کیونکہ ان میں پادری اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے“ (المائدہ 5:82)۔
روم میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی گورننگ باڈی سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کی کہ دنیا کی ترجیحات بری طرح بگڑ چکی ہیں۔
پوپ لیو نے دنیا کے ضمیر پر ایک سخت دستک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے عالمی رہنما بھوکے انسانوں کے پیٹ بھرنے کے بجائے جنگوں کا پیٹ بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انسانی امداد سیاسی اور انتظامی رکاوٹوں میں الجھ کر سست پڑ جاتی ہے، مگر اسلحے، بارود اور فوجی اخراجات کے لیے خزانے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ : جہاں بھوک سے بلکتے انسان انتظار میں کھڑے ہیں، وہاں حکومتیں اپنے وسائل جنگی مشینری کی نذر کر رہی ہیں۔
اسلام نے تو اہلِ کتاب کے ساتھ ہر حال میں دشمنی کا نہیں، بلکہ انصاف، مکالمے اور خیر کے کاموں میں تعاون کا راستہ دکھایا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
تم اہلِ ایمان کے لیے محبت میں سب سے قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں: ہم نصاریٰ ہیں؛ کیونکہ ان میں پادری اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے” (المائدہ 5:82)۔
پوپ نے جنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے؛ کاش مکہ کا منبر بھی اس آواز میں اپنی آمین شامل کرے۔ اس لیے نہیں کہ چرچ اور مسجد ایک عقیدے پر ہیں، بلکہ اس لیے کہ بھوک کا مذہب ایک ہے، آنسو کی زبان ایک ہے، اور غزہ، لبنان، ایران کے جنگ کے ملبے تلے دبے بچے کا درد کسی فقہی سرحد کا پابند نہیں۔ قرآن نے اہلِ کتاب سے مکالمہ بھی سکھایا ہے اور نیکی کے کام میں تعاون بھی۔ پھر اگر ایک طرف ویٹیکن بھوک کے حق میں بول رہا ہو اور دوسری طرف مسلم دنیا کے منبر خاموش رہیں، تو یہ خاموشی صرف سیاسی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔دنیا کو آج مناظرے نہیں، ضمیر کی مشترک گواہی چاہیے — ایک ایسی گواہی جس میں پوپ کی آواز بھی ہو اور امامِ کعبہ کی بھی۔
خالد
0 تبصرے