Ticker

6/recent/ticker-posts

آپے سے باہر ہونا : شرافت کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے

آپے سے باہر ہونا : شرافت کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے

  
ماجد اپنے محلے میں ایک سنجیدہ اور بردبار انسان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ ہر مشکل بات کو مسکرا کر ٹال دیتا تھا، اسی لیے لوگ اس کی شرافت کی مثالیں دیتے تھے۔ لیکن دوسری طرف اس کا پڑوسی، نوید، ایک جھگڑالو اور حاسد شخص تھا جو اکثر ماجد کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔
ایک دن، ماجد نے اپنے گھر کے سامنے ایک خوبصورت چھوٹا سا پودا لگایا۔ وہ روزانہ اسے پانی دیتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا۔ چند ہی دنوں میں اس پودے پر خوبصورت رنگ برنگے پھول کھلنے لگے۔ اگلی صبح جب ماجد باہر نکلا، تو اس نے دیکھا کہ پودا جڑ سے اکھڑا ہوا گلی میں پڑا ہے اور نوید ہاتھ میں جھاڑو لیے کھڑا مسکرا رہا ہے۔

ماجد نے گہرا سانس لیا اور تحمل سے پوچھا، "نوید بھائی، یہ پودا کس نے اکھاڑا؟"
نوید نے طنزیہ لہجے میں کہا، "میں نے اکھاڑا! میری گلی میں یہ فالتو چیزیں مجھے پسند نہیں۔"
اتنا سننا تھا کہ ماجد، جو ہمیشہ خاموش رہتا تھا، آپے سے باہر ہو گیا۔ اس کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، اس نے نوید کا گریبان پکڑ لیا اور گرج دار آواز میں کہا، "نوید! میری شرافت کو میری کمزوری مت سمجھو۔ اگر دوبارہ میرے کسی کام میں مداخلت کی، تو انجام بہت برا ہوگا!"
نوید نے کبھی ماجد کا یہ رخ نہیں دیکھا تھا۔ وہ اسے اس طرح آپے سے باہر دیکھ کر بری طرح ڈر گیا اور کانپتے ہوئے فوراً معافی مانگ کر وہاں سے بھاگ گیا۔

نصیحت آموز سبق

 
اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا صبر اور شرافت اس کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے، لیکن جب کوئی بار بار حد پار کرنے کی کوشش کرے تو انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا اور آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ کہانی میں ماجد ایک پرسکون شخص تھا، لیکن پڑوسی نوید کی مسلسل بدتمیزی اور اس کے پودے کو نقصان پہنچانے پر وہ شدید غصے میں آ گیا (آپے سے باہر ہو گیا)۔ اس واقعے سے نوید کو اس کی غلطی کا احساس ہوا اور ماجد کو یہ سمجھ آیا کہ کبھی کبھی اپنے دفاع میں سخت رخ اختیار کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے