Ticker

6/recent/ticker-posts

خصوصی رپورٹ و تجزیہ: کشمیر کی سنگین صورتحال اور راولہ کوٹ دھرنے کا آنکھوں دیکھا حال

خصوصی رپورٹ و تجزیہ: کشمیر کی سنگین صورتحال اور راولہ کوٹ دھرنے کا آنکھوں دیکھا حال


افشاں کیانی


✍️ تحریر و تجزیہ: افشاں کیانی
(وائس چیئر پرسن، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان)

ناکوں پر سختیاں اور خوراک و ادویات کی بندش
ایک اہم سماجی ذمہ داری اور امن مشن کے تحت، جناب جاوید راٹھور صاحب کی قیادت میں چار رکنی وفد—جس میں جناب شفیق بٹ، راجہ ذوالفقار روشن اور میں (افشاں کیانی) شامل تھے—کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے روانہ ہوا۔ ہمارا مقصد وہاں کے اصل حالات کا مشاہدہ کرنا اور عوامی رویوں کو سمجھنا تھا۔
سفر کے آغاز میں ہی پاکستان سے آزاد کشمیر کے داخلی راستے (اینٹری پوائنٹ) آزاد پتن پر ہمیں شدید سفری اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ناکے پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے ہماری گاڑی روک کر تفصیلی تلاشی لی اور ہمیں بتایا گیا کہ:
"اوپر سے سخت احکامات ہیں کہ خطے میں کسی بھی قسم کی خوراک، راشن، گندم (جو فلور ملز کے لیے جاتی ہے) اور ادویات لے جانے والے ٹرکوں یا گاڑیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے۔"
جب ہمارے وفد نے اس انسانیت سوز رویے پر احتجاج کیا اور یاد دلایا کہ ایسی سختیاں تو موجودہ دور میں غزہ یا اسرائیل جیسے شدید جنگی علاقوں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتیں، تو ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض احکامات کے پابند ہیں۔ ہم نے مقامی باسی ہونے کے ناطے انہیں نرمی کی اپیل کی، جس پر انہوں نے حامی تو بھری، مگر زمینی حقائق انتہائی تلخ تھے۔
🛣️ پرخار راستے اور دھرنے کا پرامن ماحول
بڑے راستوں کی بندش کے باعث، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگ ہمیں انتہائی چھوٹے، کچے اور پرخار راستوں سے گزار کر دریک میں جاری مرکزی دھرنے کی طرف لے گئے۔ پورے راستے میں ہم نے عوامی ردعمل کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔
حکومتی دعووں کے برعکس، مقامی لوگ انتہائی پرامن تھے۔ راستے میں جگہ جگہ قائم عوامی ناکوں پر کھڑے شہریوں کے ہاتھوں میں نہ تو کوئی اسلحہ تھا اور نہ ہی کوئی لوہے کے راڈ یا اوزار۔ وہ اپنے حقوق کے لیے پرعزم نظر آئے۔ کہیں کہیں سڑکوں کے درمیان کٹے ہوئے درخت ضرور موجود تھے، لیکن انہیں سائیڈ پر کر کے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے باقاعدہ راستہ دیا گیا تھا، جس سے واضح تھا کہ وہ عام عوام کو تنگ نہیں کرنا چاہتے۔
دھرنے کے مقام تک پہنچتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی معطلی یا محدود دستیابی کے باعث لوگ موبائل فونز میں گم ہونے کے بجائے آپس میں مصروفِ گفتگو تھے۔ ہر شخص موجودہ ملکی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہا تھا، معلومات کا تبادلہ ہو رہا تھا اور لوگ انتہائی الرٹ تھے۔
🍲 'اپنی مدد آپ' اور انتظامیہ کا مبینہ تشدد
ایکشن کمیٹی کے رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت بڑے بڑے دیگچے چڑھا کر ہزاروں لوگوں کے لیے لنگر اور کھانے پینے کا انتظام کر رہے تھے۔ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ کب سے جاری ہے، تو انہوں نے بتایا کہ دھرنے کے پہلے دن سے یہ لنگر چل رہا ہے اور مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
تاہم، ان رضاکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے اور ویڈیو نہ بنانے کی شرط پر جو حقائق بتائے، وہ دل دہلا دینے والے ہیں:
حکومتی کریک ڈاؤن: دھرنے کو اکھاڑنے کے لیے جب بھی کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے، تو مظاہرین پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان کا راشن اور سامان چھین لیا جاتا ہے۔
سنگین الزامات: پرامن شہریوں پر کالعدم تنظیموں سے وابستگی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، جبکہ ان کا تعلق کسی سیاسی یا عسکری تنظیم سے نہیں بلکہ وہ عام شہری ہیں جو انسانی ہمدردی کے تحت بھوکے لوگوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔
نفرت کا پھیلاؤ: ایک مقامی بزرگ نے بتایا کہ وہ پہلے دھرنے کے حامی نہیں تھے، لیکن انتظامیہ کے بلاوجہ کے تشدد، شہریوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور سوشل میڈیا پر حقائق شیئر کرنے پر ان کے تین نوجوان بیٹوں کو زبردستی اٹھا کر لاپتہ کرنے جیسے ہتھکنڈوں نے انہیں دھرنے کا حامی بنا دیا۔ اب ان کی گھر کی خواتین اپنے بچوں کی بازیابی کے لیے دھرنے میں بیٹھی ہیں۔
👥 دھرنے کا آنکھوں دیکھا حال جہاں دو چار ہزار لوگوں کا کہا جا رہا تھا، اور ہم بھی اس کا حال جاننا چاہ رہے تھے ہم نے اپنی آنکھوں سے وہاں 50 سے 60 ہزار سے زائد کا مجمع دیکھا۔ اس کثیر تعداد میں خواتین، بوڑھے اور بچے بھی شامل تھے۔ پنڈال کا نظم و ضبط دیدنی تھا:
خواتین کا احترام: مردوں نے مرکزی پنڈال کی جگہ خواتین کے لیے چھوڑ دی تھی اور خود چاروں طرف باقاعدہ حصار بنا کر کھڑے تھے۔ سیکورٹی اور انتظامیہ کے فرائض خود دھرنے کے نوجوان سرانجام دے رہے تھے۔
مثالی امن و امان: ہم نے وہاں تقریباً 4 گھنٹے گزارے۔ اس دوران نہ تو خواتین سے بدتمیزی کا کوئی واقعہ پیش آیا، نہ چوری چکاری یا موبائل چھیننے کی کوئی واردات ہوئی، اور نہ ہی کسی پٹاخے کے پھٹنے کی آواز آئی۔ نظم و ضبط ایسا تھا کہ بڑے شہروں کے سیاسی جلسے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ مخمل کے بستر چھوڑ کر اس شدید موسم میں گھاس، جنگل اور بیابانوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، جو ان کے مصمم ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔
🤝 ایکشن کمیٹی کی قیادت سے ملاقات اور مطالبات
دھرنے کے بعد، قائدین کی دعوت پر ہم قریبی عمارت میں گئے جہاں مظفرآباد کے علاوہ تمام اضلاع کے مرکزی نمائندگان موجود تھے۔ جناب عمر نذیر، اور کوٹلی کے خواجہ مہران صاحب سمیت تمام قیادت سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ان کے مطالبات بنیادی انسانی حقوق پر مبنی ہیں:
پرانے وعدوں کی بحالی: حکومت نے 5 تاریخ سے پہلے جو وعدے کیے تھے، انہیں بحال کیا جائے۔
انتقامی کارروائیوں کا خاتمہ: 5 تاریخ کے بعد کے ان احکامات کو واپس لیا جائے جن کے تحت تحریک کو کالعدم قرار دیا گیا، پرامن شہریوں پر ایف آئی آرز کاٹی گئیں اور انہیں فورتھ شیڈول میں ڈالا جا رہا ہے۔
شہدا اور لاپتہ افراد: دھرنے کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی میتیں حوالے کی جائیں اور مسنگ پرسنز (لاپتہ افراد) کو فوری رہا کیا جائے۔
جب وفد کے سربراہ جناب جاوید راٹھور صاحب نے انہیں عوامی مشکلات کے پیش نظر دکانیں اور کاروبار کھولنے کی تجویز دی، تو عمر نذیر صاحب نے واضح کیا کہ:
"ہم نے کبھی دکانیں بند کرنے یا خوراک روکنے کا حکم نہیں دیا۔ لیکن تاجر برادری اور عوام نے انتظامیہ کے اس رویے کے خلاف خود ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ جو بھی دکان کھولتا ہے، انتظامیہ اسے ایکشن کمیٹی کا حامی قرار دے کر اٹھا لیتی ہے اور ہسپتالوں میں زخمیوں کو علاج تک کی سہولت نہیں دی جا رہی۔"
رہائش کے معاملے پر، ہم نے کسی مقامی شہری کو مشکل میں ڈالنے کے بجائے ایک اوورسیز کشمیری کے خالی گھر میں قیام کیا تا کہ ہماری وجہ سے کسی کو بھی مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے۔
(احباب ذی وقار اس رپورٹ میں تمام حال احوال پہلے دن کا ہے ۔جب ہم نے اسلام آباد سے راولاکوٹ دھرنے کا رخ کیا اب دوسرے دن جب ہماری حکومتی نمائندگان سے رابطہ ہوا اور پھر ہم نے حکومت کا موقف بھی لیا اور اس میں ہم نے ان کو کس طرح کا پایا اور کتنا انہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا وہ بھی آپ تک پہنچایا جائے گا اور وہ سب ایک سرپرائزڈ تھا )
🕊️ رحم، انصاف اور امن کی اپیل
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے، دھرنے کے ان تمام حقائق، عوامی عزم اور انتظامیہ کے سنگین رویوں کا تجزیہ کرنے کے بعد، ہم ریاستِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر اور تمام مقتدر حلقوں سے انسانیت اور رحم کی بنیاد پر پرخلوص اپیل کرتے ہیں:
خوراک اور ادویات کی بندش کا فوری خاتمہ: راولہ کوٹ اور دیگر اینٹری پوائنٹس پر گندم، راشن کی سپلائی پر عائد پابندی فوری ختم کی جائے۔ کسی بھی خطے کے شہریوں کو بھوکا رکھنا یا بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ: یہ عوام باغی نہیں، بلکہ اپنے جائز حقوق، آٹے اور بجلی پر سبسڈی، اور اپنے لاپتہ پیاروں کی واپسی کے لیے سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ گولی، لاٹھی اور تشدد نے ہمیشہ نفرتوں کو جنم دیا ہے۔ انتظامیہ انتقامی کارروائیاں بند کرے۔
لاپتہ افراد کی رہائی اور مقدمات کا خاتمہ: پرامن شہریوں پر درج جھوٹے مقدمات اور فورتھ شیڈول کے احکامات واپس لیے جائیں اور حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کر کے امن کا موقع دیا جائے۔
🚨 فیلڈ مارشل آرمی چیف صاحب سے دردمندانہ اپیل خطے کی اس حساس اور درپیش سنگین صورتحال پر آپ کی فوری اور دردمندانہ توجہ درکار ہے۔ کشمیر کے غیور اور پرامن عوام کو مزید دیوار سے نہ لگایا جائے، اس سے پہلے کہ حالات مکمل طور پر ہاتھ سے نکل جائیں، رحم اور انصاف کی پالیسی اپنائی جائے۔
بین الاقوامی اداروں اور ریڈ کریسنٹ امن کے داعیوں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے اس طرف خصوصی توجہ کی اپیل ہے! خوراک اور ادویات کی بندش پر ریڈ کریسنٹ کدھر ہے؟ انسانی حقوق کی دیگر ذمہ دار تنظیمیں کہاں ہیں؟ اس انسانی بحران پر خاموشی توڑی جائے۔

Search keywords

Kashmir Crisis
Rawala kot Dharna
Human rights violation
Awami Action Committee
Rawalakot
Kashmir Bleeds
Right To Food
Missing Persons Kashmir
Afshan kiani
Human Rights Council Pakistan

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے