Ticker

6/recent/ticker-posts

آسمان سر پر اٹھانا : افراط و تفریط کی گرم بازاری

آسمان سر پر اٹھانا : افراط و تفریط کی گرم بازاری


جب مولانا سلمان حسینی ندوی (اللہ تعالیٰ ان کے سیئات کو حسنات میں بدل کر بال بال مغفرت فرمائے) کے انتقال کی خبر پھیلی تو ان کے شاگردوں، عقیدت مندوں اور اہلِ علم میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف ان کی علمی، دینی اور اصلاحی خدمات کا تذکرہ ہونے لگا۔ مدارس، مساجد اور علمی حلقوں میں تعزیتی اجتماعات منعقد ہوئے اور ان کے سابقہ بیان کو لے کر لوگ ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگے۔
ایک طالب علم نے اپنے استاد سے کہا: "حضرت! ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سب لوگ اسی خبر میں مشغول ہیں۔"
استاد نے جواب دیا: "جب کسی عظیم شخصیت کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو اہلِ علم کا غم فطری ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ گویا اس خبر نے آسمان سر پر اٹھا لیا، یعنی ہر طرف انہیں کا چرچا اور گہرا اثر ہے۔"
استاذ نے مزید نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بڑی شخصیات کی قدر ان کی زندگی ہی میں کرنی چاہیے اور ان کے علم و عمل سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، ان کے قول و عمل میں تضاد ہو اور لگے کہ حدیث، قرآن اور صحابہ کرام کے تعلق سے ان کی زبان لغزش کررہی ہے یا ان کا توازن بگڑ رہا ہے تو زندگی میں ہی ان سے بیٹھ کر حل تلاشنا چاہیے، اگر ان کی رائے اکابرین کی راۓ سے مختلف ہوتو اہل علم کے ساتھ رجوع کرکے ان کو مطمئن کرنا چاہیے نہ کہ ان کے انتقال کے بعد طوفان بدتمیزی.

نصیحت

"آسمان سر پر اٹھانا" کا مطلب ہے کسی بات پر بہت زیادہ شور و غوغا مچ جانا یا ہر طرف اسی بات کا چرچا ہونا۔ اس کہانی میں یہ محاورہ ایک عظیم عالم کے انتقال پر اہلِ علم اور وابستگان کے شدید غم اور وسیع ردِ عمل کو مجازی انداز میں بیان کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے