کشمیر کے موجودہ حالات، قومی ذمہ داری اور مثبت سیاسی کردار کی ناگزیر ضرورت
آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک نہایت حساس، نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت، حکومتی نمائندگان، مذہبی رہنما اور قومی شخصیات پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل، بیانات اور سیاسی حکمتِ عملی میں تحمل، بردباری، دوراندیشی اور قومی مفاد کو ہر قسم کے ذاتی، جماعتی اور سیاسی مفادات پر فوقیت دیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر کا تعین جذباتی نعروں، محاذ آرائی اور سیاسی کشمکش سے نہیں بلکہ دانشمندانہ قیادت، اجتماعی بصیرت اور قومی یک جہتی سے ہوتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں جبکہ مختلف سیاسی و عوامی حلقوں کے درمیان تناؤ اور بے اعتمادی کی فضا محسوس کی جا رہی ہے، یہ امر انتہائی حوصلہ افزا اور قابلِ ستائش ہے کہ جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ کاوشوں کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے اندر مفاہمت، سنجیدگی اور مثبت پیش رفت کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف سیاسی بلوغت اور جمہوری شعور کی عکاس ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ دیرپا اور پائیدار حل ہمیشہ مکالمے، افہام و تفہیم، باہمی احترام اور اعتماد سازی کے ذریعے ہی ممکن ہوتے ہیں۔
کشمیری عوام بالخصوص انجینئر حافظ نعیم الرحمن کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے جماعتی وابستگیوں اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مدبر، بالغ نظر اور قومی رہنما کا کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جب قیادت اخلاصِ نیت، سیاسی بصیرت اور قومی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو پیچیدہ ترین مسائل کے حل کے دروازے بھی کھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے بادل چھٹنے لگتے ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اگر آغاز ہی سے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان ایسے سنجیدہ، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد رہنماؤں کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جاتا تو آج پیدا ہونے والی بہت سی پیچیدگیاں، تلخیاں اور غلط فہمیاں جنم نہ لیتیں۔ ہر مسئلے کو محض سیاسی زاویے سے دیکھنا یا اسے وقتی سیاسی مفادات کے تابع کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ طرزِ عمل ہے بلکہ بعض اوقات اس سے مسائل مزید پیچیدہ اور گھمبیر صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت ذاتی ترجیحات اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست، عوام اور قومی یکجہتی کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ کشمیر جیسے حساس اور اہم قومی معاملے میں ذمہ دارانہ گفتگو، برداشت، رواداری اور عوامی جذبات کے احترام کو فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور سیاسی ہم آہنگی کی فضا کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
کشمیر کے مسائل کا پائیدار اور قابلِ قبول حل تصادم، کشیدگی اور محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مکالمے، اتفاقِ رائے، سیاسی بصیرت، باہمی احترام اور مثبت قیادت میں مضمر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی، قومی مفادات کے تحفظ، جمہوری اقدار کے فروغ اور ریاستی استحکام کی مضبوط ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ موجودہ حالات ہم سب سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ اختلاف کے بجائے اتفاق، تصادم کے بجائے مکالمہ اور انتشار کے بجائے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیا جائے تاکہ کشمیر امن، ترقی، خوشحالی اور سیاسی استحکام کی منزل کی جانب مضبوطی سے آگے بڑھ سکے۔
0 تبصرے