Ticker

6/recent/ticker-posts

اگر نادر ہے تو قادر بھی ہے

اگر نادر ہے تو قادر بھی ہے


تحریر: فہد خٹک
افغانستان میں ایک بادشاہ گزرا جس کا نام نادر تھا۔ وہ نہایت ظالم، جابر اور اپنی طاقت کے نشے میں مست رہنے والا حکمران تھا۔ اسے اپنی سلطنت اور اقتدار پر اتنا غرور تھا کہ وہ لوگوں کی عزت، جان اور مال کو بھی اپنی مرضی کے تابع سمجھتا تھا۔
ایک دن وہ اپنے لشکر کے ساتھ گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نہایت خوبصورت عورت پر پڑی۔ وہ عورت اسے پسند آ گئی۔ اس نے اپنے درباریوں سے پوچھا: "یہ عورت کس کی بیوی ہے؟" عرض کیا گیا: "حضور! یہ ایک ترکھان کی بیوی ہے۔"
یہ سنتے ہی بادشاہ نے حکم دیا کہ اس ترکھان کو فوراً دربار میں حاضر کیا جائے۔ جب وہ حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا: "میں تمہیں ایک رات کی مہلت دیتا ہوں۔ صبح تک میرے لیے ایک من لکڑی کا بورا تیار کرو، ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔"
ترکھان یہ حکم سن کر سخت پریشان ہو گیا، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ بادشاہ کی نیت اس کی بیوی پر تھی اور وہ اسے راستے سے ہٹانے کی سازش کر رہا تھا۔
وہ غمگین دل کے ساتھ گھر واپس آیا۔ اس کے چہرے سے پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔ اس کی بیوی نے پوچھا: "آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟"
ترکھان نے سارا واقعہ سناتے ہوئے کہا: "بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ صبح تک ایک من لکڑی کا بورا تیار کروں، ورنہ مجھے قتل کر دیا جائے گا۔"
اس کی نیک اور اللہ پر کامل یقین رکھنے والی بیوی نے بڑے اطمینان سے کہا:
"اتنی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ اگر نادر ہے تو قادر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔"
ترکھان کو بیوی کی بات سے کچھ حوصلہ تو ملا، مگر رات پھر بھی بے چینی، فکر اور دعا میں گزری۔
صبح ہوئی تو اچانک بادشاہ کے سپاہی اس کے دروازے پر پہنچ گئے۔ ترکھان گھبرا کر باہر نکلا اور پوچھا:
"کیا بادشاہ مجھے معاف کر دے گا؟"
سپاہیوں نے جواب دیا:
"اللہ کے بندے! پریشان نہ ہو۔ رات بادشاہ کو دل کا دورہ پڑا اور وہ مر گیا ہے۔ اب جلدی سے اس کے لیے تابوت تیار کرو، تاکہ اسی میں اسے رکھا جا سکے۔"
یہ سن کر ترکھان کی آنکھوں سے شکر کے آنسو بہنے لگے۔ اسے اپنی بیوی کے وہ الفاظ یاد آ گئے:
"اگر نادر ہے تو قادر بھی ہے۔"
واقعی، دنیا کا ہر ظالم اپنی طاقت پر ناز کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کسی کا زور نہیں چلتا۔ جب اللہ کا فیصلہ آ جاتا ہے تو بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ایک لمحے میں بے بس ہو جاتا ہے۔ ظلم زیادہ دیر قائم نہیں رہتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سب سے مضبوط ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے