Ticker

6/recent/ticker-posts

دعائے مغفرت اور نماز جنازہ کی اجازت

کیا گستاخان صحابہ کے لئے دعائے مغفرت اور نماز جنازہ کی اجازت ہے؟


سلمان حسینی ندوی صاحب دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے کہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے پر چند کلمات لکھوں، مگر نہ جانے کیوں دل کو اطمینان نہیں ہورہا۔ ان کے حق میں دعائے مغفرت یا کلمۂ خیر کہنے سے دل اس لیے گریزاں ہے کہ انہوں نے اپنی حیات کے آخری چند برسوں میں جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،بالخصوص جلیل القدر صحابی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی شان میں زہر افشانی کی اور انتہائی جارحانہ انداز اختیار کرکے دروغ گوئی سے کام لیا،وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

ان واقعات کے پیشِ نظر یہ سوال ذہن میں شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا ایسی صورت میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کی کوئی گنجائش نکلتی ہے؟اور کیا گستاخان صحابہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت ہے؟ چونکہ ان کے آخری ایام میں ان کی توبہ و استغفار کے احوال عوام الناس کے علم میں نہیں ہیں،تو کیا اس مشتبہ صورتِ حال میں مفتیانِ عظام ان کی نمازِ جنازہ پڑھنے کی اجازت مرحمت فرماتے ہیں؟مفتیان کرام سے توجہ کی درخواست ہے،امید کہ رہنمائی فرمائیں گے۔
منقوول

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے