Ticker

6/recent/ticker-posts

احسان کا بدلہ نصیحت آموز کہانی - Ahsaan Ka Badla Nasihat Amoz Kahani

احسان کا بدلہ نصیحت آموز کہانی


خالد نام کا ایک غریب اور محنتی کسان تھا۔ ایک سال اس کے گاؤں میں شدید قحط پڑا، تمام فصلیں برباد ہو گئیں اور خالد کے گھر میں نوبت فاقوں تک آ پہنچی۔ اس کی جوان بیٹی شدید بیمار ہو گئی، لیکن اس کے پاس دوا تو دور، کھانے کے لیے ایک نوالہ بھی نہ تھا۔ وہ مایوس ہو کر گاؤں کے ایک رحم دل اور شریف استاد، احمد صاحب کے پاس گیا۔

احمد صاحب خود بہت امیر نہیں تھے، لیکن انہوں نے جب خالد کی حالت دیکھی تو بغیر کچھ سوچے اپنی جمع پونجی خالد کے ہاتھ پر رکھ دی اور کہا، "خالد بھائی ! پہلے بیٹی کا علاج کرواؤ اور گھر کا راشن لاؤ۔ پیسے کی فکر مت کرنا، یہ جب ہوں تب لوٹا دینا۔"

احمد صاحب کی اس مدد سے بیچارے خالد کی بیٹی کی جان بچ جاتی ہے اور اس کا پریوار اجڑنے سے بچ جاتا ہے۔ خالد کے دل میں احمد صاحب کے لیے بے پناہ عزت اور شکر گزاری کا سمندر امڈ آیا۔

کچھ سال گزر گئے، خالد کے دن پھر گئے اور احمد صاحب بوڑھے ہو گئے۔ ایک دن احمد صاحب شدید بیمار ہو گئے اور ان کا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں تھا۔ جیسے ہی یہ خبر خالدکو ملی، وہ اپنا سب کام کاج چھوڑ کر احمد صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے دن رات ایک کر کے احمد صاحب کی خدمت شروع کر دی۔ وہ انہیں وقت پر دوا دیتا، ان کے پاؤں دباتا اور ہر ضرورت کا خیال رکھتا۔
 
 جب احمد صاحب کچھ بہتر ہوئے تو انہوں نے شرمندگی سے کہا، "خالد بھائی! تم کیوں اپنا کام چھوڑ کر میرے لیے اتنی زحمت اٹھا رہے ہو؟"

خالد نے ہاتھ جوڑ کر اور آنکھوں میں آنسو لا کر انتہائی عاجزی سے جواب دیا:

احمد صاحب! آپ نے اس وقت میری بیٹی کی جان اور میری عزت بچائی تھی جب سب نے منہ پھیر لیا تھا۔ آپ کا مجھ پر وہ احسان ہے کہ اگر میں عمر بھر آپ کے پاؤں دھو دھو کر بھی پیوں، تو بھی آپ کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محسن کی قدر اور اس کا احترام انسان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، اور سچی شکر گزاری میں ہی انسان کی اصل بڑائی ہوتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے