Ticker

6/recent/ticker-posts

بخدمت مخلص قائدین ملت - Ba Khidmat Mukhlis Qaideen e Millat

بخدمت مخلص قائدین ملت

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مخلص قائدین ملت،
ابھی میں ایک میڈیا نیوز چینل پر سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب صاحب کا انٹرویو سن رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر دہلی میں ملک بھر کے قائدین، علما، دانشوران اور سیاسی و سماجی لیڈران کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ہم نے دیکھا کہ جب انڈین مسلم فور سول رائٹس کے تحت دہلی میں اسی طریقے کا کانفرنس ہوا تھا تو اس میں مختلف علما، قائدین ملت اور سیکولر سیاسی جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ نے بہت بے باک طریقے سے گفتگو کی تھی۔

اس کا ایک اثر بھی دیکھنے کو ملا اور چند دنوں کے بعد پارلیمنٹ کے سیشن میں اپوزیشن کی سیاست اور اقلیتی مسائل پر گفتگو کے انداز میں تبدیلی محسوس کی گئی۔

یقیناً اس طرح کے اجتماعات مثبت اثر ڈالتے ہیں اور امید ہے کہ موجودہ کوششوں کا بھی مثبت اثر ہوگا۔

ملک میں بہت سے قائدین ایسے ہیں جن کی اپنی کوئی بڑی تنظیم نہیں ہے لیکن عوام میں ان کا اثر ہے۔ وہ کوشش کرتے رہتے ہیں، دورے کرتے ہیں، عوام تک بات پہنچاتے ہیں، لیکن چونکہ ان کے پاس بڑا ادارہ نہیں ہوتا اس لیے لوگ سنتے تو ہیں مگر عمل کم کرتے ہیں۔

دوسری طرف بڑی تنظیمیں بھی اپنے طور پر کام کر رہی ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام قائدین ملت بیٹھیں، ترجیحات متعین کریں اور ان تمام محاذوں کی نشاندہی کریں جہاں عملی کام کی ضرورت ہے۔

ملک میں ہونے والے ظلم، نفرت پر مبنی جرائم، سماجی و سیاسی چیلنجز اور مختلف نوعیت کے واقعات کا مستقل ڈاکومنٹیشن ہونا چاہیے۔ اس کام کیلئے آبجیکٹیو اسٹڈیز جیسے ادارے کو زندہ کیا جائے یا نئے ادارے بنائے جائیں 

اسی طرح عوام تک پیغام پہنچانے کا سوال بہت اہم ہے۔ کیا جمعیت کے بیانات، جماعتوں کی اپیلیں، دانشوروں کا درد، قائدین کی گفتگو واقعی عوام تک پہنچ رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر پیغام محدود حلقے تک رہ جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مضبوط میڈیا ڈھانچہ نہیں ہے۔

مین اسٹریم میڈیا اگر آپ کی چیزوں کو پیش کرتا بھی ہے تو اکثر اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ مسلمان بھلے آپ کی بات کو منفی نہ لے لیکن اس کے ذہن میں یہ بات آنے لگتی ہے کہ فلاں مولانا کو یہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا، فلاں قائد کو یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی، کیونکہ میڈیا اس کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ لگتا ہے جیسے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا میں بھی جو خود کو متبادل یا سیکولر میڈیا کہتے ہیں، ان کے بھی اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں۔ وہ بھی ہر مسئلے کو اپنی ترجیحات کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے نہ وہ آپ کا پیغام آپ کے عوام تک پوری طرح پہنچاتے ہیں اور نہ پہنچا پاتے ہیں۔

جو مسلم یوٹیوبرز اور مسلم میڈیا پلیٹ فارمز کام کر رہے ہیں، ان کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ضرورت کے مطابق بہت کم کام ہو پا رہا ہے۔ اور جو ہو رہا ہے، اس کا بڑا حصہ تعمیری ہونے کے بجائے صرف ردعمل پر مبنی یا ہنگامہ خیزی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوم کے اندر بیداری و خود اعتمادی پیدا ہونے کے بجائے خوف بڑھتا ہے۔

ضرورت اس بات کی تھی کہ میڈیا قوم کو خود اعتمادی دیتا، قوم کے سامنے صرف منفی خبریں نہیں بلکہ امید اور رہنمائی کی خبریں بھی لاتا۔

ایسی خبریں سامنے آتیں:


- جو حوصلہ پیدا کریں
- جو اعتماد بحال کریں
- جو لیڈرشپ سے جوڑیں
- جو قانونی آگاہی دیں
- جو عدالتوں کے مثبت فیصلے عوام تک پہنچائیں
- جو تعلیم، تجارت، سیاست، معیشت، سماج اور خاندان کے مسائل پر رہنمائی دیں
- قوم کے اندر سائنسی اور فکری مزاج پیدا کیا جائے۔
- مذہبی تعلیمات کو نئے زمانے کی زبان میں پیش کیا جائے۔

لیکن یہ سب اس وقت نہیں ہو پا رہا کیونکہ میڈیا ہاؤسز کے پیچھے مضبوط تھنک ٹینک، معاشی سپورٹ اور منصوبہ بندی نہیں ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے ادارے بنانے کے بجائے جہاں ممکن ہو موجود اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ اور اس کیلئے مسلم صحافیوں کی تنظیم کو گٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے ساتھ مشاورت کیا جائے

اسی طرح سیاسی میدان میں بھی سوال اٹھتا ہے کہ صرف ووٹ کی سیاست کافی نہیں۔ ضرورت ایسی سیاسی قیادت کی ہے جو:

- صرف انتخاب نہ لڑے
- زمین پر کام کرے
- کیڈر تیار کرے
- لیڈرشپ بنائے
- بیس پچیس سال کی منصوبہ بندی کرے
- گاؤں سے قومی سطح تک تربیت یافتہ افراد تیار کرے
- ایسی سیاست جو صرف نعرے نہیں بلکہ ڈسکورس تیار کرے، ایسا ڈسکورس جو ملک کو مضبوط کرے، انصاف کی بات کرے، مختلف طبقات کے حقوق کی بات کرے اور آئندہ نسلوں کے لیے قیادت پیدا کرے۔

اس کے لیے نظریاتی وضاحت بھی ضروری ہے۔

سیاست کی بنیاد کیا ہوگی؟


اس سوال پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی کارکن صرف سیاسی تربیت نہ لیں بلکہ ان کے اندر فکری اور اخلاقی تیاری بھی ہو تاکہ وہ میدان میں ذمہ داری کے ساتھ کام کر سکیں۔

اسی سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی سیاسی و سماجی تحریک کھڑی کرنی ہے تو اس کی نظریاتی بنیاد بھی واضح ہونی چاہیے۔

ہم اسلام کو ماننے والے ہیں، اس ملک کی جمہوری روایتوں کو بھی سامنے رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے لیے وہ کون سا سیاسی راستہ اور کون سی فکر زیادہ موزوں ہے جو انصاف، برابری اور عوامی بھلائی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری قیادت مختلف فکری روایتوں کو سمجھے۔
جہاں ہندوستان کے سماجی انصاف اور سیاسی مفکرین کی بات ہو وہاں ان کا حوالہ دیا جائے، جہاں ملک کے جمہوری رہنماؤں کی بات ہو وہاں ان کی بات کو سمجھا جائے، اور اسی کے ساتھ اسلامی تاریخ اور اسلامی تعلیمات کے ان پہلوؤں کو بھی سامنے رکھا جائے جو انصاف، حقوق، مساوات اور انسانی وقار کی بات کرتے ہیں۔
جب مزدوروں کے حقوق کی بات ہو تو ان اسلامی تعلیمات کو بھی سامنے رکھا جائے جو محنت اور انصاف کی بات کرتی ہیں۔
جب خواتین کے حقوق کی بات ہو تو ان تعلیمات کو بھی سامنے رکھا جائے جو عورت کے مقام اور اس کے حقوق کو واضح کرتی ہیں۔
جب سماجی برابری کی بات ہو تو ان تعلیمات کو بھی سامنے رکھا جائے جو انسانوں کے درمیان عزت اور مساوات کی بنیاد رکھتی ہیں۔

صرف دفاعی انداز میں بار بار یہ کہنا کافی نہیں کہ اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کی مثبت، تعمیری اور انسانی تعلیمات مختلف میدانوں میں عملی زبان کے ساتھ سامنے آئیں تاکہ غلط فہمیاں کم ہوں اور بہتر سمجھ پیدا ہو۔

اس کیلئے سیاسی میدان میں بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ملک میں موجود چھوٹی چھوٹی اقلیتی اور علاقائی سیاسی قوتوں کے درمیان گفتگو ہو۔ ان کے درمیان بار بار ملاقاتیں ہوں۔ مشترک نکات پر کام ہو۔

اگر دوسرے سیاسی دھڑے اپنی قوتوں کو جمع کر سکتے ہیں تو یہ سوال بھی زیر غور آ سکتا ہے کہ مختلف چھوٹے پلیٹ فارمز کہاں تک باہمی تعاون پیدا کر سکتے ہیں بلکہ کوشش ہوکہ جیسے ماضی میں سوشلسٹ جماعتوں نے انضمام کا راستہ اپنایا تھا ویسے ہی آج مسلم لیڈرشپ والی سیاسی جماعتیں (اجمل صاحب کی ڈیموکریٹک فرنٹ،پیرزادہ صاحب کی انڈین سیکولر فرنٹ،ڈاکٹر ایوب صاحب کی پیس پارٹی، عامر رشادی صاحب کی علماء کونسل،امجد اللہ خان صاحب مجلس بچاؤ تحریک،پروفیسر سلیمان صاحب کی انڈین نیشنل لیگ و نیشنل لیگ،جواہر اللہ صاحب کی ایم۔ایم۔کے، مسلم مجلس، ویلفیئر پارٹی،اسلام پارٹی، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا وغیرہ ) انضمام کر ایک مضبوط سوشلسٹ سیکولر سیاسی جماعت قومی سطح پر تشکیل دیں۔

اس کا مقصد صرف انتخابات نہیں ہونا چاہیے بلکہ:


- لیڈرشپ بلڈنگ
- پالیسی سازی
- سماجی خدمت
- فکری تیاری
- نوجوانوں کی تربیت
- آئینی و قانونی شعور

یہ سب اس کا حصہ ہونا چاہیے۔

اسی طرح ایک مضبوط سول سوسائٹی کا کردار بھی ضروری ہے۔

ایسا پلیٹ فارم جس میں:


علما، دانشور، سیاست سے وابستہ لوگ، طلبہ، ڈاکٹر، اکیڈمک حلقے، سماجی کارکن اور مختلف شعبوں کے افراد شامل ہوں۔

جو انسانی حقوق، شہری حقوق اور سماجی مسائل پر کام کرے۔

جو صرف اپنے حلقے کے لیے نہیں بلکہ تمام کمزور اور محروم طبقات کے مسائل پر آواز اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اور اس سلسلے میں ضروری ہوکہ انڈین مسلم فار سول رائٹس کو ملک بھر میں متحرک کیا جائے۔

اس کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ قیادت کا بحران ہے۔

سماجی قیادت، مذہبی قیادت، قانونی قیادت، معاشی قیادت، فکری قیادت—ہر میدان میں تیاری کی ضرورت ہے۔

لہٰذا آنے والے بیس، تیس اور چالیس سال کے لیے قیادت سازی پر کام ہونا چاہیے۔

نوجوانوں کو:

- تربیت
- ورکشاپس
- نیٹ ورکنگ
- رہنمائی
- عملی تجربہ

دیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں گاؤں سے لے کر قومی سطح تک ذمہ دار قیادت فراہم کر سکیں۔

اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل کا 40 انڈر 40 پروجیکٹ ایک بہت بہتر پروجیکٹ ہے، ضرورت ہیکہ اس پروجیکٹ کو مضبوط کیا جائے

اسی کے ساتھ اسلاموفوبیا، فکری مسائل، تحقیق، لٹریچر اور تھنک ٹینک پر بھی مسلسل کام ضروری ہے۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر قوم معاشی طور پر کمزور ہوگی تو طویل جدوجہد بھی کمزور ہو جائے گی۔

اس لیے معاشی منصوبہ بندی، کاروبار، تجارت، نوجوانوں کی رہنمائی اور معاشی خودمختاری بھی بنیادی ضرورت ہے۔

معاشی مضبوطی صرف دولت جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک مضبوط سماج اور مضبوط خاندان کی بنیاد بھی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی تعداد میں ہمارے لوگ روزگار کے لیے اپنے علاقوں سے دور چلے جاتے ہیں۔ اس کا اثر صرف فرد پر نہیں بلکہ خاندان، بچوں کی تربیت اور پورے سماجی نظام پر پڑتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے اندر معاشی منصوبہ بندی ہو۔

لوگوں کو تجارت سے جوڑا جائے۔


چھوٹے کاروبار، نئے میدان، نئے مواقع اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔

جو لوگ بیرون ملک یا دور دراز علاقوں میں معمولی ملازمت کر رہے ہیں، ان کے اندر بھی یہ شعور پیدا کیا جائے کہ جہاں ممکن ہو وہاں اپنے علاقوں میں بھی معاشی سرگرمی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اسی کے ساتھ ایک اور بات بہت اہم ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کو مختلف میدانوں میں بھیجنا چاہیے۔

میڈیا میں، قانون میں، سول سروس میں، یونیورسٹیوں میں، تحقیق میں، مختلف شعبوں میں۔

یہ بات درست بھی ہے اور اس پر کام بھی ہو رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف تعلیم کافی ہے؟

اگر نوجوان تعلیم حاصل کر کے صرف ملازمت حاصل کرنے کی مشین بن جائے اور اپنے معاشرے، اپنی ذمہ داری اور اپنی فکری تشکیل سے الگ ہو جائے تو اس کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔

لہٰذا ضرورت ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اندر ایسے غیر سیاسی تربیتی اور تعلیمی تنظیم ہوں جو نوجوانوں کے اندر:

- فکری تربیت
- مطالعہ کا ذوق
- علمی مزاج
- اسکل ڈیولپمنٹ
- رہنمائی
- قیادت سازی
- ڈبیٹ اور ڈسکشن
- لکھنے اور سوچنے کی عادت

پیدا کریں۔

آج ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف کلاس روم کافی نہیں۔

ان کے اندر علمی، تحقیقی اور دانشورانہ مزاج پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

اسی لیے ضرورت ہے کہ یونیورسٹیوں میں موجود وسائل اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے جوڑا جائے۔

اسی طرح میڈیا، تھنک ٹینک، ریسرچ، ڈاکومنٹیشن اور تعلیمی اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ایک مضبوط لیگل ونگ کی ضرورت بھی ہے۔

ملک بھر میں ایسے وکلا موجود ہیں جو اپنی خدمات دینا چاہتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ:


- وکلا کو جوڑا جائے
- تربیت دی جائے
- قانونی تحقیق ہو
- موجودہ چیلنجز کو سمجھا جائے
- ایک منظم قانونی نیٹ ورک تیار ہو

جو آئینی اور قانونی میدان میں مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔
اس سلسلے میں اے۔پی۔سی۔آر و آل انڈیا لائیرس کونسل اچھا کام کررہی ہے ،ان کے ساتھ میٹنگ کر ان کو مضبوط کیا جائے 

اسی سلسلے میں ایک اور اہم نکتہ مسجد ہے۔

مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ مسلم معاشرے کے اندر تاریخی طور پر تعلق، رہنمائی، تربیت اور سماجی مرکز کا کردار بھی رکھتی رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں ممکن ہو وہاں مسجد کو مقامی سطح پر:

- تعلیم
- سماجی رابطہ
- رہنمائی
- تربیت
- فکری ترقی
- معاشی بیداری

کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔

کچھ جگہوں پر ایسے ماڈل سامنے آئے ہیں جہاں مسجد کو مقامی ترقی کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خاص کر آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل کے مسجد ون مومنٹ اور موکانا عبید اللہ خان اعظمی کی قائم کردہ انڈین مسلم پبلک افیئرس کمیٹی کے ذریعے اس پر اچھے منصوبہ کے ساتھ کام ہورہا ہے، ضرورت ہے اس نظام کو ملک بھر میں پھیلایا جائے

ان کے ذریعے مقامی سطح پر تعلیم، رہنمائی، قانونی آگاہی، سماجی معاونت اور کمیونٹی منصوبہ بندی کو ایک جگہ جمع کر کے کام کیا جا رہا ہے۔

اس طرح کے منصوبوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔


اسی طرح مسجدوں کے ساتھ ایک اور اہم معاملہ ائمہ اور مؤذنین کا ہے۔

اکثر ائمہ مخلص ہوتے ہیں، محنت کرتے ہیں، لیکن دو بنیادی مسائل سامنے آتے ہیں۔

ایک یہ کہ معاشی طور پر وہ کمزور ہوتے ہیں، ان کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں، جس کا اثر ان کی زندگی اور ان کے کام دونوں پر پڑتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کے اندر ایسا مزاج پیدا ہو کہ مسجدوں کے ائمہ اور مؤذنین کو بہتر معاشی استحکام ملے، ان کی رہائش اور خاندان کے لیے بہتر انتظام ہو تاکہ وہ صرف رسمی ذمہ داری تک محدود نہ رہیں بلکہ سماجی رہنمائی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

دوسری چیز یہ ہے کہ جمعہ کے خطبات اور عوامی رہنمائی کے لیے مطالعہ، تحقیق اور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے لیے ضرورت ہے کہ مسجدوں میں لائبریریاں ہوں۔

ایسی لائبریریاں جن میں:

- دینی کتابیں
- فکری کتابیں
- سماجی موضوعات
- تعلیمی مواد
- حالاتِ حاضرہ سے متعلق لٹریچر

موجود ہو تاکہ خطیب بہتر تیاری کے ساتھ عوام کے سامنے بات رکھ سکیں۔

اسی طرح ایک ایسا منظم نظام بھی بنایا جا سکتا ہے جس میں تحقیق اور تیاری کرنے والی ٹیم مختلف موضوعات پر مواد تیار کرے تاکہ ائمہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ان موضوعات میں:

- تعلیم
- خاندان
- بچوں کی تربیت
- معاشرہ
- اخلاق
- سماجی مسائل
- اجتماعی ذمہ داریاں
- دعوت اور اصلاح

جیسے موضوعات شامل ہوں۔

اس کے ساتھ ایک اور بڑا سوال نسلوں کے تحفظ کا ہے۔

اگر نسلیں محفوظ نہیں رہیں، اگر خاندان مضبوط نہیں رہے، تو باقی تمام کوششیں کمزور پڑ جائیں گی۔

ہم جو بھی جدوجہد کرتے ہیں، اس کا مقصد یہی ہے کہ آنے والی نسلیں محفوظ ہوں، معاشرہ محفوظ ہو اور بہتر ماحول پیدا ہو۔

اسی لیے خاندان کے نظام پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ضرورت ہے کہ:

- بچوں کی فکری تربیت ہو
- والدین کی رہنمائی ہو
- تعلیمی کونسلنگ ہو
- نوجوانوں کے لیے رہنمائی ہو
- قبل از شادی رہنمائی ہو
- شادی کے بعد مشاورت کا نظام ہو
- خاندانی کونسلنگ ہو

تاکہ مضبوط خاندان وجود میں آئیں۔

کیونکہ مضبوط خاندانوں سے ہی مضبوط معاشرہ بنتا ہے۔

بچوں کو صرف رسمی تعلیم نہیں بلکہ دنیا کی سمجھ، مطالعہ، فکری تربیت، اجتماعی شعور اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی دی جائے۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہم وقتی ردعمل سے نکلیں۔

بڑے مسائل ایک دو گھنٹے کی نشستوں سے حل نہیں ہوتے۔

اگر واقعی طویل مدتی کام کرنا ہے تو:

- مسلسل ملاقاتیں ہوں
- کئی دن کی گفتگو ہو
- منصوبہ بندی ہو
- ذمہ داریاں تقسیم ہوں
- فالو اپ ہو
- نتائج کا جائزہ ہو

ضروری ہیکہ جیسے انڈیا الائنس اپنا وجود بچانے کیلئے ہر دوسرے مہینے مل کر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے ویسے ہی ہمارے لیڈران بھی ہر دوسرے مہینے دو و تین دنوں کیلئے ساتھ بیٹھ کار سبھی مسائل و سبھی محاذ پر کام کو لیکر گفتگو کرنے کا فیصلہ لیں

اور یہ سب مستقل مزاجی کے ساتھ ہو۔

اگر ہم اپنی شناخت، اپنے مستقبل، اپنی نسلوں، اپنے معاشرے اور اس ملک کے بہتر مستقبل کے لیے سنجیدہ ہیں تو پھر باقاعدہ، منظم اور مسلسل کام کی ضرورت ہوگی۔

دو گھنٹے نہیں، دو دن۔

ایک اجلاس نہیں، مسلسل عمل۔

اور اگر گفتگو کے بعد عمل شروع ہو گیا تو یقیناً نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

ان شاء اللہ۔

شکریہ
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سیف الرحمٰن
چیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (ہندی،اردو،انگلش نیوز ویب سائٹ)
کنوینر:کوگیٹو میڈیا فاؤنڈیشن(سی۔ایم۔ایف)



सेवा में
मुखलिस क़ाइदीन-ए-मिल्लत,

अस्सलामु अलैकुम व रहमतुल्लाहि व बरकातुह

अभी मैं एक मीडिया न्यूज़ चैनल पर पूर्व सांसद मोहम्मद अदीब साहब का इंटरव्यू सुन रहा था। वे एक बार फिर दिल्ली में देश भर के क़ाइदीन, उलमा, बुद्धिजीवियों और राजनीतिक व सामाजिक नेताओं को इकट्ठा करने की कोशिश कर रहे हैं। इससे पहले भी हमने देखा कि जब इंडियन मुस्लिम फॉर सिविल राइट्स के तहत दिल्ली में इसी तरह का सम्मेलन हुआ था तो उसमें विभिन्न उलमा, क़ाइदीन-ए-मिल्लत और सेक्युलर राजनीतिक दलों के सांसदों ने बहुत बेबाक तरीके से बातचीत की थी।

उसका एक प्रभाव भी देखने को मिला और कुछ दिनों बाद संसद के सत्र में विपक्ष की राजनीति और अल्पसंख्यक मुद्दों पर बातचीत के अंदाज़ में बदलाव महसूस किया गया।

निश्चित रूप से इस तरह के आयोजन सकारात्मक प्रभाव डालते हैं और उम्मीद है कि वर्तमान प्रयासों का भी सकारात्मक प्रभाव होगा।

देश में बहुत से ऐसे नेता हैं जिनकी अपनी कोई बड़ी संस्था नहीं है लेकिन जनता में उनका प्रभाव है। वे लगातार कोशिश करते रहते हैं, दौरे करते हैं, जनता तक बात पहुँचाते हैं, लेकिन चूँकि उनके पास बड़ा संस्थागत ढाँचा नहीं होता इसलिए लोग सुनते तो हैं मगर अमल कम करते हैं।

दूसरी तरफ बड़ी संस्थाएँ भी अपने स्तर पर काम कर रही हैं लेकिन आवश्यकता इस बात की है कि सभी क़ाइदीन-ए-मिल्लत बैठें, प्राथमिकताएँ तय करें और उन सभी मोर्चों की पहचान करें जहाँ व्यावहारिक काम की आवश्यकता है।

देश में होने वाले अत्याचार, नफ़रत आधारित अपराध, सामाजिक व राजनीतिक चुनौतियों और विभिन्न प्रकार की घटनाओं का स्थायी डॉक्यूमेंटेशन होना चाहिए। इस काम के लिए ऑब्जेक्टिव स्टडीज़ जैसे संस्थान को पुनर्जीवित किया जाए या नए संस्थान बनाए जाएँ।

इसी तरह जनता तक संदेश पहुँचाने का प्रश्न बहुत महत्वपूर्ण है। क्या जमीयत के बयान, संगठनों की अपीलें, बुद्धिजीवियों की पीड़ा, नेताओं की बातें वास्तव में जनता तक पहुँच रही हैं — वास्तविकता यह है कि अधिकतर संदेश सीमित दायरे तक ही रह जाता है। इसका एक बड़ा कारण यह है कि हमारे पास मजबूत मीडिया ढाँचा नहीं है।

मेनस्ट्रीम मीडिया यदि आपकी बातों को प्रस्तुत भी करता है तो अक्सर ऐसे अंदाज़ में प्रस्तुत करता है कि मुसलमान आपकी बात को नकारात्मक रूप में न लें, लेकिन उसके मन में यह बात आने लगती है कि फलाँ मौलाना को यह बयान नहीं देना चाहिए था, फलाँ नेता को यह बात नहीं करनी चाहिए थी, क्योंकि मीडिया उसे इस अंदाज़ में पेश करता है कि लगता है जैसे उसका अनुचित लाभ उठाया जा रहा हो।

डिजिटल मीडिया में भी जो स्वयं को वैकल्पिक या सेक्युलर मीडिया कहते हैं, उनके भी अपने एजेंडे होते हैं। वे भी हर मुद्दे को अपनी प्राथमिकताओं के अनुसार इस्तेमाल करते हैं। इस वजह से न तो वे आपका संदेश आपके लोगों तक पूरी तरह पहुँचाते हैं और न पहुँचा पाते हैं।

जो मुस्लिम यूट्यूबर्स और मुस्लिम मीडिया प्लेटफ़ॉर्म काम कर रहे हैं, उनके प्रयास सराहनीय हैं, लेकिन वास्तविकता यह है कि आवश्यकता के अनुसार बहुत कम काम हो पा रहा है। और जो हो रहा है, उसका बड़ा हिस्सा रचनात्मक होने के बजाय केवल प्रतिक्रिया आधारित या सनसनीखेज़ रूप ले लेता है।

परिणाम यह निकलता है कि कौम के भीतर जागरूकता और आत्मविश्वास पैदा होने के बजाय भय बढ़ता है।

आवश्यकता इस बात की थी कि मीडिया कौम को आत्मविश्वास देता, कौम के सामने केवल नकारात्मक खबरें नहीं बल्कि उम्मीद और मार्गदर्शन की खबरें भी लाता।

ऐसी खबरें सामने आतीं:

- जो हौसला पैदा करें
- जो विश्वास बहाल करें
- जो नेतृत्व से जोड़ें
- जो कानूनी जागरूकता दें
- जो अदालतों के सकारात्मक फैसले जनता तक पहुँचाएँ
- जो शिक्षा, व्यापार, राजनीति, अर्थव्यवस्था, समाज और परिवार के मुद्दों पर मार्गदर्शन दें
- कौम के भीतर वैज्ञानिक और वैचारिक दृष्टिकोण पैदा किया जाए
- धार्मिक शिक्षाओं को नए समय की भाषा में प्रस्तुत किया जाए

लेकिन यह सब इस समय नहीं हो पा रहा क्योंकि मीडिया हाउसों के पीछे मजबूत थिंक टैंक, आर्थिक सहयोग और योजना नहीं है।

इसलिए आवश्यकता इस बात की है कि नए संस्थान बनाने के बजाय जहाँ संभव हो वहाँ मौजूदा संस्थानों को मजबूत किया जाए। और इसके लिए मुस्लिम पत्रकारों के संगठन कोगिटो मीडिया फाउंडेशन के साथ परामर्श किया जाए।


इसी तरह राजनीतिक क्षेत्र में भी सवाल उठता है कि केवल वोट की राजनीति पर्याप्त नहीं है। आवश्यकता ऐसी राजनीतिक नेतृत्व की है जो:

- केवल चुनाव न लड़े
- ज़मीन पर काम करे
- कैडर तैयार करे
- नेतृत्व बनाए
- बीस–पच्चीस वर्षों की योजना बनाए
- गाँव से राष्ट्रीय स्तर तक प्रशिक्षित व्यक्तियों को तैयार करे
- ऐसी राजनीति जो केवल नारे नहीं बल्कि डिस्कोर्स तैयार करे, ऐसा डिस्कोर्स जो देश को मजबूत करे, न्याय की बात करे, विभिन्न वर्गों के अधिकारों की बात करे और आने वाली पीढ़ियों के लिए नेतृत्व तैयार करे।

इसके लिए वैचारिक स्पष्टता भी आवश्यक है।

राजनीति की बुनियाद क्या होगी?

इस प्रश्न पर गंभीरता से विचार होना चाहिए।

यह भी आवश्यक है कि राजनीतिक कार्यकर्ता केवल राजनीतिक प्रशिक्षण न लें बल्कि उनके भीतर वैचारिक और नैतिक तैयारी भी हो ताकि वे मैदान में ज़िम्मेदारी के साथ काम कर सकें।

इसी सिलसिले में एक और महत्वपूर्ण बात यह है कि यदि कोई राजनीतिक व सामाजिक आंदोलन खड़ा करना है तो उसकी वैचारिक बुनियाद भी स्पष्ट होनी चाहिए।

हम इस्लाम को मानने वाले हैं, इस देश की लोकतांत्रिक परंपराओं को भी सामने रखते हैं, इसलिए हमें गंभीरता से यह देखना होगा कि हमारे लिए वह कौन सा राजनीतिक रास्ता और कौन सी विचारधारा अधिक उपयुक्त है जो न्याय, समानता और जनकल्याण की बुनियाद पर खड़ी हो।

आवश्यकता इस बात की है कि हमारी नेतृत्व विभिन्न वैचारिक परंपराओं को समझे।

जहाँ भारत के सामाजिक न्याय और राजनीतिक विचारकों की बात हो वहाँ उनका संदर्भ दिया जाए, जहाँ देश के लोकतांत्रिक नेताओं की बात हो वहाँ उनकी बात को समझा जाए, और इसके साथ इस्लामी इतिहास और इस्लामी शिक्षाओं के उन पहलुओं को भी सामने रखा जाए जो न्याय, अधिकार, समानता और मानवीय गरिमा की बात करते हैं।

जब मज़दूरों के अधिकारों की बात हो तो उन इस्लामी शिक्षाओं को भी सामने रखा जाए जो मेहनत और न्याय की बात करती हैं।

जब महिलाओं के अधिकारों की बात हो तो उन शिक्षाओं को भी सामने रखा जाए जो महिला के स्थान और उसके अधिकारों को स्पष्ट करती हैं।

जब सामाजिक समानता की बात हो तो उन शिक्षाओं को भी सामने रखा जाए जो इंसानों के बीच सम्मान और समानता की बुनियाद रखती हैं।

केवल रक्षात्मक अंदाज़ में बार-बार यह कहना पर्याप्त नहीं कि इस्लाम आतंकवाद नहीं सिखाता।

आवश्यकता इस बात की है कि इस्लाम की सकारात्मक, रचनात्मक और मानवीय शिक्षाएँ विभिन्न क्षेत्रों में व्यावहारिक भाषा के साथ सामने आएँ ताकि गलतफहमियाँ कम हों और बेहतर समझ विकसित हो।

इसके लिए राजनीतिक क्षेत्र में भी आवश्यकता महसूस होती है कि देश में मौजूद छोटी-छोटी अल्पसंख्यक और क्षेत्रीय राजनीतिक शक्तियों के बीच संवाद हो। उनके बीच बार-बार मुलाकातें हों। साझा बिंदुओं पर काम हो।

यदि दूसरे राजनीतिक धड़े अपनी शक्तियों को एकत्र कर सकते हैं तो यह प्रश्न भी विचाराधीन हो सकता है कि विभिन्न छोटे प्लेटफ़ॉर्म कहाँ तक आपसी सहयोग पैदा कर सकते हैं बल्कि कोशिश हो कि जैसे अतीत में समाजवादी दलों ने विलय का रास्ता अपनाया था वैसे ही आज मुस्लिम नेतृत्व वाली राजनीतिक पार्टियाँ (अजमल साहब की डेमोक्रेटिक फ्रंट, पीरज़ादा साहब की इंडियन सेक्युलर फ्रंट, डॉक्टर अयूब साहब की पीस पार्टी, आमिर रशादी साहब की उलेमा काउंसिल, अमजदुल्लाह खान साहब मजलिस बचाओ तहरीक, प्रोफेसर सुलेमान साहब की इंडियन नेशनल लीग व नेशनल लीग, जवाहरुल्लाह साहब की एम.एम.के., मुस्लिम मजलिस, वेलफेयर पार्टी, इस्लाम पार्टी, सोशल डेमोक्रेटिक पार्टी ऑफ इंडिया आदि) विलय कर एक मजबूत समाजवादी सेक्युलर राजनीतिक दल राष्ट्रीय स्तर पर गठित करें।

इसका उद्देश्य केवल चुनाव नहीं होना चाहिए बल्कि:

- नेतृत्व निर्माण
- नीति निर्माण
- सामाजिक सेवा
- वैचारिक तैयारी
- युवाओं का प्रशिक्षण
- संवैधानिक व कानूनी जागरूकता

यह सब उसका हिस्सा होना चाहिए।

इसी प्रकार एक मजबूत सिविल सोसाइटी की भूमिका भी आवश्यक है।

ऐसा प्लेटफ़ॉर्म जिसमें:

उलमा, बुद्धिजीवी, राजनीति से जुड़े लोग, छात्र, डॉक्टर, अकादमिक वर्ग, सामाजिक कार्यकर्ता और विभिन्न क्षेत्रों के लोग शामिल हों।

जो मानवाधिकार, नागरिक अधिकार और सामाजिक मुद्दों पर काम करे।

जो केवल अपने दायरे के लिए नहीं बल्कि सभी कमजोर और वंचित वर्गों के मुद्दों पर आवाज़ उठाने की क्षमता रखता हो।

और इस सिलसिले में आवश्यक हो कि इंडियन मुस्लिम फॉर सिविल राइट्स को देशभर में सक्रिय किया जाए।

इसके साथ एक और बड़ी समस्या नेतृत्व का संकट है।

सामाजिक नेतृत्व, धार्मिक नेतृत्व, कानूनी नेतृत्व, आर्थिक नेतृत्व, वैचारिक नेतृत्व—हर क्षेत्र में तैयारी की आवश्यकता है।

इसलिए आने वाले बीस, तीस और चालीस वर्षों के लिए नेतृत्व निर्माण पर काम होना चाहिए।

युवाओं को:

- प्रशिक्षण
- वर्कशॉप्स
- नेटवर्किंग
- मार्गदर्शन
- व्यावहारिक अनुभव

दिया जाए ताकि वे भविष्य में गाँव से लेकर राष्ट्रीय स्तर तक ज़िम्मेदार नेतृत्व प्रदान कर सकें।

इस सिलसिले में ऑल इंडिया मुस्लिम डेवलपमेंट काउंसिल का 40 अंडर 40 प्रोजेक्ट एक बहुत बेहतर प्रोजेक्ट है, आवश्यकता है कि इस प्रोजेक्ट को मजबूत किया जाए।

इसके साथ इस्लामोफोबिया, वैचारिक मुद्दों, शोध, साहित्य और थिंक टैंक पर भी लगातार काम आवश्यक है।

और यह भी वास्तविकता है कि यदि कौम आर्थिक रूप से कमजोर होगी तो दीर्घकालिक संघर्ष भी कमजोर हो जाएगा।

इसलिए आर्थिक योजना, व्यापार, कारोबार, युवाओं का मार्गदर्शन और आर्थिक आत्मनिर्भरता भी मूलभूत आवश्यकता है।

आर्थिक मजबूती केवल धन इकट्ठा करने का नाम नहीं बल्कि एक मजबूत समाज और मजबूत परिवार की नींव भी है।

हम देखते हैं कि बड़ी संख्या में हमारे लोग रोज़गार के लिए अपने क्षेत्रों से दूर चले जाते हैं। इसका प्रभाव केवल व्यक्ति पर नहीं बल्कि परिवार, बच्चों की परवरिश और पूरे सामाजिक ढाँचे पर पड़ता है।

आवश्यकता इस बात की है कि कौम के भीतर आर्थिक योजना हो।

लोगों को व्यापार से जोड़ा जाए।

छोटे कारोबार, नए क्षेत्र, नए अवसर और स्थानीय स्तर पर आर्थिक गतिविधियों को बढ़ावा दिया जाए।

जो लोग विदेश या दूर-दराज़ क्षेत्रों में मामूली नौकरी कर रहे हैं, उनके भीतर भी यह समझ पैदा की जाए कि जहाँ संभव हो वहाँ अपने क्षेत्रों में भी आर्थिक गतिविधि पैदा की जा सकती है।

इसके साथ एक और बात बहुत महत्वपूर्ण है।

हम अक्सर कहते हैं कि हमें अपने बच्चों को विभिन्न क्षेत्रों में भेजना चाहिए।

मीडिया में, कानून में, सिविल सेवा में, विश्वविद्यालयों में, शोध में, विभिन्न क्षेत्रों में।

यह बात सही भी है और इस पर काम भी हो रहा है।

लेकिन सवाल यह है कि क्या केवल शिक्षा पर्याप्त है?

यदि युवा शिक्षा प्राप्त करके केवल नौकरी पाने की मशीन बन जाए और अपने समाज, अपनी ज़िम्मेदारी और अपनी वैचारिक तैयारी से अलग हो जाए तो उसका लाभ सीमित रह जाता है।

इसलिए आवश्यकता है कि विश्वविद्यालयों और कॉलेजों के भीतर ऐसे गैर-राजनीतिक प्रशिक्षण और शैक्षणिक संगठन हों जो युवाओं के भीतर:

- वैचारिक प्रशिक्षण
- अध्ययन का रुचि
- बौद्धिक दृष्टिकोण
- स्किल डेवलपमेंट
- मार्गदर्शन
- नेतृत्व निर्माण
- डिबेट और चर्चा
- लिखने और सोचने की आदत

पैदा करें।

आज हज़ारों युवा उच्च शिक्षा प्राप्त कर रहे हैं लेकिन केवल क्लासरूम पर्याप्त नहीं।

उनके भीतर शैक्षणिक, शोध और बौद्धिक दृष्टिकोण विकसित करना भी आवश्यक है।

इसीलिए आवश्यकता है कि विश्वविद्यालयों में मौजूद संसाधनों और युवाओं की क्षमताओं को बेहतर तरीके से जोड़ा जाए।

इसी प्रकार मीडिया, थिंक टैंक, रिसर्च, डॉक्यूमेंटेशन और शैक्षणिक संस्थानों को एक दूसरे से जोड़ने की आवश्यकता है।

इसके साथ एक मजबूत लीगल विंग की आवश्यकता भी है।

देशभर में ऐसे वकील मौजूद हैं जो अपनी सेवाएँ देना चाहते हैं।

आवश्यकता इस बात की है कि:

- वकीलों को जोड़ा जाए
- प्रशिक्षण दिया जाए
- कानूनी शोध हो
- वर्तमान चुनौतियों को समझा जाए
- एक संगठित कानूनी नेटवर्क तैयार हो

जो संवैधानिक और कानूनी क्षेत्र में प्रभावी रूप से काम कर सके।

इस सिलसिले में ए.पी.सी.आर. व ऑल इंडिया लॉयर्स काउंसिल अच्छा काम कर रही है, उनके साथ बैठक कर उन्हें मजबूत किया जाए।

इसी सिलसिले में एक और महत्वपूर्ण बिंदु मस्जिद है।

मस्जिद केवल इबादत की जगह नहीं बल्कि मुस्लिम समाज के भीतर ऐतिहासिक रूप से संबंध, मार्गदर्शन, प्रशिक्षण और सामाजिक केंद्र की भूमिका भी निभाती रही है।

आवश्यकता इस बात की है कि जहाँ संभव हो वहाँ मस्जिद को स्थानीय स्तर पर:

- शिक्षा
- सामाजिक संपर्क
- मार्गदर्शन
- प्रशिक्षण
- वैचारिक विकास
- आर्थिक जागरूकता

के लिए भी इस्तेमाल किया जाए।

कुछ स्थानों पर ऐसे मॉडल सामने आए हैं जहाँ मस्जिद को स्थानीय विकास के केंद्र के रूप में इस्तेमाल करने की कोशिश की जा रही है। विशेष रूप से ऑल इंडिया मुस्लिम डेवलपमेंट काउंसिल के मस्जिद वन मूवमेंट और मौलाना उबैदुल्लाह खान आज़मी द्वारा स्थापित इंडियन मुस्लिम पब्लिक अफेयर्स कमेटी के माध्यम से इस पर अच्छी योजना के साथ काम हो रहा है, आवश्यकता है कि इस व्यवस्था को देशभर में फैलाया जाए।

इनके माध्यम से स्थानीय स्तर पर शिक्षा, मार्गदर्शन, कानूनी जागरूकता, सामाजिक सहयोग और कम्युनिटी योजना को एक स्थान पर एकत्र कर काम किया जा रहा है।

इस प्रकार की योजनाओं पर विचार किया जा सकता है।

इसी प्रकार मस्जिदों के साथ एक और महत्वपूर्ण विषय इमाम और मुअज्ज़िन का है।

अक्सर इमाम ईमानदार होते हैं, मेहनत करते हैं, लेकिन दो मूलभूत समस्याएँ सामने आती हैं।

एक यह कि आर्थिक रूप से वे कमजोर होते हैं, उनकी तनख्वाह कम होती है, जिसका प्रभाव उनके जीवन और उनके काम दोनों पर पड़ता है।

आवश्यकता इस बात की है कि जनता के भीतर ऐसा दृष्टिकोण विकसित हो कि मस्जिदों के इमाम और मुअज्ज़िन को बेहतर आर्थिक स्थिरता मिले, उनके रहने और परिवार के लिए बेहतर व्यवस्था हो ताकि वे केवल औपचारिक ज़िम्मेदारी तक सीमित न रहें बल्कि सामाजिक मार्गदर्शन में भी अपनी भूमिका निभा सकें।

दूसरी चीज़ यह है कि जुमे के खुत्बों और सार्वजनिक मार्गदर्शन के लिए अध्ययन, शोध और तैयारी की आवश्यकता होती है।

इसके लिए आवश्यकता है कि मस्जिदों में पुस्तकालय हों।

ऐसे पुस्तकालय जिनमें:

- दीनी किताबें
- वैचारिक पुस्तकें
- सामाजिक विषय
- शैक्षणिक सामग्री
- समकालीन परिस्थितियों से संबंधित साहित्य

उपलब्ध हो ताकि खतीब बेहतर तैयारी के साथ जनता के सामने बात रख सकें।

इसी प्रकार एक ऐसा संगठित तंत्र भी बनाया जा सकता है जिसमें शोध और तैयारी करने वाली टीम विभिन्न विषयों पर सामग्री तैयार करे ताकि इमाम उससे लाभ उठा सकें।

इन विषयों में:

- शिक्षा
- परिवार
- बच्चों की परवरिश
- समाज
- नैतिकता
- सामाजिक समस्याएँ
- सामूहिक ज़िम्मेदारियाँ
- दावत और सुधार

जैसे विषय शामिल हों।

इसके साथ एक और बड़ा प्रश्न पीढ़ियों की सुरक्षा का है।

यदि पीढ़ियाँ सुरक्षित नहीं रहेंगी, यदि परिवार मजबूत नहीं रहेंगे, तो बाकी सभी प्रयास कमजोर पड़ जाएँगे।

हम जो भी संघर्ष करते हैं, उसका उद्देश्य यही है कि आने वाली पीढ़ियाँ सुरक्षित रहें, समाज सुरक्षित रहे और बेहतर वातावरण तैयार हो।

इसीलिए परिवार व्यवस्था पर गंभीरता से काम करने की आवश्यकता है।

आवश्यकता है कि:

- बच्चों का वैचारिक प्रशिक्षण हो
- माता-पिता का मार्गदर्शन हो
- शैक्षणिक काउंसलिंग हो
- युवाओं के लिए मार्गदर्शन हो
- विवाह पूर्व मार्गदर्शन हो
- विवाह के बाद परामर्श व्यवस्था हो
- पारिवारिक काउंसलिंग हो

ताकि मजबूत परिवार अस्तित्व में आएँ।

क्योंकि मजबूत परिवारों से ही मजबूत समाज बनता है।

बच्चों को केवल औपचारिक शिक्षा नहीं बल्कि दुनिया की समझ, अध्ययन, वैचारिक प्रशिक्षण, सामूहिक चेतना और परिस्थितियों को समझने की क्षमता भी दी जाए।

इसी प्रकार यह भी आवश्यक है कि हम तात्कालिक प्रतिक्रिया से बाहर निकलें।

बड़े मुद्दे एक-दो घंटे की बैठकों से हल नहीं होते।

यदि वास्तव में दीर्घकालिक काम करना है तो:

- लगातार बैठकें हों
- कई दिनों तक चर्चा हो
- योजना बनाई जाए
- ज़िम्मेदारियाँ बाँटी जाएँ
- फॉलो-अप हो
- परिणामों की समीक्षा हो

आवश्यक है कि जैसे इंडिया अलायंस ने अपने अस्तित्व को बनाए रखने के लिए हर दूसरे महीने मिलकर बैठने का निर्णय लिया है वैसे ही हमारे नेता भी हर दूसरे महीने दो या तीन दिनों के लिए साथ बैठकर सभी मुद्दों और सभी मोर्चों पर काम को लेकर बातचीत करने का निर्णय लें।

और यह सब निरंतरता के साथ हो।

यदि हम अपनी पहचान, अपने भविष्य, अपनी पीढ़ियों, अपने समाज और इस देश के बेहतर भविष्य के लिए गंभीर हैं तो फिर नियमित, संगठित और निरंतर काम की आवश्यकता होगी।

दो घंटे नहीं, दो दिन।

एक बैठक नहीं, लगातार प्रक्रिया।

और यदि बातचीत के बाद अमल शुरू हो गया तो निश्चित रूप से परिणाम भी सामने आएँगे।

इंशाअल्लाह।

शुक्रिया

वस्सलामु अलैकुम व रहमतुल्लाहि व बरकातुह

सैफुर रहमान
चीफ एडिटर: इंसाफ टाइम्स (हिंदी, उर्दू, इंग्लिश न्यूज़ वेबसाइट)
कन्वीनर: कोगिटो मीडिया फाउंडेशन (सी.एम.एफ.)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے