Ticker

6/recent/ticker-posts

عقلمندی کی باتیں

عقلمندی کی باتیں


عقل کو اس قابل ہونا چاہیے کہ سچائی کو پکڑ سکے جو یونیورسل ہو ، یقینی ہو اور ایسی سچائی جو من وتو کے فرق کو واضح کرے

 جو یہ بتاے کہ
اقتدار کی اخلاقی بنیاد کیا ہے؟
انصاف کسے کہتے ہیں؟
ریاست کی معاشی پالیسیوں میں غربت کے خاتمے کا کیا ٹارگٹ ہے ؟
فرد اور معاشرے کے حقوق کی حد کیا ہے؟
قانون اور اخلاق کا باہمی تعلق کیا ہے؟

جب یہ سوالات پس منظر میں چلے جائیں تو "سطحی ذہانت" غالب آ جاتی ہے۔
 ایسی ذہانت جو تماشبینی پر خوش ہوتی ہے، جو عوامی مقبولیت اور وقتی کامیابی تو دیکھ لیتی ہے، مگر دور رس نتائج، اخلاقی پیچیدگیوں اور انسانی وقار کے سوالات سے غافل رہتی ہے۔
اسی لیے کہا جا سکتا ہے:
"فلسفے کے بغیر سیاست جہاز کے بغیر قطب نما ہے۔ وہ چل تو سکتی ہے، مگر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ جانا کدھر ہے۔"
یا
"جب سیاسی نظریات اپنے فلسفیانہ سرچشموں سے کٹ جاتے ہیں تو مکالمہ تماشبینی نعروں میں، قیادت شخصیت پرستی میں، اور دانش محض چالاکی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسی فضا میں سطحی ذہانت کو روکنا ممکن نہیں رہتا، کیونکہ گہرائی پیدا کرنے والے بنیادی سوالات ہی غائب ہو جاتے ہیں۔"
افلاطون کا خیال تھا کہ ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ برے حکمران نہیں بلکہ وہ معاشرہ ہے جو حکمت اور دانش کے بجائے خطابت اور مقبولیت کو معیار بنا لیتا ہے۔
اس لیے سیاسی شعور کی پختگی صرف سیاسی معلومات سے نہیں بلکہ فلسفیانہ بصیرت سے پیدا ہوتی ہے۔ فلسفہ سیاست کو یہ سکھاتا ہے کہ "کیا ممکن ہے" سے پہلے "کیا درست ہے" کا سوال پوچھا جائے۔
خالد

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے