Ticker

6/recent/ticker-posts

مضمون نگاری کا فن : مضمون نویسی پر بصیرت افروز گفتگو

مضمون نگاری کا فن : مضمون نویسی پر بصیرت افروز گفتگو


مضمون نگار کے اندر قوۃ اخذ اور طاقت عطا ہونی چاہیے"مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی مضمون نویسی پر بصیرت افروز گفتگو!

وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوسرے علمی و تربیتی اجلاس میں قلم و قرطاس کے نامور شہسوار، سیکڑوں علمی و ادبی کتابوں کے مصنف، امارتِ شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے ترجمان و نائب ناظم اور ہفت روزہ نقیب کے مدیرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے مضمون نویسی کے تعلق سے نہایت فکر انگیز، بصیرت افروز اور تجربات سے بھرپور گفتگو فرمائی۔

اپنے خطاب میں آپ نے مضمون نگاری کی اساس اور روح کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی بھی کامیاب مضمون نگار کے لیے سب سے اہم چیز اس کے اندر قوّتِ اخذ، طاقت عطا، وسعتِ مطالعہ اور مواد کا وافر ذخیرہ ہے۔ الفاظ کی خوبصورتی، اسلوب کی دل کشی اور عبارت کی روانی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن تحریر کی اصل جان اس کے علمی مواد اور فکری گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے آپ نے نہایت بلیغ اور سبق آموز مثالیں پیش کیں۔ فرمایا کہ شہد کی مکھی کو دیکھیے؛ وہ مختلف پھولوں سے رس جمع کرتی ہے، پھر اپنے چھتے میں واپس آجاتی ہے۔ اس کے بعد اسے شہد بنانے کے لیے کسی مصنوعی عمل کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ مطلوبہ مواد پہلے ہی اس کے اندر جمع ہوچکا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک مضمون نگار اگر مطالعہ کی وسعت، معلومات کی فراوانی اور موضوع پر گہری نظر حاصل کرلے تو اس کے قلم میں خود بخود معنویت پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر اگر قلم آڑا ترچھا بھی چلے تو اس کے اندر وزن، تاثیر اور معنویت باقی رہتی ہے۔

اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے آپ نے مکڑی کے جالے کی مثال پیش کی۔ فرمایا کہ مکڑی کا جالا اپنی ساخت، ترتیب اور نزاکت کے اعتبار سے حیرت انگیز ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک فطری عمل کارفرما ہوتا ہے۔ مکڑی کے اندر لعاب جمع ہوتا رہتا ہے، اور جب وہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو مکڑی حرکت میں آتی ہے، نتیجتاً ایک حسین اور مربوط جالا وجود میں آجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک لکھنے والے کے ذہن و فکر میں جب مطالعہ، مشاہدہ اور معلومات کا ذخیرہ جمع ہوجاتا ہے تو قلم سے نکلنے والی تحریر بھی حسنِ ترتیب، ربط و تسلسل اور فکری دل کشی کا نمونہ بن جاتی ہے۔

مفتی صاحب نے اس موقع پر عربی و اردو ادب کی ممتاز شخصیت، مایۂ ناز ادیب، صاحبِ طرز قلمکار حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مضمون نویسی سیکھنے کے لیے ڈائری نویسی ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر طلبہ روزانہ اپنے معمولات، مشاہدات اور سرگرمیوں کو قلم بند کرنے کی عادت ڈال لیں تو ایک طرف ان کی زندگی کی ایک قیمتی تاریخ محفوظ ہوتی چلی جائے گی اور دوسری جانب ان کے اندر لکھنے کا سلیقہ، اسلوب کی پختگی اور اظہار کی قوت بھی پیدا ہوگی۔

انہوں نے ماضی کی علمی روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے فروغ سے پہلے خط و کتابت کا رواج عام تھا۔ اولاد اپنے والدین کو، مرید اپنے شیخ کو، اور طلبہ اپنے اساتذہ کو خطوط لکھا کرتے تھے۔ یہی مسلسل تحریری مشق رفتہ رفتہ زبان کی شستگی، بیان کی پختگی اور تحریر کی مہارت کا ذریعہ بنتی تھی۔ آج جب خط نویسی کا رواج کم ہوگیا ہے تو لکھنے کی مشق اور اظہار کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔

اسی نشست میں "بچوں کو مضمون نویسی کیسے سکھائیں؟" کے موضوع پر جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذِ محترم مولانا ابو سفیان سعید ندوی کا محاضرہ بھی نہایت معلومات افزا اور دلچسپ رہا۔ انہوں نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ طلبہ کے اندر مضمون نویسی کا ذوق بیدار کرنے کے لیے آسان اور دل چسپ عنوانات منتخب کیے جائیں، خاکہ سازی اور نکات مرتب کرنے کی عادت ڈالی جائے، اور غلطیوں پر سخت گرفت کے بجائے حوصلہ افزائی، اصلاح اور مثبت رہنمائی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

آج کل طلبہ کے اندر مطالعہ، تحریر اور مضمون نویسی کا ذوق بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارسِ اسلامیہ میں مطالعہ، تحریر اور مضمون نویسی کی روایت کو ازسرِ نو زندہ کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں صرف علم کی حامل نہ ہوں ؛ بلکہ علم کو مؤثر انداز میں پیش کرنے اور اسے تحریر کے قالب میں ڈھالنے کی صلاحیت سے بھی آراستہ ہوں۔

✍️ شمس الدین سراجی قاسمی!
جامعہ سراج العلوم تلاپت گنج (سنگرام) مدھوبنی!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے