پروپیگنڈے کے طوفان میں قومی وحدت کی صدا
از قلم حافظ خلیل احمد سارنگزئی
الحمد للہ! آج فجر کی نماز، تلاوتِ قرآنِ کریم اور معمول کے اذکار سے فراغت کے بعد جب میں نے کافی کا گرم کپ ہاتھ میں لیا تو بلوچستان کے خاموش پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں، صبح کی ٹھنڈی ہوا اور قدرت کے دلکش مناظر دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ پہاڑ اپنی خاموش زبان میں وفاداری، صبر، استقامت اور قربانی کی داستان سنا رہے ہوں۔ یہ وہی سرزمین ہے جس کی مٹی میں ہمارے بزرگوں کی دعائیں، شہداء کا لہو، اور آنے والی نسلوں کی امیدیں محفوظ ہیں۔
اسی سکون کے عالم میں جب اخبارات کی سرخیاں اور سوشل میڈیا کے صفحات نگاہ سے گزرے تو دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہوا۔ احساس ہوا کہ آج جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ ذہنوں، افکار اور قومی شعور پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہ بارود کی جنگ نہیں بلکہ بیانیے، افواہوں اور پروپیگنڈے کی جنگ ہے، جس کا مقصد قوم کے اعتماد کو کمزور کرنا، ریاستی اداروں پر شکوک پیدا کرنا اور عوام کے درمیان انتشار پیدا کرنا ہے۔
اسی لمحے دل نے کہا کہ آج قلم خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اہلِ قلم کی ذمہ داری صرف واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کرنا بھی ہے۔ خاموشی کبھی کبھی الفاظ سے زیادہ نقصان پہنچا دیتی ہے، اور جب وطن کے وقار اور قومی وحدت کو نشانہ بنایا جائے تو قلم ایک امانت بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا اصول عطا فرمایا ہے جو ہر دور کی اطلاعاتی جنگ کا بہترین جواب ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔” (سورۃ الحجرات: 6)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات سے پہلے تحقیق، اور افواہ سے پہلے حقیقت کو دیکھا جائے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہی قرآنی اصول ہماری سب سے بڑی فکری ڈھال ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے:
”حق کو لوگوں سے نہیں پہچانو، بلکہ حق کو پہچانو، پھر اہلِ حق کو پہچان لو۔“
یہی وہ میزان ہے جس پر ہر خبر، ہر دعوے اور ہر بیانیے کو پرکھا جانا چاہیے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
”ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت دی ہے، اگر ہم عزت کسی اور راستے میں تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔“
یہ الفاظ آج بھی ہماری قومی اور اخلاقی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عزت، اتحاد، دیانت اور سچائی ہی قوموں کی اصل طاقت ہیں۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”سچائی دلوں کو جوڑتی ہے اور فتنہ دلوں کو توڑ دیتا ہے۔“
آج جب جھوٹ کو سچ اور افواہ کو خبر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تو ہمیں دلوں کو جوڑنے والا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں، اور بلوچستان بھی ان چیلنجز سے مستثنیٰ نہیں۔ امن، تعلیم، روزگار، انصاف اور ترقی کے میدان میں ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ ان مسائل پر بات ہونی چاہیے، ان کا حل تلاش ہونا چاہیے، اور ریاست، سیاسی قیادت، علماء، دانشوروں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن مسائل کی موجودگی کو بنیاد بنا کر پاکستان یا بلوچستان کے بارے میں غیر مصدقہ دعوے پھیلانا، عوام کے ذہنوں میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی وحدت کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا کسی خیرخواہی کی علامت نہیں۔
ہم اپنے پڑوسی ممالک اور ان کے بعض ذرائع ابلاغ سے صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ اختلاف اپنی جگہ، لیکن جھوٹ، نفسیاتی جنگ اور گمراہ کن اطلاعات کسی خطے میں پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتیں۔ دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت یا ایسے بیانیوں کی ترویج جو نفرت اور بداعتمادی کو فروغ دیں، نہ ذمہ دار صحافت ہے اور نہ ہی اچھی ہمسائیگی کا تقاضا۔
پاکستان ہمارے لیے صرف ایک جغرافیائی نقشہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، تاریخ اور آئینی وحدت کی امانت ہے۔ بلوچستان اس امانت کا مضبوط ستون ہے۔ اس کے پہاڑ پاکستان کی پیشانی ہیں، اس کی وادیاں پاکستان کی سانس ہیں، اس کے عوام پاکستان کی طاقت ہیں، اور اس کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے۔ جو بھی اس رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا، ہم اس کے بیانیے کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ دلیل، تحقیق، اخلاق، آئین اور قومی شعور کی قوت سے دیں گے۔
ہماری پہلی ترجیح امن ہے، کیونکہ اسلام بھی امن کا درس دیتا ہے اور پاکستان کے عوام بھی امن چاہتے ہیں۔ لیکن امن کا مطلب اپنی قومی خودمختاری، وحدت اور آئینی تشخص سے دستبردار ہونا نہیں۔ مضبوط قومیں اشتعال سے نہیں بلکہ حکمت، اتحاد، انصاف اور باہمی اعتماد سے اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں، اختلاف کو انتشار میں تبدیل نہ ہونے دیں، اپنے اداروں کی اصلاح میں مثبت کردار ادا کریں اور اپنے نوجوانوں کو مایوسی کے بجائے امید، علم اور کردار کا راستہ دکھائیں۔ قوموں کو کمزور کرنے کی سب سے بڑی کوشش ان کے ذہنوں میں بداعتمادی پیدا کرنا ہوتی ہے، اور قوموں کی سب سے بڑی طاقت ان کا شعور، ان کا اتحاد اور ان کا باہمی اعتماد ہوتا ہے۔
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، استحکام، عدل، خوشحالی اور دائمی یکجہتی عطا فرمائے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان کو اخوت، محبت اور ترقی کی زنجیر میں ہمیشہ جوڑے رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ پہچاننے کی بصیرت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو نفرت سے محفوظ رکھے، ہمارے قلم کو دیانت عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اختلاف کے باوجود وطن کی سلامتی، امت کی خیرخواہی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان ہماری مشترکہ امانت ہے؛ اس کی وحدت ہماری ذمہ داری، اس کا امن ہماری دعا، اور اس کی ترقی ہماری اجتماعی کوشش ہونی چاہیے۔

0 تبصرے