Ticker

6/recent/ticker-posts

بیٹی رحمت یا زحمت | Beti Rahamat Ya Zehmat

بیٹی رحمت یا زحمت


از قلم: آمینہ یونس ،بلتستانی

بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار عظیم خواتین نے علم، تقویٰ، کردار اور خدمتِ خلق کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بھی ادا کر رہی ہیں۔ ایک بیٹی جب بہن بنتی ہے تو گھر میں محبت بانٹتی ہے، جب بیوی بنتی ہے تو خاندان کی بنیاد مضبوط کرتی ہے اور جب ماں بنتی ہے تو نسلوں کی تربیت و کردار سازی میں اپنا تن، من اور دھن قربان کر دیتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کو انسانیت کے اعلیٰ اوصاف سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ بیٹی تو سراپا رحمت ہے، مگر ہماری کم عقلی اور فرسودہ سوچ اسے زحمت بنانے پر تلی رہتی ہے۔ بیٹی پیدا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، نہ بیٹا پیدا کرنا۔ ہر چیز کا خالق خدائے لم یزل ہے جس نے کائنات میں کسی بھی چیز کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ جن لوگوں کو بیٹی زحمت لگتی ہے، کیا وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر بیٹی نہ ہوتی تو بیٹا کہاں سے آتا؟ اور جو لوگ بیٹی کی پیدائش پر اپنی بیوی سے ناراض ہوتے ہیں، کیا وہ نہیں جانتے کہ اس عمل میں عورت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا؟ جس طرح مرد صرف بیٹا پیدا کرنے پر قادر نہیں، اسی طرح عورت بھی بیٹی پیدا ہونے یا نہ ہونے پر اختیار نہیں رکھتی۔ بیٹی تو رحمتِ خداوندی ہے، تبھی تو حضرت مریمؑ کی والدہ نے اپنے ہونے والے بچے کو اللہ کی راہ میں نذر کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے کے بجائے حضرت مریمؑ جیسی عظیم بیٹی عطا فرمائی۔ بیٹیاں ماں باپ کے دکھ سکھ کو اپنا دکھ سکھ سمجھتی ہیں اور ان پر بوجھ بننے کے بجائے ان کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر بیٹا گھر کا سہارا ہے تو بیٹی گھر کی رونق ہے۔ جس گھر میں بیٹی نہ ہو، وہاں ایک عجیب سی ویرانی محسوس ہوتی ہے۔ اگر بیٹی اس قدر زحمت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کو آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے ذریعے آگے نہ بڑھاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی زحمت نہیں، زحمت تو ہم خود بناتے ہیں۔ شادی جو شریعت کا ایک سادہ حکم ہے، ہم اسے بے جا رسوم و رواج کی نذر کر کے بیٹیوں کو بوجھ بنا دیتے ہیں، حالانکہ دینِ اسلام نہایت آسان اور متوازن زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔ اگر کہیں کوئی لڑکی غلطی کر دے تو پورا معاشرہ شور مچاتا ہے، لیکن جب یہی غلطی لڑکے کرتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ آخر کیوں؟ دونوں کا رب ایک، خالق ایک اور والدین بھی ایک جیسے انسان ہوتے ہیں، پھر یہ امتیاز کیوں؟ ساری بات عقل، شعور اور غور و فکر کی ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ غور و فکر سے حقیقتیں آشکار ہوتی ہیں اور صحیح و غلط میں تمیز پیدا ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ سب علم کی کمی، شعور کی کمی اور قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم بیٹیوں کو ایک خوبصورت تحفہ، گھر کی مسکراہٹ، خاندان کی رونق اور اللہ کی نعمت سمجھنے کے بجائے نفرت کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر بیٹیاں نہ ہوتیں تو کائنات اتنی حیسن نہ ہوتا۔۔؟۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے