ہم برائی کو ناپسند نہیں کرتے ہم برائی پر شرمندگی کو نا پسند کرتے ہیں
مشہور اسکالر احمد جاوید سے سوال کیا گیا کہ شراب پینے والے کو لوگ بہت گنہگار اور برا سمجھتے ہیں اور معاشرہ اسے قبول نہیں کرتا، کسی سے کوئی بدکاریوں کا عمل ہو گیا تو اسے بھی برا سمجھا جاتا ہے بلکہ دو۔۔۔تین شادیاں کر لے تو اسے بھی لوگ اسکینڈیزایز کرتے ہیں لیکن جو مالی بدعنوانیوں کا مرتکب ہو اسے معاشرہ قبول کر لیتا ہے ۔
احمد جاوید کا جواب آنکھیں کھول دیتا ہے فرمایا مالی کرپشن کا ارتکاب کرنے والوں سے لوگ سیکھنے کا سوچتے ہیں اس سے نفرت پیدا نہیں ہوتی کہ اسے استاد بنایا جاے تو کرپشن کی نئی نئی حکمت عملی سیکھنے کو ملے گی۔ اخلاقی کمزوری کے مظاہر ہمارے یہاں انگنت ہیں ان میں مالی کرپشن بھی ایک ہے افسوس یہ کہ مالی کرپشن اس میں سب سے قابل قبول درجہ ہے۔
احمد جاوید نے خوب تجزیہ کیا ہم اچھا معاشرہ بننے میں بھی ناکام ہیں اور ریاست بننے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔
آج عالم یہ ہے کہ کوئی مشہور عالم جو لوگوں کا مقتدیٰ بنا ہوا ہے کوئی متوسط درجہ کا دکھائی دیتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ علما وہ تھے کہ گھر سے منھ دھو کے باہر نکلتے تھے کہ لوگوں کو یہ خبر نہ ہو جاے کہ وہ فاقے سے ہیں ۔
خالد
0 تبصرے