موضوع پیام رمضان عاشر اور روزہ – افسانہ
از شیباحنیف گوجرانوالہ
امی روزہ کب کھلے گا؟ بھوک سے نڈھال سات سالہ عاشر نے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے کوئی ساتویں دفعہ امی سے پوچھا جب کہ ننھے شہزادے کی حالت دیکھ کر امی مسکراتے ہوٸے بولی:”میں نے تو کہا تھا روزہ نا رکھو اب رکھا ہے تو صبر تو کرنا پڑے گا“۔وہ امی کی گود میں سر رکھ کر مسلسل سونے کی کوشش میں تھا مگر امی تھی کہ کبھی صفائیوں میں لگ جاتیں تو کبھی کچن میں جا گھستی جب کہ امی کا بھی روزہ تھا۔آخر تنگ آ کر عاشر نے امی سے کہہ ہی دیا:”امی آپ کو بھوک نہیں لگتی کیا؟ اس نے اپنے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیری اور دل ہی دل میں سوچنے لگا۔میرا پہلا روزہ ہے۔بھوک سے مرا جا رہا ہوں امی تو روز ہی روزے رکھتی ہیں اور دن بھر کام بھی کرتی ہیں۔
” بھوک بھی لگتی ہے اور پیاس بھی لگتی ہے امی اس کے قریب آ بیٹھی اور مٹر کے دانے چھیلنے لگی مگر مجھے تو اپنے اللہ سے پیار ہے اور میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میرا شکر ادا کرو سارا سال میری نعمتیں کھاتے ہوں بس ایک مہنیہ میری خاطر تھوڑا بھوکا پیاسا رہ کر دیکھو“۔ امی نے ایک جذب کے عالم میں سر ہلایا۔
"امی اللہ نے بھوکا پیاسا رہنے کو کیوں کہا؟عاشر نے منہ بنایا جس پہ امی پھر مسکرا دیں تاکہ ہمیں اپنے آس پاس کے بھوکے,پیاسے غریب لوگوں کی تکلیف کا اندازہ ہو سکے امی نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔"دیکھو میں آپ سے پیار کرتی ہوں نا؟ عاشر نے ماں کی بات سن کر ہاں میں گردن ہلائی تو اللہ پاک تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے وہ ہمیں بھوکا پیاسا نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اللہ پاک تو فرماتے ہیں اے میرے بندے میں نے یہ پھل, سبزیاں, مچھلیاں, دالیں مزے مزے کی ڈھیر ساری چیزیں امی نے چٹخارہ بھرا تو عاشر کے منہ میں پانی بھر آیا تیرے لیے ہی بنائی ہیں میں نے تو نہیں کھانی ناں ؟امی نے عاشر کی طرف دیکھا وہ غور سے ماں کی آواز سن رہا تھا "کیا اللہ پاک نے یہ ڈھیر ساری نعمتیں اپنے کھانے کے لیے بنائی ہیں؟امی نے مٹر چھیلتے ہوئے عاشر کے سامنے سوال رکھا۔نہیں عاشر کی گردن نفی میں ہلی اب وہ پوری تندہی سے ماں کی بات سن رہا تھا۔ہم جو سارا سال پھل سبزیاں کھاتے ہیں ناں ان کے ہاضمے کے لیے اللہ پاک نے یہ ایک مہینے کے روزے رکھے ہیں۔ امی نے عاشر کو سمجھانا چاہا جس سے وہ مذید حیرت میں مبتلا ہو گیا۔دیکھو جب آپ کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو ماما کیا کہتی ہے ؟ اب وہ ماں کی گود میں تھا۔”یہی کہ کچھ مت کھاؤ تھوڑی دیر بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گا“۔عاشر کی آنکھیں بند ہوئیں۔
"ہاں جی اسی لیے تھوڑی دیر کی بھوک بہت بڑے فائدے کے لیے ہوتی ہے۔امی نے دیکھا عاشر نیند کی وادی میں جا چکا تھا۔ انہوں نے نرمی سے اپنا گھٹنا عاشر کے سر سے کھسکایا اور چپکے سے کچن میں ہو لی کیوں کہ آج جمعہ شریف بھی تھا اور ان کے لاڈلے بیٹے کا پہلا روزہ تھا خاص اہتمام تو بنتا ہے ناں؟کیوں کہ روزے دار کا اجر تو اللہ نے بھی بہت بڑا رکھا ہے اسی لیے تو اللہ نے فرمایا ہے روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا اور امی بھی اپنے بیٹے کے من پسند چائینز رائس, اور رشین سیلڈ بناتے ہوئے سوچنے لگی:۔۔۔۔۔
0 تبصرے