باتیں سیاست کی
چھوربٹ کی فضا میں پیدا سیاسی تناؤ
از قلم : آمینہ یونس ،بلتستانی
گلگت بلتستان کی سیاست میں بعض علاقے ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ ضلع گانچھے کی تحصیل چھوربٹ بھی انہی علاقوں میں شامل ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاست کا مرکز ہے ۔جہاں وقتاً فوقتاً ایسے رہنما سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے ضلع اور خطے کی سیاست پر اپنا اثرات مرتب کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ حلقہ نمبر دو گانچھے کی سیاست کا ذکر چھوربٹ کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ ماضی میں اس حلقے کی سیاست زیادہ تر چھوربٹ اور خپلو کے درمیان گھومتی رہی۔ کبھی کامیابی کا تاج چھوربٹ کے سر سجتا تو کبھی خپلو کے حصے میں آتا۔ تاہم پانچ سال قبل سیاسی منظرنامے میں ایک غیر متوقع تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب گانچھے کے گاؤں براہ سے حاجی حمید نے انتخابی میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے نہ صرف روایتی سیاسی انداز کو چیلنج کیا بلکہ پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کرکے ثابت کیا کہ سیاست میں عوامی حمایت کسی بھی پرانی سیاسی روایت کو بدل سکتی ہے۔ گزشتہ پانچ برس وہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب جبکہ 2026ء کے انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ پورے گانچھے کی طرح چھوربٹ میں بھی سیاسی سرگرمیوں نے زور پکڑ لیا ۔ اس بار ایک اہم پیش رفت یہ رہی کہ چھوربٹ کے تیرہ چھوٹے بڑے دیہات نے اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد کے ذریعے ایک مشترکہ امیدوار سامنے لانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے مختلف گاؤں کے نمائندوں نے مل کر مشاورت کئے اور ایک ایسے امیدوار کی تلاش شروع ہوئی جو پورے علاقے کی نمائندگی کر سکے۔ یہ کوشش بظاہر امید افزا تھی، کیونکہ عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا تھا کہ اگر چھوربٹ کا نمائندہ منتخب ہوگا تو وہ مقامی مسائل کو بہتر انداز میں حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب علاقے کو اجتماعی سوچ اور سیاسی بصیرت کی ضرورت تھی، اتحادِ چھوربٹ ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن سیاست صرف نعروں اور خواہشات کا نام نہیں بلکہ مفادات، ترجیحات اور طاقت کے توازن کا کھیل بھی ہے۔ اتحادِ چھوربٹ کی بدقسمتی یہ رہی کہ جن افراد کو اس اتحاد کی بنیاد مضبوط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، انہی میں سے بعض عناصر اختلافات کا سبب بن گئے۔ وہ لوگ جو اتحاد، وفاداری اور اجتماعی مفاد کے دعوے کر رہے تھے، عملی میدان میں اسی اتحاد کو کمزور کرنے کا باعث بنے۔ نتیجتاً وہ سیاسی قوت جو پورے علاقے کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر سکتی تھی، بکھراؤ کا شکار ہو گئی۔ اتحاد کے چند مخلص کارکن اور حامی بے بسی سے یہ منظر دیکھتے رہ گئے جبکہ سیاسی حالات تیزی سے بدلتے چلے گئے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ قومیں ہمیشہ بیرونی دباؤ سے نہیں بلکہ اندرونی اختلافات اور باہمی بداعتمادی کے باعث بھی نقصان اٹھاتی ہیں۔ گانچھے کے نسبتاً تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور رکھنے والے علاقے سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اتحاد اور اجتماعی مفاد کی ایک نئی مثال قائم کرے گا، لیکن حالات نے مختلف رخ اختیار کر لیا۔ جو سیاسی موقع علاقے کے ہاتھ آیا تھا، وہ برقرار نہ رہ سکا اور اتحاد اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی کمزور پڑ گیا۔ آج چھوربٹ کی سیاسی فضا ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ ایک جانب آمینہ انصاری، دوسری طرف حاجی انوار، تیسری جانب حاجی حمید اور چوتھی طرف عبدالرحیم اپنی اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ جو لوگ چند ماہ قبل اتحادِ چھوربٹ کے خواب کو حقیقت بنتا دیکھ رہے تھے، وہ اب منتشر سیاسی منظرنامے کو دیکھ کر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اتحاد کی صورت میں جو سیاسی قوت چھوربٹ کے ہاتھ آ سکتی تھی، وہ داخلی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد کی نذر ہو چکی ہے۔ اب علاقے میں سیاسی تجزیے جاری ہیں، امیدواروں کے دورے بڑھ رہے ہیں اور ہر حلقے میں انتخابی بحث گرم ہے، مگر ایک سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر اتحاد برقرار رہتا تو کیا آج سیاسی منظرنامہ کچھ اور نہ ہوتا؟
0 تبصرے