سنڈے کے سنڈے : جدید اردو شاعری
نظم
سنڈے کے سنڈے
کہاں وہ حرف کی تفسیر سے نکلتے ہیں
ہزار معنی جو تحریر سے نکلتے ہیں
اے عشق گردش ـ دوراں انہیں جکڑتی ہے
جو تیرے حلقہ ء زنجیر سے نکلتے ہیں
عجیب بات ہے پہلے وہی پہنچتے ہیں
سفر میں گھر سے جو تاخیر سے نکلتے ہیں
علاج ہو نہیں سکتا پھر ان مریضوں کا
تری دوا کی جو تاثیر سے نکلتے ہیں
بغاوت اس کو کہو مت یہ تجربہ ہے نیا
یہ ہم جو نسخہء اکسیر سے نکلتے ہیں
تمہارے شہر میں کیسی ہوا چلی صاحب
جنہیں بھی دیکھئے دلگیر سے نکلتے ہیں
اے دوست کام کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہاں
زبان سے نہیں شمشیر سے نکلتے ہیں
یہ حجرہ ء دل و جاں بس انہی سے روشن ہے
وہ رنگ جو تری تصویر سے نکلتے ہیں
جو بحر ـ عشق کی گہرائی میں اترتے ہیں
کہاں وہ پھر کسی تدبیر سے نکلتے ہیں
ضرور وہ پلٹ آتے ہیں ایک دن تنویر
یہاں جو حلقہء تنویرِ سے نکلتے ہیں
تنویر سیٹھی ایڈووکیٹ
0 تبصرے