دنیا بھی عجب سرائے ہے صاحب!
ہم سمجھے تھے کہ حقیقت میز، کرسی، دیوار، پہاڑ اور ستاروں کی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک اور دنیا بھی آباد ہے جس کا نہ کوئی وزن ہے نہ پیمانہ۔ وہاں خوف رہتا ہے، امید بستیاں بساتی ہے، یادیں شام ڈھلے لوٹ آتی ہیں اور خوشی کبھی کبھار مہمان بن جاتی ہے۔
یہ نفسیاتی حقیقت ہے۔ اس کے زخم دکھائی نہیں دیتے مگر درد خوب دیتے ہیں۔
اس کے بعد ہم ایک ایسے بازار میں پہنچے جہاں محبت بکتی نہیں، عزت تولی نہیں جاتی، وفاداری کا کوئی ریٹ نہیں لگتا اور مقصد کا کوئی رنگ یا شکل نہیں ہوتی۔ مگر عجیب بات ہے کہ انہی چیزوں کے لیے لوگ اپنی زندگیاں کھپا دیتے ہیں۔ یہ معنوی حقیقت ہے۔
پھر چند اہلِ دانش ملے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب! دو اور دو چار ہوتے ہیں، خواہ دنیا مانے یا نہ مانے۔ مثلث کے زاویے اپنی ضد پر قائم ہیں، منطق اپنے اصولوں پر اڑی بیٹھی ہے۔
یہ عقلی حقیقت ہے، جس کا تعلق نہ موسم سے ہے نہ مزاج سے۔
اور جب ہم نے سمجھا کہ اب سب راز کھل گئے تو کسی درویش نے مسکرا کر پوچھا: "اچھا یہ بتاؤ، خود وجود کیا ہے؟ روح کیا ہے؟ اس سارے ہنگامے کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟"
یہ سن کر ہم خاموش ہو گئے۔ یہاں سے مابعد الطبیعی حقیقت کا سفر شروع ہوتا ہے؛ خدا، روح، وجود اور علتِ اولیٰ کے سوالات کا سفر۔
"صاحب! حقیقت شاید ایک ہی ہے، ہم بس اس کے مختلف کمروں میں گھوم رہے ہیں۔"
خالد
0 تبصرے