تجھ کو ترتیب میں لاتی تجھے یک جا کرتی : غزل اردو شاعری
غزل
تجھ کو ترتیب میں لاتی تجھے یک جا کرتی
تو جو ملتا تو ترے واسطے کیا کیا کرتی
دسترس میں بھی ، کسی کی نہیں آنے دیتی
ساری دنیا سے چھپا کر تجھے دیکھا کرتی
اے کہ سانسوں میں بسے شخص ! یقیں کر میرا
میں ترے ناز اٹھاتی ، تری پوجا کرتی
پہلی خواہش پہ بھی ، تو مجھ کو میسر آیا
دوسری بار بھی تیری ہی تمنا کرتی
تو مجھے توڑنے کا جب بھی ارادہ کرتا
میں ، زمانے ! تری یلغار کو پسپا کرتی
کاش لوٹ آتے کسی طور وہ بیتے ہوئیے دن
پھر ترے نام کے خط خون سے لکھا کرتی
یہ تو ممکن ہی نہ تھا ، تیری رفاقت کے بغیر
زندگی کا یہ سفر ، میں تن-تنہا کرتی
کس قدر رنج سہے تو نے ، کسی کی خاطر
ساتھ ہوتی تو ترے غم کا مداوا کرتی
شہناز کوثر
0 تبصرے